Verified guidance Authentic Islamic guidance, thoughtfully organised for everyday life.
Verified Hanafi Fiqh

رحم میں دوا رکھنے سے غسل واجب نہیں ہوتا

رحم میں دوا رکھنے سے غسل واجب نہیں ہوتا
Reference 344 September 18, 2025 13,626 views
اصل سوالرحم میں دوا رکھنے سے غسل واجب نہیں ہوتا

رحم میں دوا رکھنے سے غسل واجب نہیں ہوتا

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے متعلق کہ عورت کے حمل کو روکنے کے لئے ڈاکٹر رحم میں دوا رکھنے کے لیے دیتے ہیں آیا دوا رکھنے سے غسل ٹوٹ جائے گا یا باقی رہے گا جواب عنایت فرما ئیں کرم ھوگا۔

سائل:ساحل ملک

وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب ۔

رحم میں دوا رکھنے سے غسل باقی رہے گا کیونکہ رحم میں دوا رکھنا موجب غسل نہیں۔

واللہ تعالی اعلم

کتبہ : مفتی شان محمدالمصباحی القادری

١٢جولائی٢٠١٩

D
Answered and reviewed by Darul Ifta Scholar Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.

Important note: Published answers provide general guidance based on the details supplied. A materially different situation may require a new, private question.