Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #663 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.4K Views

کیاکوئی ایسی صورت بھی ہے جس میں غیراللہ کو مددگار ماننا کفروشرک ہو ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیاکوئی ایسی صورت بھی ہے جس میں غیراللہ کو مددگار ماننا کفروشرک ہو ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیاکوئی ایسی صورت بھی ہے جس میں غیراللہ کو مددگار ماننا کفروشرک ہو ؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ جی ہاں: ایسی تین صورتیں ہیں جن میں غیراللہ کومددگار ماننا کفر و شرک ہے جو کہ درج ذیل ہیں: (1)-اللہ کوکمزوروعاجزسمجھ کرکسی اورمددگاربنانا کہ اللہ مددنہیں کرسکتااورفلاں مددکرسکتاہے جیساکہ اللہ تعالیٰ نےارشادفرمایا: “وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیُّ مِنَ الذُّلِّ “ یعنی اورنہیں ہےاللہ کاکوئی ولی (مددگار)کمزوری کی بناءپر. (سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر111) (2)-خداکےمقابل کسی کومددگار جاننا یعنی اللہ عذاب وتکلیف دیناچاہتاہے اورولی اللہ کےمقابل آکراسکوبچالےگا جیساکہ اللہ عزوجل کاارشادِپاک ہے: “آوْلٰئِکَ لَمْ یَکُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَمَاکَانَ لَھُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآءَ “ یعنی یہ کفارخداکوعاجزنہیں کرسکتےزمین میں اورنہ کوئی خداکےمقابل ان کاولی (مددگار)ہے. (3)-غیراللہ کومددگارسمجھ کر اسکی عبادت کرنا چنانچہ اللہ تعالی نےفرمایا: “وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہ اَوْلِیَآءَ مَانَعْبُدُھُمْ اِلاّ لِیُقَرِّبُوْنَا اِلیَ اللّٰہِ زُلْفیٰ “ یعنی اورجنہوں نے رب کےسوا اور ولی (مددگار)بنائے, کہتےہیں ہم توانہیں نہیں پوجتے مگراس لیےکہ ہمیں وہ اللہ کےقریب کردیں ۔ توجوغیراللہ کوان تین صورتوں کی طرح مددگار مانے تووہ کافرومشرک اورمرتد ہے اور بدمذھب ان تینوں صورتوں کے متعلق وارد شدہ آیات پیش کرکے عوام الناس کودھوکہ وفریب دیتےہوئےمطلقاً غیراللہ سےمددکوکفروشرک قراردیتے ہیں حالانکہ خوداہلسنت وجماعت کےنزدیک بھی یہ تینوں صورتیں کفروشرک ہے اورانکےنزدیک جس صورت میں غیراللہ کومددگار ماننا جائز ہے اس کی ممانعت پر قرآن وحدیث سے کوئی دلیل نہیں بلکہ قرآن وحدیث اورصحابہ کرام وآئمہ ومحدثین سے اس کا جواز ثابت ہے اوروہ جوازی صورت یہ ہےکہ انبیاءاولیاء اللہ کی عطاء اور اس کی اجازت سے مدد کرتےہیں اوران کی مدد درحقیقت اللہ کی مددہے ۔ سیدی اعلحضرت علیہ الرحمہ نےایک شعر میں کیاخوب فرمایا: حکیم دادو دوا دیں یہ کچھ نہ دیں مردود یہ مراد کس آیت خبرکی ہے واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

Kutubahu & Verified by:

<h3>کیاکوئی ایسی صورت بھی ہے جس میں غیراللہ کو مددگار ماننا کفروشرک ہو ؟</h3> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> جی ہاں: ایسی تین صورتیں ہیں جن میں غیراللہ کومددگار ماننا کفر و شرک ہے جو کہ درج ذیل ہیں: (1)-اللہ کوکمزوروعاجزسمجھ کرکسی اورمددگاربنانا کہ اللہ مددنہیں کرسکتااورفلاں مددکرسکتاہے جیساکہ اللہ تعالیٰ نےارشادفرمایا: <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَلَمْ یَکُنْ لَہُ وَلِیُّ مِنَ الذُّلِّ "</strong></span> یعنی اورنہیں ہےاللہ کاکوئی ولی (مددگار)کمزوری کی بناءپر. (سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر111) (2)-خداکےمقابل کسی کومددگار جاننا یعنی اللہ عذاب وتکلیف دیناچاہتاہے اورولی اللہ کےمقابل آکراسکوبچالےگا جیساکہ اللہ عزوجل کاارشادِپاک ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>"آوْلٰئِکَ لَمْ یَکُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَمَاکَانَ لَھُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآءَ "</strong></span> یعنی یہ کفارخداکوعاجزنہیں کرسکتےزمین میں اورنہ کوئی خداکےمقابل ان کاولی (مددگار)ہے. (3)-غیراللہ کومددگارسمجھ کر اسکی عبادت کرنا چنانچہ اللہ تعالی نےفرمایا: <span style="color: #ff0000;"><strong>"وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہ اَوْلِیَآءَ مَانَعْبُدُھُمْ اِلاّ لِیُقَرِّبُوْنَا اِلیَ اللّٰہِ زُلْفیٰ "</strong></span> یعنی اورجنہوں نے رب کےسوا اور ولی (مددگار)بنائے, کہتےہیں ہم توانہیں نہیں پوجتے مگراس لیےکہ ہمیں وہ اللہ کےقریب کردیں ۔ توجوغیراللہ کوان تین صورتوں کی طرح مددگار مانے تووہ کافرومشرک اورمرتد ہے اور بدمذھب ان تینوں صورتوں کے متعلق وارد شدہ آیات پیش کرکے عوام الناس کودھوکہ وفریب دیتےہوئےمطلقاً غیراللہ سےمددکوکفروشرک قراردیتے ہیں حالانکہ خوداہلسنت وجماعت کےنزدیک بھی یہ تینوں صورتیں کفروشرک ہے اورانکےنزدیک جس صورت میں غیراللہ کومددگار ماننا جائز ہے اس کی ممانعت پر قرآن وحدیث سے کوئی دلیل نہیں بلکہ قرآن وحدیث اورصحابہ کرام وآئمہ ومحدثین سے اس کا جواز ثابت ہے اوروہ جوازی صورت یہ ہےکہ انبیاءاولیاء اللہ کی عطاء اور اس کی اجازت سے مدد کرتےہیں اوران کی مدد درحقیقت اللہ کی مددہے ۔ سیدی اعلحضرت علیہ الرحمہ نےایک شعر میں کیاخوب فرمایا: <span style="color: #339966;"><strong>حکیم دادو دوا دیں یہ کچھ نہ دیں </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>مردود یہ مراد کس آیت خبرکی ہے</strong></span> واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...