Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #628 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.3K Views

کافر مرتے وقت اگر ایمان لے آئے تو کیا حکم شرع ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کافر مرتے وقت اگر ایمان لے آئے تو کیا حکم شرع ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کافر مرتے وقت اگر ایمان لے آئے تو کیا حکم شرع ہے ؟

السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسٔلہ میں کہ کوئی کافر سادھو, مرتے وقت وصیت کرے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمداللہ کےرسول ہیں تو اس کے لیے کیا حکم ہے ایسے شخص کو ایمان پر خاتمہ ہوا یا کفرپر ۔ المستفتی : شفیع احمد نیپال وعلیکم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوہاب صورت مذکورہ میں جواب یہ ہےکہ مرتے وقت ایمان لانا معتبر نہیں اس لیے کہ اس وقت کافر کو بھی اسلام کے سچے ہونے کا یقین ہوجاتا ہے لیکن اُس وقت کا ایمان معتبر نہیں کیونکہ ایمان تو اللّٰہ تبارک و تعالٰی اور رسولﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر بـے دیکھے یقین کرنے کا نام ہے اور اب تو فرشتوں کو دیکھ کر کافر ایمان لاتا ہے اس لیے ایسے ایمان لانے سے مسلمان نہ ہوگا. چنانچہ, ارشاد خداوندی ہے فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ.فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَاؕ-سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖۚ-وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ (پارہ ۲۴ ، سورة المؤمن: آیت کریمہ ۸۴۔۸۵) ترجمہ کنزالایمان:- پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا بولے ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور جو اس کے شریک کرتے تھے ان سے منکر ہوئے تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا اللہ کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے ۔ نیز حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی امجد علی‌ اعظمی‌ علیہ الرحمۃ فرماتےہیں کہ ہر شخص کی جتنی زندگی مقرّر ہے اُس میں نہ زیادتی ہو سکتی ہے نہ کمی, جب زندگی کا وقت پورا ہو جاتا ہے، اُس وقت حضرت عزرائیل علیہ السلام قبض روح کے لیے آتے ہیں اور اُس شخص کے دہنے بائیں جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے فرشتے دکھائی دیتے ہیں ، مسلمان کے آس پاس رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں اور کافر کے دہنے بائیں عذاب کے اور اُس وقت ہر شخص پر اسلام کی حقّانیت آفتاب سے زیادہ روشن ہو جاتی ہے، مگر اُس وقت کا ایمان معتبر نہیں ، اس لیے کہ حکم ایمان بالغیب کا ہے اور اب غیب نہ رہا، بلکہ یہ چیزیں مشاہد ہو گئیں۔ ( بہار شریعت حصہ اول, ص۹۸, عالم برزخ کا بیان ,مکتبۃ المدینہ،). والله تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ:- اسیر حضور تاج الشریعہ محمــــــــد نورجمال رضــوی دینـــاجپـــوری. ۱۴ صفر المظفر -۱۴۴۳ہجری

Kutubahu & Verified by:

<h2>کافر مرتے وقت اگر ایمان لے آئے تو کیا حکم شرع ہے ؟</h2> السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسٔلہ میں کہ کوئی کافر سادھو, مرتے وقت وصیت کرے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں محمداللہ کےرسول ہیں تو اس کے لیے کیا حکم ہے ایسے شخص کو ایمان پر خاتمہ ہوا یا کفرپر ۔ المستفتی : شفیع احمد نیپال وعلیکم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوہاب</strong></span> صورت مذکورہ میں جواب یہ ہےکہ مرتے وقت ایمان لانا معتبر نہیں اس لیے کہ اس وقت کافر کو بھی اسلام کے سچے ہونے کا یقین ہوجاتا ہے لیکن اُس وقت کا ایمان معتبر نہیں کیونکہ ایمان تو اللّٰہ تبارک و تعالٰی اور رسولﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر بـے دیکھے یقین کرنے کا نام ہے اور اب تو فرشتوں کو دیکھ کر کافر ایمان لاتا ہے اس لیے ایسے ایمان لانے سے مسلمان نہ ہوگا. چنانچہ, ارشاد خداوندی ہے <strong><span style="color: #ff0000;">فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ.فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَاؕ-سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖۚ-وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ</span></strong> (پارہ ۲۴ ، سورة المؤمن: آیت کریمہ ۸۴۔۸۵) ترجمہ کنزالایمان:- پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھا بولے ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور جو اس کے شریک کرتے تھے ان سے منکر ہوئے تو ان کے ایمان نے انہیں کام نہ دیا جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا اللہ کا دستور جو اس کے بندوں میں گزر چکا اور وہاں کافر گھاٹے میں رہے ۔ نیز حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علامہ مفتی امجد علی‌ اعظمی‌ علیہ الرحمۃ فرماتےہیں کہ ہر شخص کی جتنی زندگی مقرّر ہے اُس میں نہ زیادتی ہو سکتی ہے نہ کمی, جب زندگی کا وقت پورا ہو جاتا ہے، اُس وقت حضرت عزرائیل علیہ السلام قبض روح کے لیے آتے ہیں اور اُس شخص کے دہنے بائیں جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے فرشتے دکھائی دیتے ہیں ، مسلمان کے آس پاس رحمت کے فرشتے ہوتے ہیں اور کافر کے دہنے بائیں عذاب کے اور اُس وقت ہر شخص پر اسلام کی حقّانیت آفتاب سے زیادہ روشن ہو جاتی ہے، مگر اُس وقت کا ایمان معتبر نہیں ، اس لیے کہ حکم ایمان بالغیب کا ہے اور اب غیب نہ رہا، بلکہ یہ چیزیں مشاہد ہو گئیں۔ ( بہار شریعت حصہ اول, ص۹۸, عالم برزخ کا بیان ,مکتبۃ المدینہ،). والله تعالیٰ اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ:- اسیر حضور تاج الشریعہ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>محمــــــــد نورجمال رضــوی دینـــاجپـــوری. ۱۴ صفر المظفر -۱۴۴۳ہجری</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...