Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #39
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
4.8K Views
دنیاوی تعلیم کے مد میں زکوٰۃ کی رقم صَرف کرنا کیسا ہے
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
دنیاوی تعلیم کے مد میں زکوٰۃ کی رقم صَرف کرنا کیسا ہے
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
دنیاوی تعلیم کے مد میں زکوٰۃ کی رقم صَرف کرنا
صورت مسئلہ: ہم چند احباب مل کر ایک انجمن چلاتے ہیں جو آٹھویں جماعت سے لے کر ڈاکٹری اور انجینئرنگ کے طلبہ و طالبات کی دنیاوی اعلیٰ تعلیم تک کی فیس کی اعانت کرتے ہیں اور ان کے اسکول یا کالج کی فیس چیک کی شکل میں ان کے متعلقہ ادارے کو بھجوا دیتے ہیں۔ اس کے لیے ہم جو روپے جمع کرتے ہیں اس کا اکثر حصہ زکوٰۃ کا ہوتا ہے جو ہم حیلہ شرعی کروا کر اکاونٹ میں جمع کردیتے ہیں اور ضرورت کے لحاظ سے چیک دیتے ہیں ۔ جن بچوں کو یہ فیس کی رقم دی جاتی ہے، ان کے والدین کی مالی استطاعت اتنی نہیں ہوتی کہ وہ یہ خرچ برداشت کر سکیں اور صرف آٹھویں جماعت کے بچے ایسے ہوتے ہیں جن میں کچھ بالغ اور کچھ نابالغ ہوتے ہیں، باقی ساری جماعتوں کے طلبہ یا طالبات بالغ ہوتے ہیں ۔ اب آپ سے دریافت طلب امور مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱)کیا زکوٰۃ کی رقم حیلہ شرعی کروانے کے بعد دنیاوی تعلیم کی مد میں خرچ کی جا سکتی ہے؟ (۲)کیا یہ کام کہ قوم دنیاوی معاملات میں کسے سے پچھڑ نہ جائے، مولا تعالیٰ کی خوش نودی کا ذریعہ نہ ہوگا؟ (۳)بالغ و نابالغ بچوں کے معاملات میں اگر کوئی فرق ہو تو ازراہِ کرم اسے بھی واضح فرما دیں ۔ (۴)کیا اس رقم سے اسکول کے لیے زمین یا عمارت خریدی جا سکتی ہے؟ (۵) اگر سوال نمبر (۱) اور (۴)کا جواب نفی میں ہو تو پہلے خرچ شدہ روپے کا کیا ہوگا یعنی اس کے احکام زکاۃ دہندگان پر ہوں گے یا انجمن پر جب کہ انجمن کہاں خرچ کرتی ہے ۔ یہ چندہ دینے والے جانتے ہوں؟ آخر میں ایک التجا یہ ہے کہ اگر جواب میں آپ کوئی عربی عبارت نقل کریں تو از راہِ کرم اس کا ترجمہ بھی عنایت فرما دیں۔ ہم آپ کے جواب کے منتظر ہیں اور فی الوقت یہ کام روکے بیٹھے ہیں اس لیے آپ سے التماس ہے کہ جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں ۔ بینوا تو جروا۔ والسلام ۔ حکم شرعی: (۱)زکاۃ در اصل مسلم فقرا اور مساکین کا حق ہے ۔ قرآن مجید میں ہے:اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآء ِ وَالْمَسٰکِیْنَ اس لیے اسکولوں اور کالجوں کے مد میں یا دنیاوی تعلیم کے مد میں اسے صرف کرنا فقرا اور مساکین کی حق تلفی ہے جو حرام و گناہ ہے ۔ اور اس کے لیے حیلہ کرنے کی بھی اجازت نہیں کیوں کہ حیلہ شرعی کی اجازت انتہائی مجبوری اور اضطرار کی صورت میں علوم دینیہ اور قربت کے لیے ہے ۔ اور دنیاوی تعلیم نہ علوم دینیہ سے ہے اور نہ امورِ قربت سے ۔ مدارس دینیہ میں صرف کرنے کی اجازت اس وجہ سے ہے کہ آج کے دور میں دینی علوم سے بے رغبتی اور بے توجہی عام ہے ۔ صرف عطیات کے بل بوتے دینی علوم کو محفوظ نہیں رکھا جاسکتا اور مدارس ضائع ہو جائیں گے تو یہ صورت علومِ دینیہ کی حفاظت کے لیے انتہائی مجبوری اور اضطرار کی ہوئی ۔ ساتھ ہی علوم دینیہ کا تحفظ اہم اور قربت سے ہے اس لیے یہاں حیلہ شرعیہ کی اجازت ہوئی ۔ شریعت کا ضابطہ کلیہ ہے الضرورات تبیح المحظورات۔ اس کے بر خلاف دنیاوی تعلیم کا تحفظ نہ امور قربت سے ہے اور نہ ہی اس کے لیے اضطرار کی صورت پائی جاتی ہے ۔ لہٰذا دنیاوی تعلیم کے لیے نہ حیلہ کریں اور نہ ہی اسے اس طرح کے امور میں صرف کریں ۔ ہاں یہ اجازت ہے کہ طالب علم عاقل بالغ ہو اور ساتھ ہی فقیر یا مسکین ہو تو براہِ راست زکاۃ کی رقم کا مالک بنا دیں اور اس سے گزارش کریں کہ وہ یہ رقم اپنی تعلیم میں صَرف کرے ۔ اس کے سوا ہر گز کوئی راہ نہ اپنائیں ۔ مثلاً چیک یا ڈرافٹ بنا کر اسکول میں بھیج دیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (۲ )یہ جذبہ بہت مستحسن ہے کہ اپنی قوم کے بچوں کا مستقبل سنوارا جائے تاکہ اپنی قوم زندگی کی دوڑ میں دوسری قوموں سے پیچھے نہ رہ جائے ۔ مگر یہ عمل بہت برا ہے کہ اس جذبہ خیر کی تکمیل کے لیے اپنی نجی رقوم کو صرف کرنے میں بخل کیا جائے اور غربا و مساکین کا مال اس میں صرف کر کے ان بے سہاروں کی حق تلفی کی جائے ۔ ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ ڈھائی فیصد رقم سے دنیا و آخرت کے ہر کام کر لینا چاہتی ہے اور ساڑھے ستانوے فیصد رقم اپنے پاس رکھ کر بھی آسودہ نہیں ہوتی ہے ۔اسلام نے دو نظام قائم کیے ہیں ۔
نظامِ زکاۃ و صدقات اور نظامِ عطیات۔ اور زکاۃ و صدقات واجبہ مفلسوں اور ناداروں کو اوپر اٹھانے کے لیے ہیں اور عطیات جنھیں صدقات نافلہ بھی کہتے ہیں دوسرے بہت سے امدادی اور فلاحی کاموں کے لیے ۔ اس لیے اہل خیر و اربابِ ثروت سے چندہ کر کے امدادی اور فلاحی کاموں کو انجام دیا جائے۔ اب تک زکاۃ کی جو رقوم دنیاوی تعلیم میں صرف ہو چکی ہے اگر کسی فقیر کے ذریعہ حیلہ کے بعد صرف ہوئی ہیں تو ان کا تاوان ذمہ میں واجب نہیں، گو ایسا کرنا برا ہے ۔ اس طور پر دنیاوی تعلیم میں زکاۃ کی رقم صرف کرنے والے توبہ کریں اور آئندہ بچیں ۔ مزید تحقیق و تفصیل کے لیے مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے فیصلے جو ماہ نامہ اشرفیہ میں شائع ہو چکے ہیں، مطالعہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔
Kutubahu & Verified by:
<h2>دنیاوی تعلیم کے مد میں زکوٰۃ کی رقم صَرف کرنا</h2> صورت مسئلہ: ہم چند احباب مل کر ایک انجمن چلاتے ہیں جو آٹھویں جماعت سے لے کر ڈاکٹری اور انجینئرنگ کے طلبہ و طالبات کی دنیاوی اعلیٰ تعلیم تک کی فیس کی اعانت کرتے ہیں اور ان کے اسکول یا کالج کی فیس چیک کی شکل میں ان کے متعلقہ ادارے کو بھجوا دیتے ہیں۔ اس کے لیے ہم جو روپے جمع کرتے ہیں اس کا اکثر حصہ زکوٰۃ کا ہوتا ہے جو ہم حیلہ شرعی کروا کر اکاونٹ میں جمع کردیتے ہیں اور ضرورت کے لحاظ سے چیک دیتے ہیں ۔ جن بچوں کو یہ فیس کی رقم دی جاتی ہے، ان کے والدین کی مالی استطاعت اتنی نہیں ہوتی کہ وہ یہ خرچ برداشت کر سکیں اور صرف آٹھویں جماعت کے بچے ایسے ہوتے ہیں جن میں کچھ بالغ اور کچھ نابالغ ہوتے ہیں، باقی ساری جماعتوں کے طلبہ یا طالبات بالغ ہوتے ہیں ۔ اب آپ سے دریافت طلب امور مندرجہ ذیل ہیں ۔ (۱)کیا زکوٰۃ کی رقم حیلہ شرعی کروانے کے بعد دنیاوی تعلیم کی مد میں خرچ کی جا سکتی ہے؟ (۲)کیا یہ کام کہ قوم دنیاوی معاملات میں کسے سے پچھڑ نہ جائے، مولا تعالیٰ کی خوش نودی کا ذریعہ نہ ہوگا؟ (۳)بالغ و نابالغ بچوں کے معاملات میں اگر کوئی فرق ہو تو ازراہِ کرم اسے بھی واضح فرما دیں ۔ (۴)کیا اس رقم سے اسکول کے لیے زمین یا عمارت خریدی جا سکتی ہے؟ (۵) اگر سوال نمبر (۱) اور (۴)کا جواب نفی میں ہو تو پہلے خرچ شدہ روپے کا کیا ہوگا یعنی اس کے احکام زکاۃ دہندگان پر ہوں گے یا انجمن پر جب کہ انجمن کہاں خرچ کرتی ہے ۔ یہ چندہ دینے والے جانتے ہوں؟ آخر میں ایک التجا یہ ہے کہ اگر جواب میں آپ کوئی عربی عبارت نقل کریں تو از راہِ کرم اس کا ترجمہ بھی عنایت فرما دیں۔ ہم آپ کے جواب کے منتظر ہیں اور فی الوقت یہ کام روکے بیٹھے ہیں اس لیے آپ سے التماس ہے کہ جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں ۔ بینوا تو جروا۔ والسلام ۔ <em><strong>حکم شرعی:</strong></em> (۱)زکاۃ در اصل مسلم فقرا اور مساکین کا حق ہے ۔ قرآن مجید میں ہے:اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآء ِ وَالْمَسٰکِیْنَ اس لیے اسکولوں اور کالجوں کے مد میں یا دنیاوی تعلیم کے مد میں اسے صرف کرنا فقرا اور مساکین کی حق تلفی ہے جو حرام و گناہ ہے ۔ اور اس کے لیے حیلہ کرنے کی بھی اجازت نہیں کیوں کہ حیلہ شرعی کی اجازت انتہائی مجبوری اور اضطرار کی صورت میں علوم دینیہ اور قربت کے لیے ہے ۔ اور دنیاوی تعلیم نہ علوم دینیہ سے ہے اور نہ امورِ قربت سے ۔ مدارس دینیہ میں صرف کرنے کی اجازت اس وجہ سے ہے کہ آج کے دور میں دینی علوم سے بے رغبتی اور بے توجہی عام ہے ۔ صرف عطیات کے بل بوتے دینی علوم کو محفوظ نہیں رکھا جاسکتا اور مدارس ضائع ہو جائیں گے تو یہ صورت علومِ دینیہ کی حفاظت کے لیے انتہائی مجبوری اور اضطرار کی ہوئی ۔ ساتھ ہی علوم دینیہ کا تحفظ اہم اور قربت سے ہے اس لیے یہاں حیلہ شرعیہ کی اجازت ہوئی ۔ شریعت کا ضابطہ کلیہ ہے <em><strong>الضرورات تبیح المحظورات</strong></em>۔ اس کے بر خلاف دنیاوی تعلیم کا تحفظ نہ امور قربت سے ہے اور نہ ہی اس کے لیے اضطرار کی صورت پائی جاتی ہے ۔ لہٰذا دنیاوی تعلیم کے لیے نہ حیلہ کریں اور نہ ہی اسے اس طرح کے امور میں صرف کریں ۔ ہاں یہ اجازت ہے کہ طالب علم عاقل بالغ ہو اور ساتھ ہی فقیر یا مسکین ہو تو براہِ راست زکاۃ کی رقم کا مالک بنا دیں اور اس سے گزارش کریں کہ وہ یہ رقم اپنی تعلیم میں صَرف کرے ۔ اس کے سوا ہر گز کوئی راہ نہ اپنائیں ۔ مثلاً چیک یا ڈرافٹ بنا کر اسکول میں بھیج دیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (۲ )یہ جذبہ بہت مستحسن ہے کہ اپنی قوم کے بچوں کا مستقبل سنوارا جائے تاکہ اپنی قوم زندگی کی دوڑ میں دوسری قوموں سے پیچھے نہ رہ جائے ۔ مگر یہ عمل بہت برا ہے کہ اس جذبہ خیر کی تکمیل کے لیے اپنی نجی رقوم کو صرف کرنے میں بخل کیا جائے اور غربا و مساکین کا مال اس میں صرف کر کے ان بے سہاروں کی حق تلفی کی جائے ۔ ہماری قوم کا المیہ یہ ہے کہ ڈھائی فیصد رقم سے دنیا و آخرت کے ہر کام کر لینا چاہتی ہے اور ساڑھے ستانوے فیصد رقم اپنے پاس رکھ کر بھی آسودہ نہیں ہوتی ہے ۔ <h3>اسلام نے دو نظام قائم کیے ہیں ۔</h3> نظامِ زکاۃ و صدقات اور نظامِ عطیات۔ اور زکاۃ و صدقات واجبہ مفلسوں اور ناداروں کو اوپر اٹھانے کے لیے ہیں اور عطیات جنھیں صدقات نافلہ بھی کہتے ہیں دوسرے بہت سے امدادی اور فلاحی کاموں کے لیے ۔ اس لیے اہل خیر و اربابِ ثروت سے چندہ کر کے امدادی اور فلاحی کاموں کو انجام دیا جائے۔ اب تک زکاۃ کی جو رقوم دنیاوی تعلیم میں صرف ہو چکی ہے اگر کسی فقیر کے ذریعہ حیلہ کے بعد صرف ہوئی ہیں تو ان کا تاوان ذمہ میں واجب نہیں، گو ایسا کرنا برا ہے ۔ اس طور پر دنیاوی تعلیم میں زکاۃ کی رقم صرف کرنے والے توبہ کریں اور آئندہ بچیں ۔ مزید تحقیق و تفصیل کے لیے مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے فیصلے جو ماہ نامہ اشرفیہ میں شائع ہو چکے ہیں، مطالعہ کریں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...