جھوٹ بولنے کی اجازت کن مواقع پر شریعت میں ہے؟
سوال (Question):
کیا اسلام میں کسی بھی حال میں جھوٹ بولنے کی گنجائش ہے؟
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جھوٹ بولنا کبیرہ گناہ ہے۔ البتہ حدیث کی روشنی میں صرف 3 مواقع پر حکمت کے تحت جھوٹ بولنے (یعنی خلافِ واقعہ بات کہنے) کی گنجائش ہے: 1) جنگ میں دشمن کو دھوکہ دینے کے لیے، 2) دو ناراض مسلمانوں میں صلح کرانے کے لیے، 3) میاں بیوی کا ایک دوسرے کو خوش کرنے کے لیے (ایسی بات جس سے کسی کا حق نہ مارا جائے)۔ واللہ اعلم۔