Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #16
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.8K Views
توکل کی اہمیت قراٗن واحادیث کی روشنی میں
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
توکل کی اہمیت قراٗن واحادیث کی روشنی میں
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
بسم اللہ الرحمن الرحیم
توکل کی اہمیت قراٗن واحادیث کی روشنی میں
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، امابعد! توکل عربی زبان کاایک لفظ ہے جس کے معنی سپردکرنے کے ہیں ۔ امام غزالی علیہ الرحمہ نے توکل کی تعریف یہ بیان فرمائی ہے : التوکل عبارۃ عن اعتمادالقلب علی الوکیل وحدہ توکل یہ ہے کہ دل کااعتمادصرف اُس ذات پرہوجوکارسازحقیقی ہے ۔ اللسان میں ہے: اللہ پر توکل یہ ہے کہ متوکل کومعلوم ہوکہ اس کے رزق اور تمام معاملات کاکفیل صرف وہی ہے ۔صرف اسی کی طرف مائل ہو،غیر کے سہارے کامحتاج نہ ہو۔(اللسان ۱۱؍۷۳۴) علامہ ابن رجب فرماتے ہیں : توکل نام ہے دنیاوآخرت کی مصلحتوں کے حصول اور مضرتوں کے دفاع میں اللہ عزوجل پر صدقِ اعتمادکا۔ ۔ (جامع العلوم لابن رجب۴۰۹) اس کی تعریف میں یہ بھی کہاگیاہے :توکل یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کوکامل طورپراللہ کے سپردکردےاور اپنے نفس کواس کے آستانے پرڈال دے،یادرہے کہ کلی طور پر اللہ کے سپردکرنے کامعنی یہ نہیں ہے کہ اسباب وتدابیر کوترک کردیاجائے،کیوں کہ اس کی تعلیم نہ توقرآن نے دی ہے اور نہ ہمارے آقاومولیٰ جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔توکل کی اہمیت قرآن کی روشنی میں :
قرآن میں توکل علی اللہ کاباربارحکم دیاگیاہے اور متوکلین کامقام ومرتبہ بہت ہی بلندوبالابتایاگیاہے۔ارشاد باری ہے: اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ۔(آل عمران:آیت ۱۵۹) ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ توکل رکھنے والوں کوپسندفرماتاہے۔ اس کاذکر قرآن پاک میں متعددمقامات پر مختلف اندازاور پیرایوں میں ہے،اللہ کریم نےاپنے تمام بندوں اوراپنے اُس محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی توکل کاحکم دیاہے جس کانام نامی توریت میں مُتَوَکِّلْہے ۔رب نے فرمایا: تمام معاملات میں اللہ ہی پراعتمادکرو،اس لیے کہ ایک وہی ذات ہے جواعتمادکے لائق ہے ،اس کے سواکوئی سہارانہیں اور وہی تمام امورکوانجام دینے والاہے۔توکل کے بارے میں کچھ اور آیات ملاحظہ فرمائیں: وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔(آل عمران آیت: ۱۲۲) ترجمہ : اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے ۔ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ وَکَفٰی بِاللہِ وَکِیْلًا ۔(ابراہیم :آیت۱۱) ترجمہ :اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے کام بنانے کو ۔(کنزالایمان) وَ تَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِہٖ وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرًا۔(الفرقان:آیت۵۸) ترجمہ : اور بھروسہ کرو اس زندہ پر جو کبھی نہ مرے گااور اسے سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور وہی کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں پر خبردار ۔(کنزالایمان) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۚ۔(الانفال:آیت۲) ترجمہ :ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈرجائیں اور جب اُن پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں ۔ (کنزالایمان) اور متوکلین کے تمام اُموراور ان کی کفایت کی ضمانت لیتے ہوئے ارشادفرماتاہے: جس سے توکل کی ایمیت ثابت ہوتی ہے ۔ وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ اِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ قَدْ جَعَلَ اللہُ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا (الطلاق:آیت۳) ترجمہ :اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو اور جو اللّٰہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے ،بے شک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے ۔(کنزالایمان) توکل کوصحت اسلام کی دلیل قراردیتے ہوئے ارشادفرماتاہے: وَقَالَ مُوْسٰی یٰقَوْمِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنۡتُمْ بِاللہِ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْا اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ۔ (یونس:آیت۴۸) ترجمہ : اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے تو اسی پر بھروسہ کرو اگر اسلام رکھتے ہو ۔(کنزالایمان) ایتائے رزق کوتوکل پرموقوف فرماتے ہوئے ارشادفرماتاہے: وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ۔ (الطلاق:آیت۳) ترجمہ :اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو اور جو اللّٰہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔(کنزالایمان) اور اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ توکل یوںبیان فرماتا ہے: اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ۔(التوبۃ:آیت۴۰) ترجمہ :جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھابے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔ (کنزالایمان) یہ اس وقت کاواقعہ ہے جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے یارغارحضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے وقت غارثور میں آرام فرماتھےاور کفارغارکے دہانے پرکھڑے تھے اور حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہہ رہے تھے:اگر قریش کاکوئی ایک آدمی بھی اپناپیراٹھاکردیکھے توہمیں دیکھ لے گا۔یہ سن کرسیدالمتوکلین نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:اے ابوبکر!ان دونوں کے بارے میں تمھاراکیاخیال ہے جن کے ساتھ تیسرااللہ تعالیٰ ہے ۔اسی اعتمادوبھروسہ کانام توکل ہے ۔توکل کی اہمیت احادیث کریمہ کی روشنی میں
اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اُمت مسلمہ کوتوکل کی جوتعلیم دی ہے اس میں ہمیں ان خرافات کاردبلیغ ملتاہے جوعام لوگوں کے ذہنوں میں بھردیے گئے ہیں کہ توکل نام ہے اسباب وتدابیراختیارنہ کرنے اور کسی کام مثلاحصول رزق وغیرہ کے لیے جدوجہدکوترک کردینے کا،یعنی چپ چاپ ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھ رہاجائے اور یہ خوش گمانی پال لی جائے جوکچھ کرناہے اللہ کرے گایاتقدیرمیں جوکچھ لکھاہوگاوہ مل کررہے گا ۔ لیکن توکل کایہ معنی مراد لینا سراسراعتقادفاسداورزعم باطل ہے ۔ ہمارے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں توکل کامفہوم یہ سمجھایاہے کہ عندالضرورت طاقت وصلاحیت کو انسانی وسعت کی آخری حد تک بروئے کار لایا جائے۔ اس کے باوجود انسانی کوشش میں جو کمی یا نقص رہ جائے اسے خدائے تعالیٰ کے سپرد کردیا جائے اور یقین رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت بالغہ سے خود اسے پورا فرمادے گا۔ اس کی عملی تشریح امام المتوکلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زندگی میں نظر آتی ہے۔ ایک واقعہ مرفوعاً حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور دریافت کیا یارسول اللہ! کیا میں اونٹنی کو باندھ دوں پھر توکل کروں یا چھوڑ کر؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے باندھ کر توکل کرو۔(ترمذی:۲۵۱۷) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک جگہ اسباب وتدابیر اختیار کرنے اور رزق کے حصول میں جد وجہد کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ انسان کے لیے بہترین توشہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھائے اور حضرت داؤد علیہ السلام خود اپنے ہاتھ کی کمائی یعنی محنت ومشقت کرکے کھاتے تھے۔ (صحیح بخاری ۴؍ ۳۰۳)توکل کی اہمیت
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ’’اگر تم اللہ پر کما حقہ توکل کرتے تو وہ تم کو ایسے رزق دیتا جیسا کہ پرندوں کودیتاہے، جو صبح خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کو شکم سیر واپس ہوتے ہیں۔ اس حدیث میں بھی اسباب ووسائل اختیار کرنے کی ترغیب ’’تغدوا خماصا وتروح بطاناً‘‘ سے ظاہر ہے کہ پرندہ صبح کو جب اپنے گھونسلہ سے نکلتا ہے تو اسے اپنے رب پر یقین کامل ہوتا ہے کہ میری کوششوں کے بعد اللہ عزوجل جو سب کا رازق ہے مجھے ضرور رزق عطا فرمائے گا۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب وعذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ پوچھا گیا یارسول اللہ! وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ نے فرمایا ’’جو آگ سے نہیں دغواتے، جھاڑ پھونک نہیں کرواتے، بدفالی نہیں لیتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (احمد ۴؍ مسلم، ص:۳۲۱) صاحب مشکوٰۃ نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے توکل علی اللہ پر ایک حدیث بروایت حضرت جابر ذکر کیا ہے جس سے ہمیں انتہائی درجہ کا درس توکل ملتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نجد کی طرف غزوۂ ذاتُ الرقاع سے واپس تشریف لارہے تھے کہ ایک وادی میں دوپہر کے وقت قیلولہ کے لیے اترے، جس کو جہاں جگہ ملی آرام کرنے لگا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی ایک ببول کے درخت کے نیچے آرام فرما ہوئے اور اپنی تلوار اس درخت پر لٹکادی، جب سب لوگ سو گئے تو بے خبری میں موقع کو غنیمت جان کر ایک مشرک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس آیا اور درخت سے تلوار اٹھا کر آپ کے پاس کھڑا ہوگیا، اتنے میں آپ کی آنکھ کھل گئی، اس کافر نے بڑے تکبر سے کہا، اے محمد! آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟‘‘ آپ نے بڑے اطمینان سے جواب دیا ’’میرا اللہ‘‘ اتنا کہتے ہی تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تلوار اٹھا کر فرمایا:اب تجھے مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟اس نے کہا کوئی نہیں، آپ کریم ابن کریم ہیں مجھے معاف فرمادیں، آپ نے اسے معاف کردیا اور اس کی جان بخش دی۔(مشکوٰۃص:۴۵۳)توکل کی اہمیت
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت کے ستر ہزار افراد بے حساب جنت میں جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔ (مشکوٰہ ص:۴۵۳) رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو توکل علی اللہ کی جو تعلیم دی، وہی توکل کی روح اور شان ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا آپ نے فرمایا: ’’تم اللہ کے حقوق کی حفاظت کرو اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا‘‘ (یعنی دنیا وآخرت کی تکلیف سے بچائے گا) تم اللہ کے حقوق کی حفاظت کروگے تو تم اللہ کو سامنے پاؤ گے ۔ جب سوال کروتو صرف اللہ سے سوال کرو، جب مدد چاہو تو صرف اسی سے مدد مانگو ۔ اور سنو! اگر پوری امت تم کو فائدہ پہنچانے پر آمادہ ہوجائے تب بھی اتنا ہی فائدہ اور نفع پہنچا سکتی ہے جتنا اللہ نے تمہارے لیے مقدر کر رکھا ہے اور اگر تمام لوگ تمھیں نقصان پہنچانے پر آمادہ ہوجائیں، تب بھی اتنا ہی پہنچا سکتے ہیں، جتنا اللہ نے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے، قضا اور قدر کا فیصلہ ہوچکا ہے، اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی ۔(مشکوۃ:۴۵۳) علاوہ ازیں توکل کے حوالے سے احادیث طیبات، اقوال وآثار اور بزرگان دین کے واقعات ہمیں کتابوں میں مل سکتے ہیں ۔ لیکن ’’وَ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ‘‘ترجمہ: جو اللہ عزوجل پر توکل کرے وہ اسے کافی ہوگا۔ (الطلاق:آیت۳) یہ توکل علی اللہ کی ایسی بہترین مثال ہے جس کی نظیر کہیں اور کسی تاریخ میں نہیں مل سکتی کہ یہ ایسا عمل ہے جو تمام مصائب وآلام سے نجات عطا فرمانے والا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں توکل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔ ان تمام قراٗن و احادیث کی روشنی میں توکل کی اہمیت واضح ہوتی ہے ۔ توکل کی ایمیت حضور نے صحابہ کرام کو سکھایا ہے ۔ توکل کی اہمیت پر لکھنے والے مصنف امام ابن ابی الدنا کی سوانحمضمون نگار : مولانا اظہر علی علیمی
Kutubahu & Verified by:
<strong>بسم اللہ الرحمن الرحیم</strong> <h2>توکل کی اہمیت قراٗن واحادیث کی روشنی میں</h2> نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم، امابعد! <strong>توکل</strong> عربی زبان کاایک لفظ ہے جس کے معنی سپردکرنے کے ہیں ۔ امام غزالی علیہ الرحمہ نے توکل کی تعریف یہ بیان فرمائی ہے : التوکل عبارۃ عن اعتمادالقلب علی الوکیل وحدہ توکل یہ ہے کہ دل کااعتمادصرف اُس ذات پرہوجوکارسازحقیقی ہے ۔ اللسان میں ہے: اللہ پر توکل یہ ہے کہ متوکل کومعلوم ہوکہ اس کے رزق اور تمام معاملات کاکفیل صرف وہی ہے ۔صرف اسی کی طرف مائل ہو،غیر کے سہارے کامحتاج نہ ہو۔(اللسان ۱۱؍۷۳۴) علامہ ابن رجب فرماتے ہیں : توکل نام ہے دنیاوآخرت کی مصلحتوں کے حصول اور مضرتوں کے دفاع میں اللہ عزوجل پر صدقِ اعتمادکا۔ ۔ (جامع العلوم لابن رجب۴۰۹) اس کی تعریف میں یہ بھی کہاگیاہے :توکل یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کوکامل طورپراللہ کے سپردکردےاور اپنے نفس کواس کے آستانے پرڈال دے،یادرہے کہ کلی طور پر اللہ کے سپردکرنے کامعنی یہ نہیں ہے کہ اسباب وتدابیر کوترک کردیاجائے،کیوں کہ اس کی تعلیم نہ توقرآن نے دی ہے اور نہ ہمارے آقاومولیٰ جناب محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ <h3 style="text-align: center;"> توکل کی اہمیت قرآن کی روشنی میں :</h3> قرآن میں توکل علی اللہ کاباربارحکم دیاگیاہے اور متوکلین کامقام ومرتبہ بہت ہی بلندوبالابتایاگیاہے۔ارشاد باری ہے: اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ۔(آل عمران:آیت ۱۵۹) ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ توکل رکھنے والوں کوپسندفرماتاہے۔ اس کاذکر قرآن پاک میں متعددمقامات پر مختلف اندازاور پیرایوں میں ہے،اللہ کریم نےاپنے تمام بندوں اوراپنے اُس محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی توکل کاحکم دیاہے جس کانام نامی توریت میں مُتَوَکِّلْہے ۔رب نے فرمایا: تمام معاملات میں اللہ ہی پراعتمادکرو،اس لیے کہ ایک وہی ذات ہے جواعتمادکے لائق ہے ،اس کے سواکوئی سہارانہیں اور وہی تمام امورکوانجام دینے والاہے۔توکل کے بارے میں کچھ اور آیات ملاحظہ فرمائیں: وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔(آل عمران آیت: ۱۲۲) ترجمہ : اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے ۔ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ وَکَفٰی بِاللہِ وَکِیْلًا ۔(ابراہیم :آیت۱۱) ترجمہ :اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے کام بنانے کو ۔(کنزالایمان) وَ تَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِہٖ وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرًا۔(الفرقان:آیت۵۸) ترجمہ : اور بھروسہ کرو اس زندہ پر جو کبھی نہ مرے گااور اسے سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور وہی کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں پر خبردار ۔(کنزالایمان) اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ وَ اِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۚ۔(الانفال:آیت۲) ترجمہ :ایمان والے وہی ہیں کہ جب اللہ یاد کیا جائے ان کے دل ڈرجائیں اور جب اُن پر اس کی آیتیں پڑھی جائیں ان کا ایمان ترقی پائے اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کریں ۔ (کنزالایمان) اور متوکلین کے تمام اُموراور ان کی کفایت کی ضمانت لیتے ہوئے ارشادفرماتاہے: جس سے توکل کی ایمیت ثابت ہوتی ہے ۔ وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ اِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ قَدْ جَعَلَ اللہُ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا (الطلاق:آیت۳) ترجمہ :اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو اور جو اللّٰہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے ،بے شک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے ۔(کنزالایمان) توکل کوصحت اسلام کی دلیل قراردیتے ہوئے ارشادفرماتاہے: وَقَالَ مُوْسٰی یٰقَوْمِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنۡتُمْ بِاللہِ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْا اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ۔ (یونس:آیت۴۸) ترجمہ : اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان لائے تو اسی پر بھروسہ کرو اگر اسلام رکھتے ہو ۔(کنزالایمان) ایتائے رزق کوتوکل پرموقوف فرماتے ہوئے ارشادفرماتاہے: وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ وَ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ۔ (الطلاق:آیت۳) ترجمہ :اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو اور جو اللّٰہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے۔(کنزالایمان) اور اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شانِ توکل یوںبیان فرماتا ہے: اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا ۔(التوبۃ:آیت۴۰) ترجمہ :جب اپنے یار سے فرماتے تھے غم نہ کھابے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔ (کنزالایمان) یہ اس وقت کاواقعہ ہے جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے یارغارحضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے وقت غارثور میں آرام فرماتھےاور کفارغارکے دہانے پرکھڑے تھے اور حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہہ رہے تھے:اگر قریش کاکوئی ایک آدمی بھی اپناپیراٹھاکردیکھے توہمیں دیکھ لے گا۔یہ سن کرسیدالمتوکلین نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:اے ابوبکر!ان دونوں کے بارے میں تمھاراکیاخیال ہے جن کے ساتھ تیسرااللہ تعالیٰ ہے ۔اسی اعتمادوبھروسہ کانام توکل ہے ۔ <h3 style="text-align: center;"> توکل کی اہمیت احادیث کریمہ کی روشنی میں</h3> اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اُمت مسلمہ کوتوکل کی جوتعلیم دی ہے اس میں ہمیں ان خرافات کاردبلیغ ملتاہے جوعام لوگوں کے ذہنوں میں بھردیے گئے ہیں کہ توکل نام ہے اسباب وتدابیراختیارنہ کرنے اور کسی کام مثلاحصول رزق وغیرہ کے لیے جدوجہدکوترک کردینے کا،یعنی چپ چاپ ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھ رہاجائے اور یہ خوش گمانی پال لی جائے جوکچھ کرناہے اللہ کرے گایاتقدیرمیں جوکچھ لکھاہوگاوہ مل کررہے گا ۔ لیکن توکل کایہ معنی مراد لینا سراسراعتقادفاسداورزعم باطل ہے ۔ ہمارے آقاصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں توکل کامفہوم یہ سمجھایاہے کہ عندالضرورت طاقت وصلاحیت کو انسانی وسعت کی آخری حد تک بروئے کار لایا جائے۔ اس کے باوجود انسانی کوشش میں جو کمی یا نقص رہ جائے اسے خدائے تعالیٰ کے سپرد کردیا جائے اور یقین رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت بالغہ سے خود اسے پورا فرمادے گا۔ اس کی عملی تشریح امام المتوکلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زندگی میں نظر آتی ہے۔ ایک واقعہ مرفوعاً حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور دریافت کیا یارسول اللہ! کیا میں اونٹنی کو باندھ دوں پھر توکل کروں یا چھوڑ کر؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے باندھ کر توکل کرو۔(ترمذی:۲۵۱۷) حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک جگہ اسباب وتدابیر اختیار کرنے اور رزق کے حصول میں جد وجہد کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ انسان کے لیے بہترین توشہ یہ ہے کہ وہ اپنے ہاتھ کی کمائی کھائے اور حضرت داؤد علیہ السلام خود اپنے ہاتھ کی کمائی یعنی محنت ومشقت کرکے کھاتے تھے۔ (صحیح بخاری ۴؍ ۳۰۳) <h3 style="text-align: center;">توکل کی اہمیت</h3> حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ’’اگر تم اللہ پر کما حقہ توکل کرتے تو وہ تم کو ایسے رزق دیتا جیسا کہ پرندوں کودیتاہے، جو صبح خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کو شکم سیر واپس ہوتے ہیں۔ اس حدیث میں بھی اسباب ووسائل اختیار کرنے کی ترغیب ’’تغدوا خماصا وتروح بطاناً‘‘ سے ظاہر ہے کہ پرندہ صبح کو جب اپنے گھونسلہ سے نکلتا ہے تو اسے اپنے رب پر یقین کامل ہوتا ہے کہ میری کوششوں کے بعد اللہ عزوجل جو سب کا رازق ہے مجھے ضرور رزق عطا فرمائے گا۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب وعذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔‘‘ پوچھا گیا یارسول اللہ! وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ نے فرمایا ’’جو آگ سے نہیں دغواتے، جھاڑ پھونک نہیں کرواتے، بدفالی نہیں لیتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (احمد ۴؍ مسلم، ص:۳۲۱) صاحب مشکوٰۃ نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے توکل علی اللہ پر ایک حدیث بروایت حضرت جابر ذکر کیا ہے جس سے ہمیں انتہائی درجہ کا درس توکل ملتا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نجد کی طرف غزوۂ ذاتُ الرقاع سے واپس تشریف لارہے تھے کہ ایک وادی میں دوپہر کے وقت قیلولہ کے لیے اترے، جس کو جہاں جگہ ملی آرام کرنے لگا، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بھی ایک ببول کے درخت کے نیچے آرام فرما ہوئے اور اپنی تلوار اس درخت پر لٹکادی، جب سب لوگ سو گئے تو بے خبری میں موقع کو غنیمت جان کر ایک مشرک آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس آیا اور درخت سے تلوار اٹھا کر آپ کے پاس کھڑا ہوگیا، اتنے میں آپ کی آنکھ کھل گئی، اس کافر نے بڑے تکبر سے کہا، اے محمد! آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟‘‘ آپ نے بڑے اطمینان سے جواب دیا ’’میرا اللہ‘‘ اتنا کہتے ہی تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تلوار اٹھا کر فرمایا:اب تجھے مجھ سے کون بچا سکتا ہے؟اس نے کہا کوئی نہیں، آپ کریم ابن کریم ہیں مجھے معاف فرمادیں، آپ نے اسے معاف کردیا اور اس کی جان بخش دی۔(مشکوٰۃص:۴۵۳) <h3 style="text-align: center;">توکل کی اہمیت</h3> حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: میری اُمت کے ستر ہزار افراد بے حساب جنت میں جائیں گے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔ (مشکوٰہ ص:۴۵۳) رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو توکل علی اللہ کی جو تعلیم دی، وہی توکل کی روح اور شان ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا آپ نے فرمایا: ’’تم اللہ کے حقوق کی حفاظت کرو اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا‘‘ (یعنی دنیا وآخرت کی تکلیف سے بچائے گا) تم اللہ کے حقوق کی حفاظت کروگے تو تم اللہ کو سامنے پاؤ گے ۔ جب سوال کروتو صرف اللہ سے سوال کرو، جب مدد چاہو تو صرف اسی سے مدد مانگو ۔ اور سنو! اگر پوری امت تم کو فائدہ پہنچانے پر آمادہ ہوجائے تب بھی اتنا ہی فائدہ اور نفع پہنچا سکتی ہے جتنا اللہ نے تمہارے لیے مقدر کر رکھا ہے اور اگر تمام لوگ تمھیں نقصان پہنچانے پر آمادہ ہوجائیں، تب بھی اتنا ہی پہنچا سکتے ہیں، جتنا اللہ نے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہوگئے، قضا اور قدر کا فیصلہ ہوچکا ہے، اس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی ۔(مشکوۃ:۴۵۳) علاوہ ازیں توکل کے حوالے سے احادیث طیبات، اقوال وآثار اور بزرگان دین کے واقعات ہمیں کتابوں میں مل سکتے ہیں ۔ لیکن ’’وَ مَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ‘‘ترجمہ: جو اللہ عزوجل پر توکل کرے وہ اسے کافی ہوگا۔ (الطلاق:آیت۳) یہ توکل علی اللہ کی ایسی بہترین مثال ہے جس کی نظیر کہیں اور کسی تاریخ میں نہیں مل سکتی کہ یہ ایسا عمل ہے جو تمام مصائب وآلام سے نجات عطا فرمانے والا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں توکل کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔ ان تمام قراٗن و احادیث کی روشنی میں توکل کی اہمیت واضح ہوتی ہے ۔ توکل کی ایمیت حضور نے صحابہ کرام کو سکھایا ہے ۔ <a href="https://urdu.masailworld.com/%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d8%a8%d9%86-%d8%a7%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d9%84%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%ad%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d9%88-%d8%ae%d8%af%d9%85%d8%a7%d8%aa/">توکل کی اہمیت پر لکھنے والے مصنف امام ابن ابی الدنا کی سوانح</a> <p style="text-align: center;"><strong>مضمون نگار : مولانا اظہر علی علیمی</strong></p>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...