Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #568 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.7K Views

موبائل میں سے قران شریف کی آیت و احادیثِ کریمہ ڈیلیٹ کرنا کیساہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

موبائل میں سے قران شریف کی آیت و احادیثِ کریمہ ڈیلیٹ کرنا کیساہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

موبائل میں سے قران شریف کی آیت و احادیثِ کریمہ ڈیلیٹ کرنا کیساہے ؟

اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں يہ جو قرآن کى آيات اور احاديث تحرير کى صورت ميں بزريعہ ميسج سوشل ميڈيا پر سينڈ کى جاتى ہے اور اکثر لوگ اسکو ڈيليٹ کر ديتے ہيں اسکے بارے ميں شريعت کيا کہتے ہے۔ ۔ *المستفتی۔محمد عرفان رضا ممبر سنی مسـائل شـرعیـہ گــروپ وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ الجواب بعون الملک الوھابــــــ موبائل میں قرآن پاک لوڈ ہو اور احاديث کریمہ تحرير کى صورت ميں ہو تو بوقت ضرورت ڈلیٹ کرنا جائز ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ولو محَّا لوحاََ کتب فیہ القرآن و استعملہ فی امر الدنیا یجوز” (فتاوی عالمگیری جلد اول ص / ۳۲۲) موبائل فون کے ضروری مسائل ص نمبر ۱۵۷ میـں ہے کہ موبائل میں قرآن پاک لوڈ ہوتو بوقت ضرورت اسے ختم یعنی ” ڈیلیٹ (ᴅᴇʟᴇᴛᴇ) ” کرنا جائز ہے. لہذا خلاصہ کلام یہ ہے کہ موبائل سے آیات وأحاديث ڈیلیٹ کرتے وقت ہماری نیت غلط یعنی توہین کی نہیں ہوتی اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اور موبائل میں قرآن کی آیت اور احادیث کریمہ کو بوقت ضرورت ڈلیٹ کرسکتے ہیں ۔ والله تعالیٰ اعلم، بالصواب کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ محمد نورجمال رضـوی دینــاجپـوری. بنگال مؤرخہ:(۲۳)ربیع الاوّل ۲٤٤١؁ھ بروز منگل منجانب. سنی مسائل شرعیہ گروپ

Kutubahu & Verified by:

<h2>موبائل میں سے قران شریف کی آیت و احادیثِ کریمہ ڈیلیٹ کرنا کیساہے ؟</h2> اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ <strong>سوال :</strong> کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں يہ جو قرآن کى آيات اور احاديث تحرير کى صورت ميں بزريعہ ميسج سوشل ميڈيا پر سينڈ کى جاتى ہے اور اکثر لوگ اسکو ڈيليٹ کر ديتے ہيں اسکے بارے ميں شريعت کيا کہتے ہے۔ ۔ *المستفتی۔محمد عرفان رضا ممبر سنی مسـائل شـرعیـہ گــروپ وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ <strong>الجواب بعون الملک الوھابــــــ</strong> موبائل میں قرآن پاک لوڈ ہو اور احاديث کریمہ تحرير کى صورت ميں ہو تو بوقت ضرورت ڈلیٹ کرنا جائز ہے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ولو محَّا لوحاََ کتب فیہ القرآن و استعملہ فی امر الدنیا یجوز" (فتاوی عالمگیری جلد اول ص / ۳۲۲) موبائل فون کے ضروری مسائل ص نمبر ۱۵۷ میـں ہے کہ موبائل میں قرآن پاک لوڈ ہوتو بوقت ضرورت اسے ختم یعنی " ڈیلیٹ <strong>(ᴅᴇʟᴇᴛᴇ)</strong> " کرنا جائز ہے. لہذا خلاصہ کلام یہ ہے کہ موبائل سے آیات وأحاديث ڈیلیٹ کرتے وقت ہماری نیت غلط یعنی توہین کی نہیں ہوتی اس لئے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا اور موبائل میں قرآن کی آیت اور احادیث کریمہ کو بوقت ضرورت ڈلیٹ کرسکتے ہیں ۔ والله تعالیٰ اعلم، بالصواب <strong>کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ</strong> <strong>محمد نورجمال رضـوی دینــاجپـوری. بنگال</strong> مؤرخہ:(۲۳)ربیع الاوّل ۲٤٤١؁ھ بروز منگل منجانب. سنی مسائل شرعیہ گروپ

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...