Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #20
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.3K Views
سماجی کام کرنے والے غیرمسلم ادارے میں کام کرنا کیسا
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
سماجی کام کرنے والے غیرمسلم ادارے میں کام کرنا کیسا
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
سماجی کام کرنے والے غیرمسلم ادارے میں کام کرنا کیسا
صورت مسئولہ:دور جدید کے مختلف طبی مسائل اور ان سے متعلق ضروریات کی تکمیل کے لیے میڈیکل انشورنس کے بالمقابل امداد باہمی کی بنیاد پر تیارکردہ ایک خاکہ جوحسب ذیل ہے: ایک غیر مسلم ادارہ ہے جوگزشتہ دس سالوں سے خدمت خلق کا ایک کام انجام دے رہاہے۔ طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ ادارہ مختلف بستیوں میں اپنے خاص اصول واہداف کی روشنی میں ایک محلہ بستی میں سب سے پہلے سروے کاکام انجام دیتا ہے کہ اس علاقے میں کس طرح کے لوگ آباد ہیں؟ آب وہوا کیسی ہے؟ پینے کاپانی اورعمومی غذا کیاہوتی ہے؟ اور عام طور پر بیماری کس طرح کی ہواکرتی ہے ۔؟ وغیرہ وغیرہ ،اور اس کے تدارک کے لیے علاج ومعالجہ کے طور پر کس طرح کی سہولیات دستیاب ہیں ۔؟ ۔غیرمسلم ادارے میں کام کرنا
یہ سروے ادارہ خود اپنے خرچ پرکرتاہے ۔ اس کے بعد اس بستی کے لوگوں کوجمع کرکے ان کی ایک جمعیت ایسوسی ایشن بنائی جاتی ہے ۔ پھر اس مقامی ادارے کے ماتحت رجسٹرڈہونے والے ممبران مجتمع ہو کر سالانہ ایک مقررہ رقم مثلاً ہزار روپے اس قائم کردہ ادارے میں جمع کرتے ہیں۔ اسی ادارے کے کچھ احباب کام کرنے کے لیے متعین کیے جاتے ہیں جن میں سے ایک دولوگ ذمہ دارقسم کے ہوتے ہیں۔ اس جمع شدہ رقم کاایک متعینہ تناسب پانچ یا دس فیصد مذکورہ ادارے کو اس کے عملی کردار سازی کے لیے دیاجاتاہے،اور وہ ادارہ اس فیس کے بدلے میں مندرجہ ذیل چارکام انجام دیتاہے: (۱)رجسٹرڈ ممبران کو موقع بموقع مختلف طریقے مثلاًورک شاپ ، پمفلٹ وغیرہ کے ذریعہ صحت کے رہنما اصول کی تعلیم وتربیت دی جاتی ہے تاکہ بیماری سے پہلے حفظ ماتقدم کاکام کیا جائےیاابتدائی درجے ہی میں بیماری کی صحیح تشخیص کرکے اس کامناسب علاج کردیا جائے ۔ (۲)یہ ادارہ کچھ ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم مقرر کرتا ہے اور ان کے نمبر مذکورہ رجسٹرڈ ممبران کو دیے جاتے ہیں اور اس خدمت کو My Doctorیعنی ہمارا طبیب کے نام سے موسوم کیا جا تاہے لہٰذا ممبران میں سے جب بھی کسی کوکوئی تکلیف ہو،ان کے چوبیس گھنٹے میں کسی بھی وقت ہو ،وہ فوراً’’ہماراطبیب‘‘ سے رابطہ کرتا ہے اور وہ طبیب اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے اس کی صحیح رہنمائی کرتاہے ۔ (۳) یہ ادارہ مذکورہ ممبران کے علاقے کے اطراف واکناف میں قائم ہاسپیٹلوںسے مربوط ہوتاہے اور جب بھی کسی ممبر کو اس کی ضرورت کے پیش نظر ہاسپیٹلوں کی سہولیات بعض جگہوں پر بہت ہی رعایتی روپیوں میں اور بعض جگہوں میں بالکل مفت ہی میں حاصل کرنے میں معین ومددگار ہوتاہے۔ (۴)ممبران میں سے کسی کو جب دوائوں کی ضرورت پیش آتی ہے چاہے مستقل ہو یا عارضی تو ایسی دوائوں کو بہت ہی رعایتی داموں میں حاصل کرنے میں معین ومددگار ہوتاہے۔یہ مذکورہ چار خدمات ادا کردہ فیس کے بالمقابل ملتی ہیںاور جوبقیہ رقم (90/95%) مقامی ادارے کے پاس اس کی محفوظات میں ہوتی ہیں ۔ وہ جتنی بھی ہوں مثلاً ایک لاکھ ہوتو اس کوبارہ حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے،اور ہر ماہ میں بیمار ہونے والے ایسے مریض جو مذکورہ چار امور سے گذر کر کسی آپریشن یا طبی خرچے کے ضرورت مند ہوگئے ہوں ۔تومقامی ادارے کے منتخب ذمہ داران مذکورہ بالامرکزی ادارے کے ذمہ داران کے باہمی مشور ے سے ان مریضوں کے خرچوں کو کلی یا جزئی طورپر’ جیسے محفوظات اجازت دے،اداکرتاہے۔ مذکورہ ادارہ آج دس سالہ خدمات کے بعدملک کے دوبڑے شہروںمیں ڈھائی لاکھ سے زیادہ ممبران کے لیے اطمینان بخش طریقے پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ آں محترم کے پیش خدمت سوال یہ ہے کہ کیا ہم مذکورہ بالا مرکزی ادارے کے لیے مقامی ادارے کی شکل اختیار کرکے پیسے جمع کرسکتے ہیں ؟نیز مرکزی ادارے کے توسط سے اچھاخاصا تجربہ حاصل کرنے کے بعد کیا ہم خودہی مرکزی ادارے کاکرداراداکرتے ہوئے اس طرح کی خدمات انجام دے سکتے ہیں ۔ ؟شرعی اصول و ضوابط کی روشنی میں رہبری ورہنمائی فرمادیں،عین نوازش ہوگی۔ المستفتی:اسلم خان،ممبئیغیرمسلم ادارے میں کام کرنا
حکم شرعی: یہ ادارہـــــــ’’انجمن امدادباہمی ‘‘قراردیاجاسکتا ہے ۔ اگر اس میں امیر وغریب ،مریض و صحت مند ،مردوعورت سب کو اس کا ممبر بننے اور اس کے سرمایے سے یکساں طورپر مستفید ہونے کی قانونی گنجائش ہوتو اس طرح کا ادارہ مسلمان بھی قائم کرسکتے ہیں ۔ البتہ اس کے لیے یہ شرائط بھی ہیں کہ ا دارے کی بنیاد اخلاص،دیانت ، ہم دردی پرہوا، اور فریب ،خیانت واستحصال سے پاک ہو ۔ درج بالا امور وشرائط کے ساتھ یہ ادارہ ’’انجمن امدادباہمی ‘‘ قرار پائے گاجسے قائم کرنے اور چلانے کی شرعاًاجازت ہے ۔ یہ اصل حکم ہے۔ لیکن پرائیویٹ کمپنیوں اور اس طرح کے مال جمع کرنے والے اداروں سے اعتماد اٹھ چکاہے۔ باربار کا تجربہ ہے کہ اس طرح کے اداروں کے ارکان اپنی ذہانت وچرب زبانی سے عوام کو سبز باغ دکھا کر ان سے خطیر سرمایہ اکٹھا کرلیتے ہیں پھر خاموشی کے ساتھ بازار سے غائب ہوجاتے ہیں یا دیوالیہ کا اعلان کردیتے ہیں اور اس طرح عوام کے کروڑہا کروڑ روپے برباد ہوجاتے ہیں ۔ اس لیے ہم ایسے اداروں کی جمعیت میں شمولیت کافیصلہ عوام پر چھوڑتے ہیں،ان کا دل جمے اور اعتماد حاصل ہوتو درج بالا شرائط پرمشتمل’’انجمن امدادباہمی ‘‘ کا رکن شرعاًبن سکتے ہیں ۔ ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی وھو تعالیٰ اعلم . مزید مطا لعہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔دوران حج وعمرہ تلبیہ نہ پڑھنے والے کا حکم
محراب کے اندر نماز کی امامت ہو سکتی ہے ،محراب کے اندر نماز
Kutubahu & Verified by:
<h2>سماجی کام کرنے والے غیرمسلم ادارے میں کام کرنا کیسا</h2> صورت مسئولہ:دور جدید کے مختلف طبی مسائل اور ان سے متعلق ضروریات کی تکمیل کے لیے میڈیکل انشورنس کے بالمقابل امداد باہمی کی بنیاد پر تیارکردہ ایک خاکہ جوحسب ذیل ہے: ایک غیر مسلم ادارہ ہے جوگزشتہ دس سالوں سے خدمت خلق کا ایک کام انجام دے رہاہے۔ طریقۂ کار یہ ہے کہ وہ ادارہ مختلف بستیوں میں اپنے خاص اصول واہداف کی روشنی میں ایک محلہ بستی میں سب سے پہلے سروے کاکام انجام دیتا ہے کہ اس علاقے میں کس طرح کے لوگ آباد ہیں؟ آب وہوا کیسی ہے؟ پینے کاپانی اورعمومی غذا کیاہوتی ہے؟ اور عام طور پر بیماری کس طرح کی ہواکرتی ہے ۔؟ وغیرہ وغیرہ ،اور اس کے تدارک کے لیے علاج ومعالجہ کے طور پر کس طرح کی سہولیات دستیاب ہیں ۔؟ ۔ <h2>غیرمسلم ادارے میں کام کرنا</h2> یہ سروے ادارہ خود اپنے خرچ پرکرتاہے ۔ اس کے بعد اس بستی کے لوگوں کوجمع کرکے ان کی ایک جمعیت ایسوسی ایشن بنائی جاتی ہے ۔ پھر اس مقامی ادارے کے ماتحت رجسٹرڈہونے والے ممبران مجتمع ہو کر سالانہ ایک مقررہ رقم مثلاً ہزار روپے اس قائم کردہ ادارے میں جمع کرتے ہیں۔ اسی ادارے کے کچھ احباب کام کرنے کے لیے متعین کیے جاتے ہیں جن میں سے ایک دولوگ ذمہ دارقسم کے ہوتے ہیں۔ اس جمع شدہ رقم کاایک متعینہ تناسب پانچ یا دس فیصد مذکورہ ادارے کو اس کے عملی کردار سازی کے لیے دیاجاتاہے،اور وہ ادارہ اس فیس کے بدلے میں مندرجہ ذیل چارکام انجام دیتاہے: (۱)رجسٹرڈ ممبران کو موقع بموقع مختلف طریقے مثلاًورک شاپ ، پمفلٹ وغیرہ کے ذریعہ صحت کے رہنما اصول کی تعلیم وتربیت دی جاتی ہے تاکہ بیماری سے پہلے حفظ ماتقدم کاکام کیا جائےیاابتدائی درجے ہی میں بیماری کی صحیح تشخیص کرکے اس کامناسب علاج کردیا جائے ۔ (۲)یہ ادارہ کچھ ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم مقرر کرتا ہے اور ان کے نمبر مذکورہ رجسٹرڈ ممبران کو دیے جاتے ہیں اور اس خدمت کو My Doctorیعنی ہمارا طبیب کے نام سے موسوم کیا جا تاہے لہٰذا ممبران میں سے جب بھی کسی کوکوئی تکلیف ہو،ان کے چوبیس گھنٹے میں کسی بھی وقت ہو ،وہ فوراً’’ہماراطبیب‘‘ سے رابطہ کرتا ہے اور وہ طبیب اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے اس کی صحیح رہنمائی کرتاہے ۔ (۳) یہ ادارہ مذکورہ ممبران کے علاقے کے اطراف واکناف میں قائم ہاسپیٹلوںسے مربوط ہوتاہے اور جب بھی کسی ممبر کو اس کی ضرورت کے پیش نظر ہاسپیٹلوں کی سہولیات بعض جگہوں پر بہت ہی رعایتی روپیوں میں اور بعض جگہوں میں بالکل مفت ہی میں حاصل کرنے میں معین ومددگار ہوتاہے۔ (۴)ممبران میں سے کسی کو جب دوائوں کی ضرورت پیش آتی ہے چاہے مستقل ہو یا عارضی تو ایسی دوائوں کو بہت ہی رعایتی داموں میں حاصل کرنے میں معین ومددگار ہوتاہے۔یہ مذکورہ چار خدمات ادا کردہ فیس کے بالمقابل ملتی ہیںاور جوبقیہ رقم (90/95%) مقامی ادارے کے پاس اس کی محفوظات میں ہوتی ہیں ۔ وہ جتنی بھی ہوں مثلاً ایک لاکھ ہوتو اس کوبارہ حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے،اور ہر ماہ میں بیمار ہونے والے ایسے مریض جو مذکورہ چار امور سے گذر کر کسی آپریشن یا طبی خرچے کے ضرورت مند ہوگئے ہوں ۔تومقامی ادارے کے منتخب ذمہ داران مذکورہ بالامرکزی ادارے کے ذمہ داران کے باہمی مشور ے سے ان مریضوں کے خرچوں کو کلی یا جزئی طورپر’ جیسے محفوظات اجازت دے،اداکرتاہے۔ مذکورہ ادارہ آج دس سالہ خدمات کے بعدملک کے دوبڑے شہروںمیں ڈھائی لاکھ سے زیادہ ممبران کے لیے اطمینان بخش طریقے پر خدمات انجام دے رہا ہے۔ آں محترم کے پیش خدمت سوال یہ ہے کہ کیا ہم مذکورہ بالا مرکزی ادارے کے لیے مقامی ادارے کی شکل اختیار کرکے پیسے جمع کرسکتے ہیں ؟نیز مرکزی ادارے کے توسط سے اچھاخاصا تجربہ حاصل کرنے کے بعد کیا ہم خودہی مرکزی ادارے کاکرداراداکرتے ہوئے اس طرح کی خدمات انجام دے سکتے ہیں ۔ ؟شرعی اصول و ضوابط کی روشنی میں رہبری ورہنمائی فرمادیں،عین نوازش ہوگی۔ المستفتی:اسلم خان،ممبئی <h3>غیرمسلم ادارے میں کام کرنا</h3> <strong>حکم شرعی:</strong> یہ ادارہـــــــ’’انجمن امدادباہمی ‘‘قراردیاجاسکتا ہے ۔ اگر اس میں امیر وغریب ،مریض و صحت مند ،مردوعورت سب کو اس کا ممبر بننے اور اس کے سرمایے سے یکساں طورپر مستفید ہونے کی قانونی گنجائش ہوتو اس طرح کا ادارہ مسلمان بھی قائم کرسکتے ہیں ۔ البتہ اس کے لیے یہ شرائط بھی ہیں کہ ا دارے کی بنیاد اخلاص،دیانت ، ہم دردی پرہوا، اور فریب ،خیانت واستحصال سے پاک ہو ۔ درج بالا امور وشرائط کے ساتھ یہ ادارہ ’’انجمن امدادباہمی ‘‘ قرار پائے گاجسے قائم کرنے اور چلانے کی شرعاًاجازت ہے ۔ یہ اصل حکم ہے۔ لیکن پرائیویٹ کمپنیوں اور اس طرح کے مال جمع کرنے والے اداروں سے اعتماد اٹھ چکاہے۔ باربار کا تجربہ ہے کہ اس طرح کے اداروں کے ارکان اپنی ذہانت وچرب زبانی سے عوام کو سبز باغ دکھا کر ان سے خطیر سرمایہ اکٹھا کرلیتے ہیں پھر خاموشی کے ساتھ بازار سے غائب ہوجاتے ہیں یا دیوالیہ کا اعلان کردیتے ہیں اور اس طرح عوام کے کروڑہا کروڑ روپے برباد ہوجاتے ہیں ۔ اس لیے ہم ایسے اداروں کی جمعیت میں شمولیت کافیصلہ عوام پر چھوڑتے ہیں،ان کا دل جمے اور اعتماد حاصل ہوتو درج بالا شرائط پرمشتمل’’انجمن امدادباہمی ‘‘ کا رکن شرعاًبن سکتے ہیں ۔ ھذا ماعندی والعلم بالحق عند ربی وھو تعالیٰ اعلم . مزید مطا لعہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔ <h4><a href="https://urdu.masailworld.com/%d8%af%d9%88%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ad%d8%ac-%d9%88%d8%b9%d9%85%d8%b1%db%81-%d8%aa%d9%84%d8%a8%db%8c%db%81-%d9%86%db%81-%d9%be%da%91%da%be%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%da%a9/" rel="bookmark">دوران حج وعمرہ تلبیہ نہ پڑھنے والے کا حکم</a></h4> <h4><a href="https://urdu.masailworld.com/%d9%85%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%b1-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7-%d8%b5%d8%ad%db%8c%d8%ad-%db%81%db%92-%db%8c%d8%a7-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/" rel="bookmark">محراب کے اندر نماز کی امامت ہو سکتی ہے ،محراب کے اندر نماز</a></h4>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...