Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

بدن یا کپڑے پر نجاست غلیظہ لگنے کا حکم

بدن یا کپڑے پر نجاست غلیظہ لگنے کا حکم
Reference 337 September 18, 2025 12,724 views
اصل سوالبدن یا کپڑے پر نجاست غلیظہ لگنے کا حکم

بدن یا کپڑے پر نجاست غلیظہ لگنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ

اگر کپڑے یا جسم پر ایک درہم سے کم پیشاب لگ جائے تو کیا وہ کپڑا یا جسم پاک ہی رہے گا یا ناپاک ہو جاے گا اور اگر ناپاک ہو گیا تو کیا پاک کئے بغیر نماز ہو جائے گی۔

سائل:وقاص احمد

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب۔

وہ کپڑا یا جسم پاک ہی رہے گا ناپاک نہ ہوگا مگر اس کا دھلنا سنت ہے اگر بغیر دھلے نماز پڑھی تو ہوجاے گی مگر خلاف سنت ہوگی اس کا دوبارہ پڑھنا بہتر ہے۔

ہدایہ میں ہے “و ﻗﺪﺭ اﻟﺪﺭﻫﻢ ﻭﻣﺎ ﺩﻭﻧﻪ ﻣﻦ اﻟﻨﺠﺲ اﻟﻤﻐﻠﻆ ﻛﺎﻟﺪﻡ ﻭاﻟﺒﻮﻝ ﻭاﻟﺨﻤﺮ ﻭﺧﺮء اﻟﺪﺟﺎﺝ ﻭﺑﻮﻝ اﻟﺤﻤﺎﺭ ﺟﺎﺯﺕ اﻟﺼﻼﺓ ﻣﻌﻪ ﻭﺇﻥ ﺯاﺩ ﻟﻢ ﺗﺠﺰ”(ہدایہ،ج١، ص٣٧، ش)۔

بہار شریعت میں ہے

“نجاستِ غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زِیادہ لگ جائے تو اس کا پاک کرنا فرض ہے بے پاک کیے نماز پڑھ لی تو ہو گی ہی نہیں اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا اور اگر بہ نیتِ اِستِخفاف ہے تو کفر ہوا اور اگر درہم کے برابر ہے تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کیے نماز پڑھی تو مکروہ ِتحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اِعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھی تو گنہگار بھی ہوا اور اگر درہم سے کم ہے تو پاک کرنا سنّت ہے کہ بے پاک کیے نماز ہوگئی مگر خلافِ سنّت ہوئی اور اس کا اِعادہ بہتر ہے”(ج٢، ص٣٨٩)۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری

٢١فروری٢٠١٩

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.