Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #370 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.7K Views

خطبہ کے وقت خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی ہاتھ میں لینا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

خطبہ کے وقت خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی ہاتھ میں لینا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

خطبہ کے وقت خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی ہاتھ میں لینا کیسا ہے ؟

الجواب بعون الملک الوہاب :

خطبہ کےوقت , خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی کو ہاتھ میں نہ لینا بہتر ہے, البتہ اگر کوئی عذر ہو تو اس وجہ سے وہ لاٹھی کو ہاتھ میں لے سکتا ہے.

چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :

“خطبہ میں عصا ہاتھ میں لینا بعض علماء نے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت موکدہ نہیں تو بنظرِ اختلاف اس سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو”

وذلک لان الفعل اذا ترد بین السنیۃ والکراھۃ کان ترکہ اولی (وہ اس لئے کہ جب فعل کے سنت اور مکروہ ہونے میں شک ہو تو اس کا ترک بہتر ہوتا ہے).

(فتاویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 303 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">خطبہ کے وقت خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی ہاتھ میں لینا کیسا ہے ؟</h2> <p style="direction: rtl;"><em><strong>الجواب بعون الملک الوہاب :</strong></em></p> <p style="direction: rtl;">خطبہ کےوقت , خطیب کے لئے عصا یعنی لاٹھی کو ہاتھ میں نہ لینا بہتر ہے, البتہ اگر کوئی عذر ہو تو اس وجہ سے وہ لاٹھی کو ہاتھ میں لے سکتا ہے.</p> <p style="direction: rtl;">چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :</p> <p style="direction: rtl;">"خطبہ میں عصا ہاتھ میں لینا بعض علماء نے سنت لکھا اور بعض نے مکروہ اور ظاہر ہے کہ اگر سنت بھی ہو تو کوئی سنت موکدہ نہیں تو بنظرِ اختلاف اس سے بچنا ہی بہتر ہے مگر جب کوئی عذر ہو"</p> <p style="direction: rtl;">وذلک لان الفعل اذا ترد بین السنیۃ والکراھۃ کان ترکہ اولی (وہ اس لئے کہ جب فعل کے سنت اور مکروہ ہونے میں شک ہو تو اس کا ترک بہتر ہوتا ہے).</p> <p style="direction: rtl;">(فتاویٰ رضویہ جلد 8 صفحہ 303 رضا فاؤنڈیشن لاہور)</p> <p style="direction: rtl;">واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...