Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #327 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.2K Views

شرمگاہ میں انگلی داخل کرنے سے غسل و وضو واجب نہیں

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شرمگاہ میں انگلی داخل کرنے سے غسل و وضو واجب نہیں

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شرمگاہ میں انگلی داخل کرنے سے غسل و وضو واجب نہیں

السلام علیکم ورحمۃاللہ

جب حاملہ عورت کی سونوگرافی ہوتی ہے تو میڈم انٹرنل چیک اپ کرتی ہے تو کیا اس سے غسل کرنا ہوگا بینوا توجروا۔

سائل:حافظ توحید عالم اشرفی عشقی

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب:

سونوگرافی میں طبی آلہ سے اوپری ظاہری بدن کا معائنہ کیا جاتا ہے اور انٹرنل معائنہ میں عورت کی شرمگاہ میں انگلی داخل کی جاتی ہے۔

ان دونوں معائنہ میں نہ ہی غسل واجب ہوگا اور نہ ہی وضو ، کہ موجبات غسل سے کوئی موجب اور نواقض وضو سے کوئی ناقض نہ پایا گیا۔

در مختار میں ہے “ولا ﻋﻨﺪ ﺇﺩﺧﺎﻝ ﺇﺻﺒﻊ ﻭﻧﺤﻮﻩ ﻛﺬﻛﺮ ﻏﻴﺮ ﺁﺩﻣﻲ ﻭﺫﻛﺮ ﺧﻨﺜﻰ ﻭﻣﻴﺖ ﻭﺻﺒﻲ ﻻ ﻳﺸﺘﻬﻲ ﻭﻣﺎ ﻳﺼﻨﻊ ﻣﻦ ﻧﺤﻮ ﺧﺸﺐ ﻓﻲ اﻟﺪﺑﺮ ﺃﻭ اﻟﻘﺒﻞ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ” (ردالمحتار ،ج١، ص٣٣٥)۔

بہار شریعت میں ہے “عورت نے اپنی فرج میں انگلی یا جانور یا مردے کا ذَکر یا کوئی چیز ربڑ یا مٹی وغیرہ کی مثلِ ذَکر کے بنا کر داخل کی تو جب تک اِنزال نہ ہو غُسل واجب نہیں اھ”(ج٢، ص٣٢٣)۔

و اللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری

١٣جولائی٢٠١٩

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">شرمگاہ میں انگلی داخل کرنے سے غسل و وضو واجب نہیں</h2> <p style="direction: rtl;">السلام علیکم ورحمۃاللہ</p> <p style="direction: rtl;">جب حاملہ عورت کی سونوگرافی ہوتی ہے تو میڈم <strong>انٹرنل چیک اپ</strong> کرتی ہے تو کیا اس سے غسل کرنا ہوگا بینوا توجروا۔</p> <p style="direction: rtl;">سائل:حافظ توحید عالم اشرفی عشقی</p> <p style="direction: rtl;">وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ</p> <p style="direction: rtl;"><em><strong>الجواب بعون الملک الوہاب:</strong></em></p> <p style="direction: rtl;">سونوگرافی میں طبی آلہ سے اوپری ظاہری بدن کا معائنہ کیا جاتا ہے اور انٹرنل معائنہ میں عورت کی شرمگاہ میں انگلی داخل کی جاتی ہے۔</p> <p style="direction: rtl;">ان دونوں معائنہ میں نہ ہی غسل واجب ہوگا اور نہ ہی وضو ، کہ موجبات غسل سے کوئی موجب اور نواقض وضو سے کوئی ناقض نہ پایا گیا۔</p> <p style="direction: rtl;">در مختار میں ہے "ولا ﻋﻨﺪ ﺇﺩﺧﺎﻝ ﺇﺻﺒﻊ ﻭﻧﺤﻮﻩ ﻛﺬﻛﺮ ﻏﻴﺮ ﺁﺩﻣﻲ ﻭﺫﻛﺮ ﺧﻨﺜﻰ ﻭﻣﻴﺖ ﻭﺻﺒﻲ ﻻ ﻳﺸﺘﻬﻲ ﻭﻣﺎ ﻳﺼﻨﻊ ﻣﻦ ﻧﺤﻮ ﺧﺸﺐ ﻓﻲ اﻟﺪﺑﺮ ﺃﻭ اﻟﻘﺒﻞ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺨﺘﺎﺭ" (ردالمحتار ،ج١، ص٣٣٥)۔</p> <p style="direction: rtl;">بہار شریعت میں ہے "عورت نے اپنی فرج میں انگلی یا جانور یا مردے کا ذَکر یا کوئی چیز ربڑ یا مٹی وغیرہ کی مثلِ ذَکر کے بنا کر داخل کی تو جب تک اِنزال نہ ہو غُسل واجب نہیں اھ"(ج٢، ص٣٢٣)۔</p> <p style="direction: rtl;">و اللہ تعالی اعلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>١٣جولائی٢٠١٩</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...