صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #372 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

شدید غصے کی حالت میں طلاق دینے کا شرعی حکم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh تاریخ: August 12, 2026
0 5,274

سوال (Question):

میں نے اپنی بیوی کو بہت تیز غصے میں تین طلاقیں دے دیں، کیا طلاق ہو گئی؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

طلاق عام طور پر غصے میں ہی دی جاتی ہے۔ اگر غصہ اس حد تک ہو کہ انسان عقل و ہوش کھو بیٹھے (پاگل پن کا دورہ پڑ جائے) اور اسے معلوم نہ ہو کہ کیا کہہ رہا ہے، صرف اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن اگر وہ جانتا تھا کہ وہ طلاق دے رہا ہے تو غصے کے باوجود طلاق واقع ہو جائے گی۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh