01
The questionSawaal
اصل سوالپیشاب کی نالی میں کیتیھٹر داخل کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا ؟
02
The responseAl-Jawab
روزے کی حالت میں مریض کے پیشاب کی نالی میں کیتیھٹر داخل کرنے سے روزہ ٹوٹ جائے گا یا باقی رہے گا؟
جواب: روزہ کے اہم مسائل روزے کی حالت میں مرد کے پیشاب کی نالی میں کیتھیٹر داخل کرنے سے روزہ فاسد نہ ہوگا ۔ کیوں کہ پیشاب کی نالی سے دوا زیادہ سے زیادہ مثانہ تک پہنچے گی اور مثانہ و جوف معدہ کے درمیان کوئی منفذ نہیں ہے ۔ اس کے دلائل یہ ہیں: تبیین الحقائق میں ہے: قَالَ رَحِمَہُ اللّٰہُ ( وَإِنْ أَقْطَرَ فِی إحْلِیلِہٖ لَا ) أَیْ لَا یُفْطِرُ سَوَاء ٌ أَقْطَرَ فِیہِ الْمَاء َ أَوْ الدُّہْنَ ۔ وَہٰذَا عِنْدَ أَبِی حَنِیفَۃَ،وَقَالَ أَبُو یُوسُفَ: یُفَطِّرُہُ وَہُوَ رِوَایَۃٌ عَنْ أَبِی حَنِیفَۃَ.وَمُحَمَّدٌ تَوَقَّفَ فِیہِ . وَقِیلَ:ہُوَ مَعَ أَبِی یُوسُفَ.وَالْأَظْہَرُ أَنَّہُ مَعَ أَبِی حَنِیفَۃَ . وَہٰذَا الِاخْتِلَافُ مَبْنِیٌّ عَلَی أَنَّہُ ہَلْ بَیْنَ الْمَثَانَۃِ وَالْجَوْفِ مَنْفَذٌ أَمْ لَا. وَہُوَ لَیْسَ بِاخْتِلَافٍ عَلَی التَّحْقِیقِ.وَالْأَظْہَرُ أَنَّہُ لَا مَنْفَذَ لَہُ وَإِنَّمَا یَجْتَمِعُ الْبَوْلُ فِیہَا بِالتَّرْشِیْحِ کَذَا یَقُولُ الْأَطِبَّاء ُ۔ وَہٰذَا الِاخْتِلَافُ فِیمَا إذَا وَصَلَ إلَی الْمَثَانَۃِ وَأَمَّا إذَا لَمْ یَصِلْ بِأَنْ کَانَ فِی قَصَبَۃِ الذَّکَرِ بَعْدُ لَا یُفْطِرُ بِالْإِجْمَاعِ.وَبَعْضُہُمْ جَعَلَ الْمَثَانَۃَ نَفْسَہَا جَوْفًا عِنْدَ أَبِی یُوسُفَ.وَحَکَی بَعْضُہُمْ الْخِلَافَ مَا دَامَ فِی الْقَصَبَۃِ، وَلَیْسَا بِشَیْء ٍ. وَاخْتَلَفُوا فِی الْإِقْطَارِ فِی قُبُلِہَا وَالصَّحِیحُ الْفِطْرُ. (تبیین الحقائق: مایفسد الصوباب م وما لا یفسدہ ، ج2، ص183، 184، مطبع :برکات رضا، پوربندر، گجرات) فتاویٰ عالمگیری میں ہے: وإذا أَقْطَرَ فی إحْلِیلِہِ لَا یُفْسِدُ صَوْمَہُ عِنْدَ أبی حَنِیفَۃَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمَا اللہُ تَعَالیٰ. کَذَا فی الْمُحِیطِ سَوَاء ٌ أَقْطَرَ فیہ الْـمَـاء َ أو الدُّہْنَ… وفی الْإِقْطَارِ فی أَقْبَالِ النِّسَاء ِ یُفْسِدُ بِلَا خِلَافٍ وہو الصَّحِیحُ. ہٰکَذَا فی الظَّہِیرِیَّۃِ ۔ (فتاوی عالمگیری:ج1، ص224، کتاب الصوم ، الباب الرابع فیما یفسد و ما لا یفسد، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) اس کی ترجمانی بہارشریعت میں ان الفاظ میں ہے: مرد نے پیشاب کے سوراخ میں پانی یا تیل ڈالا توروزہ نہ گیا اگر چہ مثانہ تک پہنچ گیاہو ۔ اور عورت نے شرم گاہ میں ٹپکایا تو جاتارہا ۔ ۔ عالمگیری۔(حصہ پنجم : ص۹۸۷، روزہ توڑنے والی چیزوں کا بیان ،مکتبۃ المدینہ) در مختارمیں ہے: ولو أدخلت قطنۃ إن غابت فسد، وإن بقی طرفہا فی فرجہا الخارج لا ۔ ولو بالغ فی الاستنجاء حتی بلغ موضع الحقنۃ فسد ۔ (الدر المختار: ج3، ص369، کتاب الصوم ، باب ما یفسد الصوم و ما لا یفسدہ، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) فتاویٰ عالمگیری میں ہے: وَلَوْ أَدْخَلَ اصْبُعَہُ فی اسْتِہٖ أو الْـمَرْأَۃُ فی فَرْجِہَا لَا یَفْسُدُ وہو الْـمُخْتَارُ إلَّا إذَا کانت مُبْتَلَّۃً بِالْـمَاء ِ أو الدُّہْنِ فَحِینَئِذٍ یَفْسُدُ لِوُصُولِ الْـمَاء ِ أو الدُّہْنِ. ہٰکَذَا فی الظَّہِیرِیَّۃِ. (فتاوی عالمگیری: ج1، ص225، کتاب الصوم ، الباب الرابع فیما یفسد و ما لا یفسد، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) بہار شریعت میں اس کی ترجمانی ان الفاظ میں ہے: عورت نے پیشاب کے مقام میں روئی کا کپڑا رکھا ، اور بالکل باہر نہ رہا ، روزہ جاتا رہا ۔ اور خشک انگلی پاخانے کے مقام میں رکھی، یا عورت نے شرم گاہ میں تو روزہ نہ گیا ۔ اور بھیگی رکھی یا اُس پر کچھ لگا تھا تو جاتا رہا ۔ بشرطے کہ پاخانے کے مقام میں اُس جگہ رکھی ہو جہاں عمل دیتے وقت حُقنہ کا سرا رکھتے ہیں ۔ (بہار شریعت: ج۱ ، حصہ ۵، ص۹۸۶، روزہ توڑنے والی چیزوں کا بیان، مکتبۃ المدینہ) واللہ تعالیٰ اعلم ۔ مزید مطالعہ کریں ۔۔۔۔ روزہ کے اہم مسائلروزے کی حالت میں دمہ کے مریض کا انہیلر استعمال کرنا
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.