Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #450 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.7K Views

گدا چٹائی اور اس جیسی چیزوں کی طہارت کا طریقہ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

گدا چٹائی اور اس جیسی چیزوں کی طہارت کا طریقہ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

گدا چٹائی اور اس جیسی چیزوں کی طہارت کا طریقہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

سوال : ایک بچے نے فوم کے گدے وغیرہ پر یا اسی جنس کی جازب چیز پر پیشاب کر دیا اور پیشاب گدے وغیرہ میں سرایت کرگیا گدا خشک ہوگیا اور رنگت و بو زاٸل ہوگٸی اس صورت میں گدے کا کیا حکم ہے کیا وہ پاک ہے یا نہیں؟

المستفتی:مولوی محمد ارشدالقادری لونی غازی آباد

وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب۔

وہ گدا ناپاک ہے سوکھنے اور رنگ و بو زائل ہونے سے پاک نہ ہوگا۔ اسے پاک کرنے کیلئے تین بار دھلنا اور ہر بار اتنے وقت تک دھل کر چھوڑ دینا ضروری ہے کہ پانی ٹپکنا موقوف ہوجاے۔

یا سمر وغیرہ سے پانی جاری کرکے اتنی دیر تک اس پر بہائیں کہ نجاست کے نکل کر بہ جانے کا ظن غالب ہوجاے۔

بحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے “ﻗﻮﻟﻪ و ﺑﺘﺜﻠﻴﺚ اﻟﺠﻔﺎﻑ ﻓﻴﻤﺎ ﻻ ﻳﻨﻌﺼﺮ ﺃﻱ ﻣﺎ ﻻ ﻳﻨﻌﺼﺮ ﻓﻄﻬﺎﺭﺗﻪ ﻏﺴﻠﻪ ﺛﻼﺛﺎ ﻭﺗﺠﻔﻴﻔﻪ ﻓﻲ ﻛﻞ ﻣﺮﺓ ﻷﻥ ﻟﻠﺘﺠﻔﻴﻒ ﺃﺛﺮا ﻓﻲ اﺳﺘﺨﺮاﺝ اﻟﻨﺠﺎﺳﺔ ﻭﻫﻮ ﺃﻥ ﻳﺘﺮﻛﻪ ﺣﺘﻰ ﻳﻨﻘﻄﻊ اﻟﺘﻘﺎﻃﺮ ﻭﻻ ﻳﺸﺘﺮﻁ ﻓﻴﻪ اﻟﻴﺒﺲ”(ج١،ص٤١٣)۔

نیز اسی میں ہے “ﺛﻢ اﺷﺘﺮاﻁ اﻟﻌﺼﺮ فیما ﻳﻨﻌﺼﺮ ﺇنما ﻫﻮ ﻓﻴﻤﺎ ﺇﺫا ﻏﺴﻞ اﻟﺜﻮﺏ ﻓﻲ اﻹﺟﺎﻧﺔ، ﺃﻣﺎ ﺇﺫا ﻏﻤﺲ اﻟﺜﻮﺏ ﻓﻲ ﻣﺎء ﺟﺎﺭ ﺣﺘﻰ ﺟﺮﻯ ﻋﻠﻴﻪ الماء ﻃﻬﺮ ﻭﻛﺬا ﻣﺎ ﻻ ﻳﻨﻌﺼﺮ ﻭﻻ ﻳﺸﺘﺮﻁ اﻟﻌﺼﺮ فیما ﻻ ﻳﻨﻌﺼﺮ ﻭﻻ اﻟﺘﺠﻔﻴﻒ فیما ﻻ ﻳﻨﻌﺼﺮ ﻭﻻ ﻳﺸﺘﺮﻁ ﺗﻜﺮاﺭ اﻟﻐﻤﺲ”(ج١،ص٤١٢)۔

بہار شریعت میں ہے “جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں ہے جیسے چٹائی، برتن، جُوتا وغیرہ اس کو دھو کر چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے یوہیں دو مرتبہ اَور دھوئیں تیسری مرتبہ جب پانی ٹپکنا بند ہو گیا وہ چیز پاک ہو گئی اسے ہر مرتبہ کے بعد سُوکھانا ضروری نہیں یوہیں جو کپڑا اپنی نازکی کے سبب نچوڑنے کے قابل نہیں اسے بھی یوہیں پاک کیا جائے۔

دری یا ٹاٹ یا کوئی ناپاک کپڑا بہتے پانی میں رات بھر پڑا رہنے دیں پاک ہو جائے گا اور اصل یہ ہے کہ جتنی دیر میں یہ ظن غالب ہو جائے کہ پانی نَجاست کو بہا لے گیا پاک ہو گیا کہ بہتے پانی سے پاک کرنے میں نچوڑنا شرط نہیں” (ح٢،ص٣٩٩)۔

واللہ تعالی اعلم

مفتی شان محمد المصباحی القادری

کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

٣٠مئی٢٠١٩

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">گدا چٹائی اور اس جیسی چیزوں کی طہارت کا طریقہ</h2> <p style="direction: rtl;">السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ</p> <p style="direction: rtl;"><strong>سوال :</strong> ایک بچے نے فوم کے گدے وغیرہ پر یا اسی جنس کی جازب چیز پر پیشاب کر دیا اور پیشاب گدے وغیرہ میں سرایت کرگیا گدا خشک ہوگیا اور رنگت و بو زاٸل ہوگٸی اس صورت میں گدے کا کیا حکم ہے کیا وہ پاک ہے یا نہیں؟</p> <p style="direction: rtl;">المستفتی:مولوی محمد ارشدالقادری لونی غازی آباد</p> <p style="direction: rtl;">وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ</p> <p style="direction: rtl;"><em><strong>الجواب بعون الملک الوہاب۔</strong> </em></p> <p style="direction: rtl;">وہ گدا ناپاک ہے سوکھنے اور رنگ و بو زائل ہونے سے پاک نہ ہوگا۔ اسے پاک کرنے کیلئے تین بار دھلنا اور ہر بار اتنے وقت تک دھل کر چھوڑ دینا ضروری ہے کہ پانی ٹپکنا موقوف ہوجاے۔</p> <p style="direction: rtl;">یا سمر وغیرہ سے پانی جاری کرکے اتنی دیر تک اس پر بہائیں کہ نجاست کے نکل کر بہ جانے کا ظن غالب ہوجاے۔</p> <p style="direction: rtl;">بحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے "ﻗﻮﻟﻪ و ﺑﺘﺜﻠﻴﺚ اﻟﺠﻔﺎﻑ ﻓﻴﻤﺎ ﻻ ﻳﻨﻌﺼﺮ ﺃﻱ ﻣﺎ ﻻ ﻳﻨﻌﺼﺮ ﻓﻄﻬﺎﺭﺗﻪ ﻏﺴﻠﻪ ﺛﻼﺛﺎ ﻭﺗﺠﻔﻴﻔﻪ ﻓﻲ ﻛﻞ ﻣﺮﺓ ﻷﻥ ﻟﻠﺘﺠﻔﻴﻒ ﺃﺛﺮا ﻓﻲ اﺳﺘﺨﺮاﺝ اﻟﻨﺠﺎﺳﺔ ﻭﻫﻮ ﺃﻥ ﻳﺘﺮﻛﻪ ﺣﺘﻰ ﻳﻨﻘﻄﻊ اﻟﺘﻘﺎﻃﺮ ﻭﻻ ﻳﺸﺘﺮﻁ ﻓﻴﻪ اﻟﻴﺒﺲ"(ج١،ص٤١٣)۔</p> <p style="direction: rtl;">نیز اسی میں ہے "ﺛﻢ اﺷﺘﺮاﻁ اﻟﻌﺼﺮ فیما ﻳﻨﻌﺼﺮ ﺇنما ﻫﻮ ﻓﻴﻤﺎ ﺇﺫا ﻏﺴﻞ اﻟﺜﻮﺏ ﻓﻲ اﻹﺟﺎﻧﺔ، ﺃﻣﺎ ﺇﺫا ﻏﻤﺲ اﻟﺜﻮﺏ ﻓﻲ ﻣﺎء ﺟﺎﺭ ﺣﺘﻰ ﺟﺮﻯ ﻋﻠﻴﻪ الماء ﻃﻬﺮ ﻭﻛﺬا ﻣﺎ ﻻ ﻳﻨﻌﺼﺮ ﻭﻻ ﻳﺸﺘﺮﻁ اﻟﻌﺼﺮ فیما ﻻ ﻳﻨﻌﺼﺮ ﻭﻻ اﻟﺘﺠﻔﻴﻒ فیما ﻻ ﻳﻨﻌﺼﺮ ﻭﻻ ﻳﺸﺘﺮﻁ ﺗﻜﺮاﺭ اﻟﻐﻤﺲ"(ج١،ص٤١٢)۔</p> <p style="direction: rtl;">بہار شریعت میں ہے "جو چیز نچوڑنے کے قابل نہیں ہے جیسے چٹائی، برتن، جُوتا وغیرہ اس کو دھو کر چھوڑ دیں کہ پانی ٹپکنا موقوف ہو جائے یوہیں دو مرتبہ اَور دھوئیں تیسری مرتبہ جب پانی ٹپکنا بند ہو گیا وہ چیز پاک ہو گئی اسے ہر مرتبہ کے بعد سُوکھانا ضروری نہیں یوہیں جو کپڑا اپنی نازکی کے سبب نچوڑنے کے قابل نہیں اسے بھی یوہیں پاک کیا جائے۔</p> <p style="direction: rtl;">دری یا ٹاٹ یا کوئی ناپاک کپڑا بہتے پانی میں رات بھر پڑا رہنے دیں پاک ہو جائے گا اور اصل یہ ہے کہ جتنی دیر میں یہ ظن غالب ہو جائے کہ پانی نَجاست کو بہا لے گیا پاک ہو گیا کہ بہتے پانی سے پاک کرنے میں نچوڑنا شرط نہیں" (ح٢،ص٣٩٩)۔</p> <p style="direction: rtl;">واللہ تعالی اعلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>مفتی شان محمد المصباحی القادری</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ </strong></p> <p style="direction: rtl;">٣٠مئی٢٠١٩</p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...