01
The questionSawaal
اصل سوالکیا مور کھانا حلال ہے ؟
02
The responseAl-Jawab
کیا مور کھانا حلال ہے ؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جی ہاں! مور کھانا حلال ہے. چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے : “ولابأس باکل الطاؤوس وعن الشعبی یکرہ اشد الکراھۃ وبالاول یفتی کذا فی الفتاویٰ الحامدیہ ” یعنی مور کھانے میں حرج نہیں ہے اور امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ وہ مور کھانے کو بہت سخت مکروہ قرار دیتے تھے اور پہلے قول پر (مور کے حلال ہونےپر) فتویٰ دیا جاتا ہے ایسے ہی فتاوی حامدیہ میں ہے. (فتاویٰ عالمگیری جلد 5 صفحہ 358 قدیمی کتب خانہ کراچی ) اسی طرح میزان الشعرانی اور فتاوی برہنہ میں بھی مور کھانے کو حلال لکھا گیا ہے. واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم والسلام کتبــــــــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی
D
Answered and reviewed by
Darul Ifta Scholar
Scholar & reviewer
Was this answer useful? Save or share it for later.