Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #553 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.2K Views

جنازہ اور عیدین وغیرہ میں اذان کیوں نہیں از مفتی شان محمد المصباحی القادری

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

جنازہ اور عیدین وغیرہ میں اذان کیوں نہیں از مفتی شان محمد المصباحی القادری

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

جنازہ اور عیدین وغیرہ میں اذان کیوں نہیں

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ نماز جنازہ اور تراویح وعیدین کی نماز میں اذان اور تکبیر کیوں نہیں ہوتی ہے؟ سائل:مدثر عالم کٹیہار بہار وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔ اذان نماز پنجگانہ اور جمعہ کیلئے سنت ہے اور اس کے علاوہ کیلئے سنت نہیں کہ اس کے علاوہ کیلئے سنت میں ورود نہیں ہوا ۔ ہدایہ میں ہے “اﻷﺫاﻥ ﺳﻨﺔ ﻟﻠﺼﻠﻮاﺕ اﻟﺨﻤﺲ ﻭاﻟﺠﻤﻌﺔ ﺩﻭﻥ ﻣﺎ ﺳﻮاﻫﺎ ﻟﻠﻨﻘﻞ اﻟﻤﺘﻮاﺗﺮ” (ج١،ص٤٣،ش) ردالمحتار میں ہے “ﻗﻮﻟﻪ ﻛﻌﻴﺪ ﺃﻱ ﻭ ﻭﺗﺮ ﻭﺟﻨﺎﺯﺓ ﻭ ﻛﺴﻮﻑ ﻭ اﺳﺘﺴﻘﺎء ﻭ ﺗﺮاﻭﻳﺢ ﻭ ﺳﻨﻦ ﺭﻭاﺗﺐ ﻷﻧﻬﺎ اﺗﺒﺎﻉ ﻟﻠﻔﺮاﺋﺾ ﻭاﻟﻮﺗﺮ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻭاﺟﺒﺎ ﻋﻨﺪﻩ ﻟﻜﻨﻪ ﻳﺆﺩﻯ ﻓﻲ ﻭﻗﺖ اﻟﻌﺸﺎء ﻓﺎﻛﺘﻔﻲ ﺑﺄﺫاﻧﻪ ﻻ ﻟﻜﻮﻥ اﻷﺫاﻥ ﻟﻬﻤﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﺼﺤﻴﺢ ﻛﻤﺎ ﺫﻛﺮﻩ اﻟﺰﻳﻠﻌﻲاﻩـ ﺑﺤﺮ ﻓﺎﻓﻬﻢ ﻟﻜﻦ ﻓﻲ اﻟﺘﻌﻠﻴﻞ ﻗﺼﻮﺭ ﻻﻗﺘﻀﺎﺋﻪ ﺳﻨﻴﺔ اﻷﺫاﻥ ﻟﻤﺎ ﻟﻴﺲ ﺗﺒﻌﺎ ﻟﻠﻔﺮاﺋﺾ ﻛﺎﻟﻌﻴﺪ ﻭﻧﺤﻮﻩ ﻓﺎﻟﻤﻨﺎﺳﺐ اﻟﺘﻌﻠﻴﻞ ﺑﻌﺪﻡ ﻭﺭﻭﺩﻩ ﻓﻲ اﻟﺴﻨﺔ ﺗﺄﻣﻞ” (ج٢،ص٦٣) واللہ تعالی اعلم کتبــــــہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری ٥ جون ٢٠٢٠

Kutubahu & Verified by:

<h2>جنازہ اور عیدین وغیرہ میں اذان کیوں نہیں</h2> السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ نماز جنازہ اور تراویح وعیدین کی نماز میں اذان اور تکبیر کیوں نہیں ہوتی ہے؟ سائل:مدثر عالم کٹیہار بہار وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ <strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔</strong> اذان نماز پنجگانہ اور جمعہ کیلئے سنت ہے اور اس کے علاوہ کیلئے سنت نہیں کہ اس کے علاوہ کیلئے سنت میں ورود نہیں ہوا ۔ ہدایہ میں ہے "اﻷﺫاﻥ ﺳﻨﺔ ﻟﻠﺼﻠﻮاﺕ اﻟﺨﻤﺲ ﻭاﻟﺠﻤﻌﺔ ﺩﻭﻥ ﻣﺎ ﺳﻮاﻫﺎ ﻟﻠﻨﻘﻞ اﻟﻤﺘﻮاﺗﺮ" <strong>(ج١،ص٤٣،ش)</strong> ردالمحتار میں ہے "ﻗﻮﻟﻪ ﻛﻌﻴﺪ ﺃﻱ ﻭ ﻭﺗﺮ ﻭﺟﻨﺎﺯﺓ ﻭ ﻛﺴﻮﻑ ﻭ اﺳﺘﺴﻘﺎء ﻭ ﺗﺮاﻭﻳﺢ ﻭ ﺳﻨﻦ ﺭﻭاﺗﺐ ﻷﻧﻬﺎ اﺗﺒﺎﻉ ﻟﻠﻔﺮاﺋﺾ ﻭاﻟﻮﺗﺮ ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻭاﺟﺒﺎ ﻋﻨﺪﻩ ﻟﻜﻨﻪ ﻳﺆﺩﻯ ﻓﻲ ﻭﻗﺖ اﻟﻌﺸﺎء ﻓﺎﻛﺘﻔﻲ ﺑﺄﺫاﻧﻪ ﻻ ﻟﻜﻮﻥ اﻷﺫاﻥ ﻟﻬﻤﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﺼﺤﻴﺢ ﻛﻤﺎ ﺫﻛﺮﻩ اﻟﺰﻳﻠﻌﻲاﻩـ ﺑﺤﺮ ﻓﺎﻓﻬﻢ ﻟﻜﻦ ﻓﻲ اﻟﺘﻌﻠﻴﻞ ﻗﺼﻮﺭ ﻻﻗﺘﻀﺎﺋﻪ ﺳﻨﻴﺔ اﻷﺫاﻥ ﻟﻤﺎ ﻟﻴﺲ ﺗﺒﻌﺎ ﻟﻠﻔﺮاﺋﺾ ﻛﺎﻟﻌﻴﺪ ﻭﻧﺤﻮﻩ ﻓﺎﻟﻤﻨﺎﺳﺐ اﻟﺘﻌﻠﻴﻞ ﺑﻌﺪﻡ ﻭﺭﻭﺩﻩ ﻓﻲ اﻟﺴﻨﺔ ﺗﺄﻣﻞ" <strong>(ج٢،ص٦٣)</strong> واللہ تعالی اعلم <strong>کتبــــــہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری</strong> ٥ جون ٢٠٢٠

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...