Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #474 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.8K Views

ایک طلاق کے بعد میاں بیوی پھر سے رہنا چاہتے ہیں تو طریقہ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

ایک طلاق کے بعد میاں بیوی پھر سے رہنا چاہتے ہیں تو طریقہ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

ایک طلاق کے بعد میاں بیوی پھر سے رہنا چاہتے ہیں تو طریقہ

سوال : پہلی طلاق کے بعد میاں‌ بیوی آپس میں پھر سے رہنا چاہتے ہیں تو کیاحلالہ کرنا ہو گا؟ یا کیا کرنا ہو گا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟

سائل : حافظ مسعود نوری مالیگاؤں

الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

حلالہ پہلی طلاق پر نہیں بلکہ تین طلاقوں کے واقع ہونے کی صورت میں کروایا جاتا ہے۔ آپ کے مسئلہ میں حلالہ کی ضرورت نہیں ہے، چونکہ ایک طلاق دینے سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے، اس لیے عدت کے اندر رجوع کر لے، اگر عدت گزر گئی ہے تو تجدید نکاح کر لے، یہاں حلالہ کی ضرورت نہیں۔ اب آپ کے پاس دو طلاقیں باقی رہ گئی ہیں۔ اگر کبھی دو طلاقیں آپ نے دے دی تو طلاق مغلظہ واقع ہو جائے گی۔ پھر حلالہ کے بغیر یہ بیوی آپ کے لیے جائز نہیں ہوگی۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم

   مفتی محمدرضا مرکزی

کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

خادم التدریس والافتا

الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">ایک طلاق کے بعد میاں بیوی پھر سے رہنا چاہتے ہیں تو طریقہ</h2> <p style="direction: rtl;"><strong>سوال :</strong> پہلی طلاق کے بعد میاں‌ بیوی آپس میں پھر سے رہنا چاہتے ہیں تو کیاحلالہ کرنا ہو گا؟ یا کیا کرنا ہو گا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں؟</p> <p style="direction: rtl;">سائل : حافظ مسعود نوری مالیگاؤں</p> <p style="direction: rtl;"><strong>الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب</strong></p> <p style="direction: rtl;">حلالہ پہلی طلاق پر نہیں بلکہ تین طلاقوں کے واقع ہونے کی صورت میں کروایا جاتا ہے۔ آپ کے مسئلہ میں حلالہ کی ضرورت نہیں ہے، چونکہ ایک طلاق دینے سے طلاق رجعی واقع ہوتی ہے، اس لیے عدت کے اندر رجوع کر لے، اگر عدت گزر گئی ہے تو تجدید نکاح کر لے، یہاں حلالہ کی ضرورت نہیں۔ اب آپ کے پاس دو طلاقیں باقی رہ گئی ہیں۔ اگر کبھی دو طلاقیں آپ نے دے دی تو طلاق مغلظہ واقع ہو جائے گی۔ پھر حلالہ کے بغیر یہ بیوی آپ کے لیے جائز نہیں ہوگی۔</p> <p style="direction: rtl;">وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم</p> <p style="direction: rtl;"><strong>   مفتی محمدرضا مرکزی</strong></p> <p style="direction: rtl;"><strong>کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ </strong></p> <p style="direction: rtl;">خادم التدریس والافتا</p> <p style="direction: rtl;">الجامعۃ القادریہ نجم العلوم مالیگاؤں</p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...