Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #557 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.9K Views

مسبوق امام کے قعدہ اخیرہ کے وقت تشہد و درودشریف پڑھے یا نہیں

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مسبوق امام کے قعدہ اخیرہ کے وقت تشہد و درودشریف پڑھے یا نہیں

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مسبوق کا تشہد و درود شریف کے بارے میں حکم

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ مسبوق امام کے قعدہ اخیرہ کے وقت تشہد و درودشریف پڑھے یا نہیں ؟ با حوالہ جواب عنایت فرمائیں۔ عین کرم ہوگا۔ المستفتی:محمدعبدالباری بہرائچ شریف۔ وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔ مسبوق قعدہ اولی ہو یا اخیرہ مکمل تشہد پڑھے کہ واجب ہے البتہ قعدہ اخیرہ میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھے تاکہ امام کے سلام کے وقت فارغ ہو اور اگر پہلے فارع ہو گیا تو کلمۂ شہادت کی تکرار کرے اور درود شریف پڑھنے کا حکم نہیں ۔ در مختار واجبات نماز میں ہے “ﻭاﻟﺘﺸﻬﺪاﻥ ﻭﻳﺴﺠﺪ ﻟﻠﺴﻬﻮ ﺑﺘﺮﻙ ﺑﻌﻀﻪ ﻛﻜﻠﻪ ﻭﻛﺬا ﻓﻲ ﻛﻞ ﻗﻌﺪﺓ ﻓﻲ اﻷﺻﺢ ﺇﺫ ﻗﺪ ﻳﺘﻜﺮﺭ ﻋﺸﺮا”(ردالمحتار،ج٢،ص١٩٦)۔ ردالمحتار میں ہے “ﻭﻟﻮ ﻓﺮﻍ اﻟﻤﺆﺗﻢ ﻗﺒﻞ ﺇﻣﺎﻣﻪ ﺳﻜﺖ اﺗﻔﺎﻗﺎ ﻭﺃﻣﺎ اﻟﻤﺴﺒﻮﻕ ﻓﻴﺘﺮﺳﻞ ﻟﻴﻔﺮﻍ ﻋﻨﺪ ﺳﻼﻡ ﺇﻣﺎﻣﻪ ﻭﻗﻴﻞ ﻳﺘﻢ ﻭﻗﻴﻞ ﻳﻜﺮﺭ ﻛﻠﻤﺔ اﻟﺸﻬﺎﺩﺓ” (ج٢،ص٢٧٠) بہار شریعت میں ہے “دونوں قعدوں میں پورا تشہد پڑھنا یوہیں جتنے قعدے کرنے پڑیں سب میں پورا تشہد واجب ہے ایک لفظ بھی اگر چھوڑے گا ترک واجب ہوگا” (ج٣،ص٥١٨) نیز اسی میں ہے”مقتدی قعدۂ اولیٰ میں امام سے پہلے تشہد پڑھ چکا تو سکوت کرے دُرود و دُعا کچھ نہ پڑھے اور مسبوق کو چاہیے کہ قعدۂ اخیرہ میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھے کہ امام کے سلام کے وقت فارغ ہو اور سلام سے پیشتر فارغ ہوگیا تو کلمۂ شہادت کی تکرار کرے” (ج٣،ص٥٢٠) واللہ تعالی اعلم کتبــــــہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری ٤نومبر ٢٠٢١

Kutubahu & Verified by:

<h2>مسبوق کا تشہد و درود شریف کے بارے میں حکم</h2> اسلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ مسبوق امام کے قعدہ اخیرہ کے وقت تشہد و درودشریف پڑھے یا نہیں ؟ با حوالہ جواب عنایت فرمائیں۔ عین کرم ہوگا۔ المستفتی:محمدعبدالباری بہرائچ شریف۔ وعلیکم السلام ورحمۃاللہ و برکاتہ <strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔</strong> مسبوق قعدہ اولی ہو یا اخیرہ مکمل تشہد پڑھے کہ واجب ہے البتہ قعدہ اخیرہ میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھے تاکہ امام کے سلام کے وقت فارغ ہو اور اگر پہلے فارع ہو گیا تو کلمۂ شہادت کی تکرار کرے اور درود شریف پڑھنے کا حکم نہیں ۔ در مختار واجبات نماز میں ہے "<strong>ﻭاﻟﺘﺸﻬﺪاﻥ ﻭﻳﺴﺠﺪ ﻟﻠﺴﻬﻮ ﺑﺘﺮﻙ ﺑﻌﻀﻪ ﻛﻜﻠﻪ ﻭﻛﺬا ﻓﻲ ﻛﻞ ﻗﻌﺪﺓ ﻓﻲ اﻷﺻﺢ ﺇﺫ ﻗﺪ ﻳﺘﻜﺮﺭ ﻋﺸﺮا"(ردالمحتار،ج٢،ص١٩٦)۔</strong> ردالمحتار میں ہے "<strong>ﻭﻟﻮ ﻓﺮﻍ اﻟﻤﺆﺗﻢ ﻗﺒﻞ ﺇﻣﺎﻣﻪ ﺳﻜﺖ اﺗﻔﺎﻗﺎ ﻭﺃﻣﺎ اﻟﻤﺴﺒﻮﻕ ﻓﻴﺘﺮﺳﻞ ﻟﻴﻔﺮﻍ ﻋﻨﺪ ﺳﻼﻡ ﺇﻣﺎﻣﻪ ﻭﻗﻴﻞ ﻳﺘﻢ ﻭﻗﻴﻞ ﻳﻜﺮﺭ ﻛﻠﻤﺔ اﻟﺸﻬﺎﺩﺓ"</strong> <strong>(ج٢،ص٢٧٠)</strong> بہار شریعت میں ہے "دونوں قعدوں میں پورا تشہد پڑھنا یوہیں جتنے قعدے کرنے پڑیں سب میں پورا تشہد واجب ہے ایک لفظ بھی اگر چھوڑے گا ترک واجب ہوگا" <strong>(ج٣،ص٥١٨)</strong> نیز اسی میں ہے"مقتدی قعدۂ اولیٰ میں امام سے پہلے تشہد پڑھ چکا تو سکوت کرے دُرود و دُعا کچھ نہ پڑھے اور مسبوق کو چاہیے کہ قعدۂ اخیرہ میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھے کہ امام کے سلام کے وقت فارغ ہو اور سلام سے پیشتر فارغ ہوگیا تو کلمۂ شہادت کی تکرار کرے" <strong>(ج٣،ص٥٢٠)</strong> واللہ تعالی اعلم <strong>کتبــــــہ : مفتی شان محمد المصباحی القادری</strong> ٤نومبر ٢٠٢١

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...