کمیشن ایجنٹ کا کام اور اس کی اجرت کی شرعی حیثیت
سوال (Question):
پراپرٹی ڈیلر یا کمیشن ایجنٹ بن کر دو پارٹیوں کے درمیان سودا کروا کر اپنا کمیشن لینا جائز ہے؟
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جی ہاں، کمیشن ایجنٹ یا بروکر کا کام شریعت میں ‘دلالت’ (دلالی) کہلاتا ہے۔ اگر وہ فریقین کو کوئی دھوکہ نہ دے اور سودا طے کرانے کی پہلے سے ایک مقررہ فیس یا فیصد (Percentage) طے کر لے تو اس کی یہ محنت اور اس پر ملنے والا کمیشن بالکل حلال ہے۔ واللہ اعلم۔