Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #488 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.1K Views

نکاح کے بعد چھوہارے لٹانا کیسا ہے؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

نکاح کے بعد چھوہارے لٹانا کیسا ہے؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

نکاح کے بعد چھوہارے لٹانا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نکاح میں چھوہارے لٹانا کیا ہے سنت ہے ،یا مستحب ہے، یا فضول ہے۔ جواب ضرور دیں۔

ســائل: جـاوید اقبـال کشـی نگر

الجــوابـــــــــــ بعون الملک الوہاب

صورت مسئولہ میں نکاح کے بعد چھوہارے لٹانا مستحب ہے۔ احکام شریعت میں امام اہل سنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ ’’حدیث شریف میں لوٹنے کا حکم ہے اور لٹانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

(احکام شریعت ص۲۳۲)

اسی طرح حضرت العلام ا لشاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ والرضوان “مدارج النبوۃ ” میں رقمطراز ہیں۔ کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک تباق کھجوروں کا لیا اور جماعت صحابہ پر بکھیر کر لٹا یا ،اسی بناء پر فقہاء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ شکر و بادام وغیرہ کا بکھیر کر لٹانا عقد نکاح کی ضیافت میں مستحب ہے ۔

(مدارج النبوت،ج،٢ص،١٠٩)

اور ملفوظات اعلی حضرت ، حصہ سوم میں ہے “حدیث شریف میں لوٹنے کا حکم ہے، اور لٹانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔

اور یہ حدیث (دارقطنی،للبہیقی،طحاوی،سے مروی ہے۔(السنن الکبری للبہیقی،کتاب الصداق،باب ما جاء النشار.الخ،الحدیث ١٤٦٨٢/١٤٦٨٣/,ج،٧،ص،٤٦٩)

الانتباہ_ دور حاضر میں جہاں مال ضائع ہونے کا قوی اندیشہ ہو، وہاں لٹانے کی اجازت نہیں ہے۔البتہ اگر کوئی مسجد میں نکاح کرے یا ایسی جگہ نکاح کرے جہاں مال ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو لٹا سکتے ہیں کوئی حرج نہیں۔

واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب

کتبــــــہ : حضرت علامہ مولانا محمد منظــــور عالم قــادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی استاد دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج (یوپی)

Kutubahu & Verified by:

<h2 style="direction: rtl;">نکاح کے بعد چھوہارے لٹانا کیسا ہے؟</h2> <p style="direction: rtl;">کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ نکاح میں چھوہارے لٹانا کیا ہے سنت ہے ،یا مستحب ہے، یا فضول ہے۔ جواب ضرور دیں۔</p> <p style="direction: rtl;">ســائل: جـاوید اقبـال کشـی نگر</p> <p style="direction: rtl;"><span style="color: #ff0000;"><strong>الجــوابـــــــــــ بعون الملک الوہاب</strong></span></p> <p style="direction: rtl;">صورت مسئولہ میں نکاح کے بعد چھوہارے لٹانا مستحب ہے۔ احکام شریعت میں امام اہل سنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ ’’حدیث شریف میں لوٹنے کا حکم ہے اور لٹانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔</p> <p style="direction: rtl;">(احکام شریعت ص۲۳۲)</p> <p style="direction: rtl;">اسی طرح حضرت العلام ا لشاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ والرضوان "مدارج النبوۃ " میں رقمطراز ہیں۔ کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک تباق کھجوروں کا لیا اور جماعت صحابہ پر بکھیر کر لٹا یا ،اسی بناء پر فقہاء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ شکر و بادام وغیرہ کا بکھیر کر لٹانا عقد نکاح کی ضیافت میں مستحب ہے ۔</p> <p style="direction: rtl;">(مدارج النبوت،ج،٢ص،١٠٩)</p> <p style="direction: rtl;">اور ملفوظات اعلی حضرت ، حصہ سوم میں ہے "حدیث شریف میں لوٹنے کا حکم ہے، اور لٹانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔</p> <p style="direction: rtl;">اور یہ حدیث (دارقطنی،للبہیقی،طحاوی،سے مروی ہے۔(السنن الکبری للبہیقی،کتاب الصداق،باب ما جاء النشار.الخ،الحدیث ١٤٦٨٢/١٤٦٨٣/,ج،٧،ص،٤٦٩)</p> <p style="direction: rtl;">الانتباہ_ دور حاضر میں جہاں مال ضائع ہونے کا قوی اندیشہ ہو، وہاں لٹانے کی اجازت نہیں ہے۔البتہ اگر کوئی مسجد میں نکاح کرے یا ایسی جگہ نکاح کرے جہاں مال ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو لٹا سکتے ہیں کوئی حرج نہیں۔</p> <p style="direction: rtl;">واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب</p> <p style="direction: rtl;"><span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــہ : حضرت علامہ مولانا محمد منظــــور عالم قــادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی استاد دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج (یوپی)</strong></span></p>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...