Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #371 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.9K Views

کیا زندہ مسلمان کو ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا زندہ مسلمان کو ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا زندہ مسلمان کو ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے ؟

الجواب بعون الملک الوہاب:

جی ہاں ! زندہ مسلمان کو ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے. چنانچہ حضرت سیدنا صالح ابن درہم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

“انطلقنا حاجین

فاذارجل فقال لنا :

الی جنبکم قریۃ یقال لھا الابلۃ ؟

قلنا نعم !

قال :من یضمن لی منکم ان یصلی لی فی مسجد العشار رکعتین او اربعا ویقول ھذہ لابی ھریرۃ”

ہم حج کرنے جا رہے تھے کہ ایک صاحب (یعنی حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ) ملے اور پوچھنے لگے :

کیا تم سے کوئی قریب بستی ہے جسے “اُبُلَّہ” کہا جاتا ہے ؟

ہم نے کہا : جی ہاں !

(یہ سن کر) انہوں نے فرمایا :

تم میں کون اس کا ضامِن بنتا ہے کہ مسجدِ عَشَّار میں میرے لئے دو یا چار رکعتیں پڑھے اور کہے کہ یہ نماز ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (کے ایصال ثواب) کے لئے ہے.

(سنن ابوداؤد باب فی ذکر البصرۃ جلد4 صفحہ 153 حدیث : 4308 دار احیاء التراث العربی بیروت )

واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم

کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">کیا زندہ مسلمان کو ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے ؟</h2> <p style="direction: rtl;">الجواب بعون الملک الوہاب:</p> <p style="direction: rtl;">جی ہاں ! زندہ مسلمان کو ایصالِ ثواب کرنا جائز ہے. چنانچہ حضرت سیدنا صالح ابن درہم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :</p> <p style="direction: rtl;">"انطلقنا حاجین</p> <p style="direction: rtl;">فاذارجل فقال لنا :</p> <p style="direction: rtl;">الی جنبکم قریۃ یقال لھا الابلۃ ؟</p> <p style="direction: rtl;">قلنا نعم !</p> <p style="direction: rtl;">قال :من یضمن لی منکم ان یصلی لی فی مسجد العشار رکعتین او اربعا ویقول ھذہ لابی ھریرۃ"</p> <p style="direction: rtl;">ہم حج کرنے جا رہے تھے کہ ایک صاحب (یعنی حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ) ملے اور پوچھنے لگے :</p> <p style="direction: rtl;">کیا تم سے کوئی قریب بستی ہے جسے "اُبُلَّہ" کہا جاتا ہے ؟</p> <p style="direction: rtl;">ہم نے کہا : جی ہاں !</p> <p style="direction: rtl;">(یہ سن کر) انہوں نے فرمایا :</p> <p style="direction: rtl;">تم میں کون اس کا ضامِن بنتا ہے کہ مسجدِ عَشَّار میں میرے لئے دو یا چار رکعتیں پڑھے اور کہے کہ یہ نماز ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (کے ایصال ثواب) کے لئے ہے.</p> <p style="direction: rtl;">(سنن ابوداؤد باب فی ذکر البصرۃ جلد4 صفحہ 153 حدیث : 4308 دار احیاء التراث العربی بیروت )</p> <p style="direction: rtl;">واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبہ : مفتی ابواسیدعبیدرضامدنی</strong></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...