صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #451 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

محلے میں کمیٹی (Committee / BC) ڈالنے کا شرعی حکم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh تاریخ: August 12, 2026
0 8,151

سوال (Question):

محلے یا دفتر میں لوگ مل کر جو پیسوں کی کمیٹی (بی سی) ڈالتے ہیں، کیا یہ حلال ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

مروجہ کمیٹی (Committee) کی شرعی حیثیت ‘باہمی قرضِ حسنہ’ کی ہے۔ تمام لوگ ایک دوسرے کو قرض دیتے ہیں اور قرعہ اندازی کے ذریعے ایک شخص پورا قرض اٹھا لیتا ہے۔ یہ عمل شرعاً بالکل جائز ہے، بشرطیکہ ہر شخص جتنی رقم جمع کروائے، اسے واپس بھی اتنی ہی ملے، کمی بیشی (سود) نہ ہو اور بولی لگا کر کمیٹی نہ خریدی جائے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh