جو دوسروں کی مدد نہ کر سکے اس کو زکوۃ دینا کیسا ہے
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
سوال : کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسٔلہ میں کہ زید کے پاس اتنا مال نہیں کہ جس سے وہ لوگوں کی مدد کرسکے صرف مذدوری کرکے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتا ہے تو کیا ایسے شخص کو زکوۃ دے سکتے ہیں ۔
برائے مہربانی وضاحت فرمائیں نوازش ہو گی
العــــارض : عبــدالمبیـــن رضـــوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بســم اللـہ الرحمٰـن الرحیـم
الجوابــــــــ بعـون الملـک الـوہاب
صورت مسؤلہ میں زید کے پاس اس کی بنیادی ضرورت و استعمال (یعنی رہنے کا مکان گھریلو برتن کپڑے وغیرہ) سے زائد نصاب کے بقدر (یعنی صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت کے برابر) مال یا سامان موجود نہ ہو اور وہ سید /عباسی نہ ہو تو وہ زکوۃ کا مستحق ہے ،اس کو زکوۃ دینا اور اس کے لئے ضرورت کے مطابق زکوۃ لینا جائز ہے ۔
جیسا کہ فتاوی امجدیہ میں میں صدر الشریعہ بدر طریقہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں،جسے ہم زکوۃ دینا چاہ رہے ہیں وہ مستحق زکوۃ ہے یا نہیں؟ظاہر ہے کہ اس کی مکمل تحقیق بہت دشوار ہے اس لئے جس کو دینا ہو اس کے متعلق اگر غالب گمان ہو کہ یہ مستحق زکوۃ ہے (یعنی ادائیگی کی شرائط پر پورا اترتا ہے) تو اسے دے دے زکوۃ ادا ہو جائے گی ،اور اگر غالب گمان نہ ہو تا ہو تو نہ دے ،
(فتاوی امجدیہ جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 374)
واللــہ تــــــعالیٰ اعلـم بالصــواب
حضرت علامہ و مولانا محمد منظور عالم قادری صاحب
کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
خادم دارالعلوم اہلسنت معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج (یوپی)