Islamic Guidance Today: Wednesday, 29 July 2026 | 🕌 13 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #359 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.9K Views

کیا مکڑی کو مار سکتے ہیں؟ از مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا مکڑی کو مار سکتے ہیں؟ از مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا مکڑی کو مار سکتے ہیں؟

الجواب بعون الملک الوہاب:

جو مکڑی حرم میں رہنے والی ہے اس کو مارنا منع ہے, جبکہ عام مکڑی کو مارنے کا حکم خود حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے دیا ہے لہذا اس کو مار سکتے ہیں کیونکہ گھر میں جتنی مکڑیاں زیادہ ہوں گی, اتنے زیادہ جالےبنیں گی اور گھروں میں مکڑی کے جالوں کا ہونا تنگدستی کا باعث ہوتا ہے.

چنانچہ علامہ سید عمر بن احمد آفندی حنفی رحمۃ اللہ علیہ “زبدہ” کے حوالے سے حدیثِ مبارکہ تحریر فرماتے ہیں:

“نھی علیہ السلام عن قتل العنکبوت والحمام الکائنین فی الحرم”

یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکڑی اورکبوتر جو کہ حرم میں رہنے والے ہیں ان کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے.

(عصیدۃ الشھدۃ شرح قصیدۃ البردۃ صفحہ 196 مکتبۃ المدینہ کراچی)

اور عام مکڑی کے بارے میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ حکم فرمایا:

“العنکبوت شیطان مسخہ اللہ فاقتلوہ”

یعنی مکڑی شیطان ہے, اللہ تعالی نے اسے مسخ فرمایا ہے پس تم اسے قتل کر دیا کرو.

(الجامع الصغیر باب حرف العین, فصل فی المحلی رقم الحدیث: 5739 , جلد 2 صفحہ 353, عصیدۃ الشھدۃ صفحہ196 مکتبۃ المدینہ کراچی)

اورحضرت ثعلبی حضرت علی بن ابوطالب کرم اللہ وجہہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ارشادفرمایا :

“طھروا بیوتکم من نسج العنکبوت, فان ترکہ فی البیوت یورث الفقر”

یعنی اپنے گھروں کو مکڑی کے جالے سے پاک رکھو, پس بیشک (گھروں میں مکڑی کے) جالے کو چھوڑنا تنگدستی کو پیدا کرتا ہے.

(فیض القدیر, حرف العین, رقم الحدیث : 5739 جلد 4 صفحہ 519, عصیدۃ الشھدۃ صفحہ 196 مکتبۃ المدینہ کراچی)

دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ مسخ شدہ جانور کتنے ہے تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا : وہ تیرہ ہیں :

“الفیل والدب والخنزیر والقرد والجریث والضب والوطواط والعقرب والدعموض والعنکبوت والارنب وسھیل والزھرۃ”

یعنی ہاتھی , ریچھ, سور, بندر, مخصوص مچھلی, گوہ, چمگادڑ, بچھو, کرم آبی, مکڑی, خرگوش, سہیل ستارہ اور زہرہ ستارہ.

(کنزالعمال کتاب خلق العلم رقم الحدیث 15250, جلد 5, صفحہ 70, عصیدۃ الشھدۃ صفحہ 196 مکتبۃ المدینہ کراچی)

شیخ طریقت امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتھم العالیہ فرماتے ہیں :

“مکڑی کو مارنے میں حرج نہیں ہے۔ مکڑی کے جالے بھی گھروں سے صاف کرنے چاہئیں ورنہ تنگدستی آتی ہے”.

(بچوں کو دھوپ لگانے کے فوائد، قسط: 14، صفحہ 18 مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">کیا مکڑی کو مار سکتے ہیں؟</h2> <p style="direction: rtl;"><em><strong>الجواب بعون الملک الوہاب:</strong></em></p> <p style="direction: rtl;">جو مکڑی حرم میں رہنے والی ہے اس کو مارنا منع ہے, جبکہ عام مکڑی کو مارنے کا حکم خود حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے دیا ہے لہذا اس کو مار سکتے ہیں کیونکہ گھر میں جتنی مکڑیاں زیادہ ہوں گی, اتنے زیادہ جالےبنیں گی اور گھروں میں مکڑی کے جالوں کا ہونا تنگدستی کا باعث ہوتا ہے.</p> <p style="direction: rtl;">چنانچہ علامہ سید عمر بن احمد آفندی حنفی رحمۃ اللہ علیہ "زبدہ" کے حوالے سے حدیثِ مبارکہ تحریر فرماتے ہیں:</p> <p style="direction: rtl;">"نھی علیہ السلام عن قتل العنکبوت والحمام الکائنین فی الحرم"</p> <p style="direction: rtl;">یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکڑی اورکبوتر جو کہ حرم میں رہنے والے ہیں ان کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے.</p> <p style="direction: rtl;">(عصیدۃ الشھدۃ شرح قصیدۃ البردۃ صفحہ 196 مکتبۃ المدینہ کراچی)</p> <p style="direction: rtl;">اور عام مکڑی کے بارے میں حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ حکم فرمایا:</p> <p style="direction: rtl;">"العنکبوت شیطان مسخہ اللہ فاقتلوہ"</p> <p style="direction: rtl;">یعنی مکڑی شیطان ہے, اللہ تعالی نے اسے مسخ فرمایا ہے پس تم اسے قتل کر دیا کرو.</p> <p style="direction: rtl;">(الجامع الصغیر باب حرف العین, فصل فی المحلی رقم الحدیث: 5739 , جلد 2 صفحہ 353, عصیدۃ الشھدۃ صفحہ196 مکتبۃ المدینہ کراچی)</p> <p style="direction: rtl;">اورحضرت ثعلبی حضرت علی بن ابوطالب کرم اللہ وجہہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے ارشادفرمایا :</p> <p style="direction: rtl;">"طھروا بیوتکم من نسج العنکبوت, فان ترکہ فی البیوت یورث الفقر"</p> <p style="direction: rtl;">یعنی اپنے گھروں کو مکڑی کے جالے سے پاک رکھو, پس بیشک (گھروں میں مکڑی کے) جالے کو چھوڑنا تنگدستی کو پیدا کرتا ہے.</p> <p style="direction: rtl;">(فیض القدیر, حرف العین, رقم الحدیث : 5739 جلد 4 صفحہ 519, عصیدۃ الشھدۃ صفحہ 196 مکتبۃ المدینہ کراچی)</p> <p style="direction: rtl;">دیلمی نے مسند الفردوس میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ مسخ شدہ جانور کتنے ہے تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا : وہ تیرہ ہیں :</p> <p style="direction: rtl;">"الفیل والدب والخنزیر والقرد والجریث والضب والوطواط والعقرب والدعموض والعنکبوت والارنب وسھیل والزھرۃ"</p> <p style="direction: rtl;">یعنی ہاتھی , ریچھ, سور, بندر, مخصوص مچھلی, گوہ, چمگادڑ, بچھو, کرم آبی, مکڑی, خرگوش, سہیل ستارہ اور زہرہ ستارہ.</p> <p style="direction: rtl;">(کنزالعمال کتاب خلق العلم رقم الحدیث 15250, جلد 5, صفحہ 70, عصیدۃ الشھدۃ صفحہ 196 مکتبۃ المدینہ کراچی)</p> <p style="direction: rtl;">شیخ طریقت امیرِ اہلسنت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتھم العالیہ فرماتے ہیں :</p> <p style="direction: rtl;">"مکڑی کو مارنے میں حرج نہیں ہے۔ مکڑی کے جالے بھی گھروں سے صاف کرنے چاہئیں ورنہ تنگدستی آتی ہے".</p> <p style="direction: rtl;">(بچوں کو دھوپ لگانے کے فوائد، قسط: 14، صفحہ 18 مکتبۃ المدینہ کراچی)</p> <p style="direction: rtl;">واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...