ضیاے ہر نظر تم ہو
جہاں میں تاجوَر تم ہو
ضیاے ہر نظر تم ہو
جو راہِ خلد بتلائے ہمارے راہبر تم ہو
بسے کیسے کوئی دل میں نگاہوں میں اگر تم ہو
تمھی ہو سیدِ خوباں شہِ جن وبشر تم ہو
ہے شیدا ہر کوئی تم پر نبیٔ بحر وبر تم ہو
تمھارے حکم میں ہر شَے
رسولِ خشک وتر تم ہو
جو پل میں سارے عالم کو
کرے زیر وزبر تم ہو
فزوں عرشِ مُعلّا سے
ہے جس کا سنگِ در تم ہو
فدا جس کے قدم پر سب
کریں لعل وگہر تم ہو
وہی جس کی ضیائوں سے
مُنوّر ہے سحر تم ہو
وہی جو یاد امت کو
کرے پچھلے پہر تم ہو
کرے جو اپنے بندوں کا
مقدر اَوج پر تم ہو
وہ در پہ کج کلہ جس کے
جھکا دیتے ہیں سر‘ تم ہو
لعابِ دہن سے جس کے
زہر ہو بے اثر تم ہو
ہو فخرِ آدم وایں دم
شہا! خیر البشر تم ہو
دلِ سرورؔ کو بھی جس نے
بنایا با ہُنر تم ہو
منتخب مدائح از: مولانا عبداللہ سرورؔ اعظمی نجمی مدرس: جامعہ حرا نجم العلوم، مہاپولی ۔ مدیر: ماڈرن پرنٹرس، ممبئی ۔ مزید مطالعہ کریں ۔۔۔۔۔۔۔