مرنے کے بعد آنکھوں کا عطیہ (Eye Donation)
سوال (Question):
کیا مرنے سے پہلے وصیت کی جا سکتی ہے کہ میری آنکھیں کسی نابینا کو عطیہ کر دی جائیں؟
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
پاک و ہند کے جمہور مفتیانِ کرام (احناف) کے نزدیک انسان اپنے جسم کا مالک نہیں ہے، اس لیے جسمانی اعضاء (جیسے آنکھیں یا گردے) کا عطیہ کرنا انسانیت کی توہین اور ناجائز ہے، اور ایسی وصیت پر عمل کرنا باطل ہے۔ عرب علماء اسے مخصوص حالات میں جائز کہتے ہیں، مگر احتیاط ناجائز ہونے میں ہے۔ واللہ اعلم۔