Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #341 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.3K Views

پسینہ سے ناپاک کپڑا بھیگ جاے تو وہ کپڑا ناپاک ہوگا یا نہیں

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

پسینہ سے ناپاک کپڑا بھیگ جاے تو وہ کپڑا ناپاک ہوگا یا نہیں

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

پسینہ سے ناپاک کپڑا تر ہوجاے اور وہ تری بدن پر لگے تو ناپاک ہے

السلام علیکم و رحمت اللہ

کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی انسان کو قطرہ آے اور وہ شخص جس کپڑے پر قطرہ لگا ہےاس کپڑے کو پہنے رہے یہاں تک کہ اس کو اس کپڑے میں پسینہ آجائے تو کیا وہ شخص ناپاک ہوگا یا نہیں تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔

عین نوازش ہوگی۔

سائل: محمد رضا

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب۔

جس انسان کو قطرات آے اور بدن یا کپڑے کے کسی حصہ پر ایک درہم سے زائد لگے تو وہ حصہ ناپاک ہے اس کا دھلنا فرض ہے۔

کپڑے کے جس حصہ پر قطرات لگے وہ حصہ پسینہ سے بھیگ گیا اور پھر اس سے بدن تر ہو گیا تو ناپاک ہوگیا ورنہ نہیں۔

فتاوی ہندیہ میں ہے “اذا ﻧﺎﻡ اﻟﺮﺟﻞ ﻋﻠﻰ ﻓﺮاﺵ ﻓﺄﺻﺎﺑﻪ ﻣﻨﻲ ﻭﻳﺒﺲ ﻓﻌﺮﻕ اﻟﺮﺟﻞ ﻭاﺑﺘﻞ اﻟﻔﺮاﺵ ﻣﻦ ﻋﺮﻗﻪ ﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻈﻬﺮ ﺃﺛﺮ اﻟﺒﻠﻞ ﻓﻲ ﺑﺪﻧﻪ ﻻ ﻳﺘﻨﺠﺲ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ اﻟﻌﺮﻕ ﻛﺜﻴﺮا ﺣﺘﻰ اﺑﺘﻞ اﻟﻔﺮاﺵ ﺛﻢ ﺃﺻﺎﺏ ﺑﻠﻞ اﻟﻔﺮاﺵ ﺟﺴﺪﻩ ﻓﻈﻬﺮ ﺃﺛﺮﻩ ﻓﻲ ﺟﺴﺪﻩ ﻳﺘﻨﺠﺲ ﺑﺪﻧﻪ ﻛﺬا ﻓﻲ ﻓﺘﺎﻭﻯ ﻗﺎﺿﻲ ﺧﺎﻥ” (ج١،ص٤٧)۔

بہار شریعت میں ہے “نجس کپڑا پہن کر یا نجس بچھونے پر سویا اور پسینہ آیا اگر پسینہ سے وہ ناپاک جگہ بھیگ گئی پھر اُس سے بدن تر ہو گیا تو ناپاک ہو گیا ورنہ نہیں”(ح٢،ص٣٩٤)۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری

١٦جولائی٢٠١٩

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">پسینہ سے ناپاک کپڑا تر ہوجاے اور وہ تری بدن پر لگے تو ناپاک ہے</h2> <p style="direction: rtl;">السلام علیکم و رحمت اللہ</p> <p style="direction: rtl;">کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی انسان کو قطرہ آے اور وہ شخص<strong> جس کپڑے پر قطرہ لگا ہےاس کپڑے کو پہنے رہے یہاں تک کہ اس کو اس کپڑے میں پسینہ آجائے</strong> تو کیا وہ شخص ناپاک ہوگا یا نہیں تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔</p> <p style="direction: rtl;">عین نوازش ہوگی۔</p> <p style="direction: rtl;">سائل: محمد رضا</p> <p style="direction: rtl;">وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ</p> <p style="direction: rtl;"><em><strong>الجواب بعون الملک الوہاب۔</strong></em></p> <p style="direction: rtl;">جس انسان کو قطرات آے اور بدن یا کپڑے کے کسی حصہ پر ایک درہم سے زائد لگے تو وہ حصہ ناپاک ہے اس کا دھلنا فرض ہے۔</p> <p style="direction: rtl;">کپڑے کے جس حصہ پر قطرات لگے وہ حصہ پسینہ سے بھیگ گیا اور پھر اس سے بدن تر ہو گیا تو ناپاک ہوگیا ورنہ نہیں۔</p> <p style="direction: rtl;">فتاوی ہندیہ میں ہے "اذا ﻧﺎﻡ اﻟﺮﺟﻞ ﻋﻠﻰ ﻓﺮاﺵ ﻓﺄﺻﺎﺑﻪ ﻣﻨﻲ ﻭﻳﺒﺲ ﻓﻌﺮﻕ اﻟﺮﺟﻞ ﻭاﺑﺘﻞ اﻟﻔﺮاﺵ ﻣﻦ ﻋﺮﻗﻪ ﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻈﻬﺮ ﺃﺛﺮ اﻟﺒﻠﻞ ﻓﻲ ﺑﺪﻧﻪ ﻻ ﻳﺘﻨﺠﺲ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ اﻟﻌﺮﻕ ﻛﺜﻴﺮا ﺣﺘﻰ اﺑﺘﻞ اﻟﻔﺮاﺵ ﺛﻢ ﺃﺻﺎﺏ ﺑﻠﻞ اﻟﻔﺮاﺵ ﺟﺴﺪﻩ ﻓﻈﻬﺮ ﺃﺛﺮﻩ ﻓﻲ ﺟﺴﺪﻩ ﻳﺘﻨﺠﺲ ﺑﺪﻧﻪ ﻛﺬا ﻓﻲ ﻓﺘﺎﻭﻯ ﻗﺎﺿﻲ ﺧﺎﻥ" (ج١،ص٤٧)۔</p> <p style="direction: rtl;">بہار شریعت میں ہے "نجس کپڑا پہن کر یا نجس بچھونے پر سویا اور پسینہ آیا اگر پسینہ سے وہ ناپاک جگہ بھیگ گئی پھر اُس سے بدن تر ہو گیا تو ناپاک ہو گیا ورنہ نہیں"(ح٢،ص٣٩٤)۔</p> <p style="direction: rtl;">واللہ تعالی اعلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>١٦جولائی٢٠١٩</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...