وہ جس کی آمد سے چاروں جانب ہے جگ میں تازہ بہار تم ہو
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
وہ جس کی آمد سے چاروں جانب ہے جگ میں تازہ بہار تم ہو
وہ جس کے لطف و کرم کی کوئی نہ حد ہے نہ ہی شمار‘ تم ہو وہ جس کے دیدار کے لیے دل ہمارا ہے بے قرار‘ تم ہو
وہ جس کے دم سے گلوں میں نکہت، وہ جسکے رنگوں سے جگ میں رنگت وہ جس کے آنے سے گلشنِ دہر پہ ہے آیا نکھار‘ تم ہو
جو ’’کُنْ فَکَاں‘‘ کا سبب ہوا ہے وہی جو شاہِ عرب ہوا ہے وہی کہ جس کے قدم کے صدقے جہاں میں آئی بہار‘ تم ہو
جو تم نہیں تو اَماں نہیں ہے، مکیں نہیں ہے مکاں نہیں ہے سُرورِ دل، راحتِ جگر، قلبِ مضمحل کا قرار‘ تم ہو
گدا کو جو تاجدار کر دے خزاں کو تازہ بہار کر دے وہ جس کے لطف وکرم کی کوئی نہ حد ہے نہ ہی شمار‘ تم ہو
ہے چاروں جانب صداے ’’نفسی‘‘ سنے گا فریاد کون میری؟ تمھیں پکارا ہے اس لیے کہ شفیع روزِ شمار‘ تم ہو
جو مسکرا دو تو سحر جاگے نگہ جھکا دو تو رات آئے کہ جس کے صدقے میں چل رہا ہے نظامِ لیل و نَہار‘ تم ہو
دکھائے سورج کو آنکھ جس کے نگر کا ذرہ ہے ذات تیری ہیں ماہ وانجم سے خوب جس کی ڈگر کا گرد وغبار‘ تم ہو
تمھارا رتبہ ہے سب سے اعلیٰ ہے مرتبہ بعد رب تمھارا مکیں ہو تم لامکاں کے اور جو براق کا ہے سوار‘ تم ہو
نہ زر مِرے پاس ہے نہ پر ہے تمھاری رحمت پہ بس نظر ہے ہے عرضِ سرورؔ بلا لو در پر کہ دہر کے تاجدار‘ تم ہو
منتخب مدائح از: مولانا عبداللہ سرورؔ اعظمی نجمی مدرس: جامعہ حرا نجم العلوم، مہاپولی۔ مدیر: ماڈرن پرنٹرس، ممبئی۔
مزید مطالعہ کریں ۔۔۔۔۔ پیج پر جائیں ۔ نعت و منقبت و مسائل وغیرہ کا مطا لعہ کریں ۔