صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

Fatwa #530 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

تقدیر (قسمت) پر ایمان لانے کا مفہوم

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Verified Hanafi Fiqh تاریخ: August 12, 2026
0 11,297

سوال (Question):

اگر سب کچھ تقدیر میں پہلے سے لکھا ہے تو انسان کو اس کے اعمال کی سزا کیوں ملے گی؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علمِ کامل سے پہلے ہی جانتا ہے کہ بندہ اپنے ارادے اور اختیار سے کیا کرے گا، اور اللہ نے وہی لکھ دیا ہے۔ اللہ کے لکھنے کی وجہ سے بندہ مجبور نہیں، بلکہ بندے نے جو اپنے اختیار سے کرنا تھا، اللہ نے وہ پہلے لکھ دیا۔ انسان کو اعمال کا اختیار دیا گیا ہے اور اسی اختیار کا حساب روزِ قیامت ہوگا۔ تقدیر پر ایمان کا مطلب یہ ہے کہ بھلائی اور برائی سب اللہ کی طرف سے اور اس کے علم میں ہے۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Verified Hanafi Fiqh