صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #403 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

پراویڈنٹ فنڈ (Provident Fund) پر ملنے والا سود یا اضافی رقم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh تاریخ: August 12, 2026
0 10,467

سوال (Question):

ریٹائرمنٹ پر پراویڈنٹ فنڈ میں جو اضافی رقم (Interest) لگ کر آتی ہے، کیا وہ حلال ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اگر پراویڈنٹ فنڈ کی کٹوتی ملازم کی تنخواہ سے جبری (Compulsory) ہوتی ہے اور اس کے اختیار میں نہیں، تو ریٹائرمنٹ پر ملنے والی ساری اضافی رقم انعام کے حکم میں ہے اور حلال ہے۔ لیکن اگر کٹوتی اختیاری (Voluntary) طور پر کروائی گئی ہو تو اصل تنخواہ سے زائد ملنے والی رقم سود ہو گی اور حرام ہے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh