Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #658 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 11.8K Views

مرد و عورت کے لیے جھولا جھولنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مرد و عورت کے لیے جھولا جھولنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مردوعورت کے لیے جھولا جھولنا کیسا ہے ؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اگر جھولا راستے پر نہ ہو بلکہ گھر میں ہو تو مردوں کے لیے کوئی حرج نہیں اور اگر وہاں کوئی نامحرم (اجنبی مرد) نہ ہو تو عورتوں کے لیے بھی جائز ہے بلکہ بعض امراض میں جھولا جھولنا مفید ہوتا ہے ۔ چنانچہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : “مجھے اپنے نکاح کی کوئی خبر نہ تھی, میں اپنے مکان میں جھولا جھول رہی تھی کہ میری ماں مجھ کو اٹھا کر لے گئیں “. (سنن ابو داؤد کتاب الایمان حدیث نمبر 4937جلد 4 صفحہ 370 مُلَخَّصاًداراحیاء التراث العربی ) اسی طرح سیدی اعلحضرت امام احمدرضا خان رضی اللہُ عنہ سے سوال ہوا کہ تفریحا جھولا جھولنا کیسا ہے ؟ تو آپ نے یوں جواب ارشاد فرمایا کہ : “شارعِ عام پر نہ ہو, مکان میں ہو کچھ حرج نہیں, یہ تو بدن کی ریاضت ہے , بعض امراض میں اَطِبَّا (یعنی ڈاکٹر ) مفید بتاتے ہیں “۔ (ملفوظات اعلحضرت حصہ چہارم صفحہ 459 مکتبۃ المدینہ کراچی ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ : ابو اسید عبیدرضامدنی

Kutubahu & Verified by:

مردوعورت کے لیے جھولا جھولنا کیسا ہے ؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> اگر جھولا راستے پر نہ ہو بلکہ گھر میں ہو تو مردوں کے لیے کوئی حرج نہیں اور اگر وہاں کوئی نامحرم (اجنبی مرد) نہ ہو تو عورتوں کے لیے بھی جائز ہے بلکہ بعض امراض میں جھولا جھولنا مفید ہوتا ہے ۔ چنانچہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ : "مجھے اپنے نکاح کی کوئی خبر نہ تھی, میں اپنے مکان میں جھولا جھول رہی تھی کہ میری ماں مجھ کو اٹھا کر لے گئیں ". (سنن ابو داؤد کتاب الایمان حدیث نمبر 4937جلد 4 صفحہ 370 مُلَخَّصاًداراحیاء التراث العربی ) اسی طرح سیدی اعلحضرت امام احمدرضا خان رضی اللہُ عنہ سے سوال ہوا کہ تفریحا جھولا جھولنا کیسا ہے ؟ تو آپ نے یوں جواب ارشاد فرمایا کہ : "شارعِ عام پر نہ ہو, مکان میں ہو کچھ حرج نہیں, یہ تو بدن کی ریاضت ہے , بعض امراض میں اَطِبَّا (یعنی ڈاکٹر ) مفید بتاتے ہیں "۔ (ملفوظات اعلحضرت حصہ چہارم صفحہ 459 مکتبۃ المدینہ کراچی ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ : ابو اسید عبیدرضامدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...