Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #29
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13.6K Views
زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔ زکوۃ کے مسائل
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔ زکوۃ کے مسائل
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔
سوال : نوٹ بندی کے تقریباًایک سال بعد صندوق میں رکھی ہوئی قدیم کرنسی میں گیارہ ہزارروپیہ ملاجوایک لفافے میں ہےجس کے اوپرزکاۃ لکھاہواہے ۔ا ب جب کہ نوٹ بندی کوایک سال ہوچکے ہیں ۔ اگراس کوباہربنیوں کے وہاں بدلیں تو مقررہ روپے سے کم قیمت ملنے کاامکان ہے توجورقم کم ہوتی ہے اس کی بھرپائی ہمارے ذمے ہے یاشرعاًہم اس سے بری ہیں ۔ کیا ایسی صورت میں زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔ ظاہرہے یہ غلطی سے رہ گیاہے نہ کہ دانستہ ۔ بینک میں تبدیلی کے امکانات اور اس کی دقتوں سے حضرت خوب واقف ہیں۔ المستفتی:محمدظفرالحق ،گھوسی، ضلع مئو،یوپی جواب : زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے فقیرکومالک بنانا ضروری ہے ۔ ساتھ ہی قبضہ دینا ضروری ہے ۔جب زکوٰۃ کی رقم آپ کے پاس رکھی رہی اگرچہ بھول سے سہی ،فقیرکومالک وقابض نہ کیاتوزکوٰہ ہرگزنہیں اداہوئی ۔رائج روپے سے یہ پوری زکوٰہ اداکی جائے ۔بھول کی وجہ سے یہ راحت ملے گی کہ ادائیگی میں تاخیرکاگناہ نہ ہوگا ۔ فرض کیجیے آپ کے ذمے کسی کاقرض ہو جسے اداکرنے کے لیے آپ نے روپے الگ کرکے رکھ لیے ۔ بھول سے ادائیگی میں دیرہوئی ، یہا ںتک کہ ان روپیوں کاچلن جاتارہا تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کی وجہ سے قرض معاف نہ ہوگابلکہ رائج روپیوں سے ادائیگی لازم ہوگی ۔ وہی حال یہاں بھی ہے کہ زکوٰۃ بندے کے ذمے اللہ کا قرض ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔Written by Allama Mufti Nizamuddin
Jamia Ashrafia Mubarakpur
مزید مطالعہ کریں ۔ذاتی زمین خریدنے کے لیے مدرسے کاپیسہ استعمال کرنا
حائضہ عورت کاقصیدہ بردہ شریف وغیرہ پڑھنا ۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔</h2> <em>سوال : </em> نوٹ بندی کے تقریباًایک سال بعد صندوق میں رکھی ہوئی قدیم کرنسی میں گیارہ ہزارروپیہ ملاجوایک لفافے میں ہےجس کے اوپرزکاۃ لکھاہواہے ۔ا ب جب کہ نوٹ بندی کوایک سال ہوچکے ہیں ۔ اگراس کوباہربنیوں کے وہاں بدلیں تو مقررہ روپے سے کم قیمت ملنے کاامکان ہے توجورقم کم ہوتی ہے اس کی بھرپائی ہمارے ذمے ہے یاشرعاًہم اس سے بری ہیں ۔ کیا ایسی صورت میں زکوٰۃ کے لیے فقیرکومالک بناناضروری ہے ۔ ظاہرہے یہ غلطی سے رہ گیاہے نہ کہ دانستہ ۔ بینک میں تبدیلی کے امکانات اور اس کی دقتوں سے حضرت خوب واقف ہیں۔ المستفتی:محمدظفرالحق ،گھوسی، ضلع مئو،یوپی <em><strong>جواب : </strong></em> زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے فقیرکومالک بنانا ضروری ہے ۔ ساتھ ہی قبضہ دینا ضروری ہے ۔جب زکوٰۃ کی رقم آپ کے پاس رکھی رہی اگرچہ بھول سے سہی ،فقیرکومالک وقابض نہ کیاتوزکوٰہ ہرگزنہیں اداہوئی ۔رائج روپے سے یہ پوری زکوٰہ اداکی جائے ۔بھول کی وجہ سے یہ راحت ملے گی کہ ادائیگی میں تاخیرکاگناہ نہ ہوگا ۔ فرض کیجیے آپ کے ذمے کسی کاقرض ہو جسے اداکرنے کے لیے آپ نے روپے الگ کرکے رکھ لیے ۔ بھول سے ادائیگی میں دیرہوئی ، یہا ںتک کہ ان روپیوں کاچلن جاتارہا تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کی وجہ سے قرض معاف نہ ہوگابلکہ رائج روپیوں سے ادائیگی لازم ہوگی ۔ وہی حال یہاں بھی ہے کہ زکوٰۃ بندے کے ذمے اللہ کا قرض ہے ۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔ <p style="text-align: left;">Written by Allama Mufti Nizamuddin</p> <p style="text-align: left;">Jamia Ashrafia Mubarakpur</p> مزید مطالعہ کریں ۔ <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=138" rel="bookmark">ذاتی زمین خریدنے کے لیے مدرسے کاپیسہ استعمال کرنا</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=178" rel="bookmark">حائضہ عورت کاقصیدہ بردہ شریف وغیرہ پڑھنا ۔</a></h2>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...