صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #426 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

پراپرٹی کا بیعانہ (Token Money) ضبط کرنے کا حکم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh تاریخ: August 12, 2026
0 4,230

سوال (Question):

اگر خریدار مقررہ وقت پر پلاٹ کے پیسے نہ دے تو کیا مالک اس کا ایڈوانس (بیعانہ) ضبط کر سکتا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

شریعت میں کسی کا مال اس کی رضامندی کے بغیر لینا حرام ہے۔ سودا کینسل ہونے کی صورت میں مالک کے لیے خریدار کا بیعانہ (Token) ضبط کرنا ناجائز ہے، اسے وہ رقم واپس کرنی ہو گی۔ البتہ اگر مالک کو سودا کینسل ہونے سے کوئی حقیقی نقصان ہوا ہو تو وہ صرف اس نقصان کے بقدر رقم کاٹ سکتا ہے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh