Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #722
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.2K Views
ہائی ڈپوزٹ پر گھر یا دوکان لینا جائز ہے یا نہیں ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
ہائی ڈپوزٹ پر گھر یا دوکان لینا جائز ہے یا نہیں ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
ہائی ڈپوزٹ پر گھر یا دوکان لینا جائز ہے یا نہیں ؟
سوال :ہائی ڈپوزٹ کا رواج ممبئی میں بڑھتا جا رہا ہے یہ جائز ہے یا ناجائز؟ کسی صاحب مکان کو لمبی رقم دے کر اس کا مکان لے لیتے ہیں پھر اسے کرائے پر دے کر نفع حاصل کرتے ہیں جب اس کی دی ہوئی لمبی رقم اسے واپس ملتی ہے تو یہ اسے اس کا مکان واپس کر دیتا ہے اس کو ہائی ڈپوزٹ کہا جاتا ہے مزید عرض ہے کہ اس لمبی رقم کی زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ ہائی ڈپوزٹ کا یہ معاملہ درحقیقت قرض اور سود کا معاملہ ہے۔ وہ لمبی رقم جسے ہائی ڈپوزٹ کہا جاتا ہے شرعا قرض ہے اور قرض دے کر مقروض کے مکان سے نفع حاصل کرنا سود ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ” کل قرض جر نفعا فھو ربوا ” قرض کی وجہ سے جو نفع ملے وہ سود ہے ۔ نالے پر زکوۃ قرض دینے والے پر فرض ہوتی ہے اس لیے قرض دینے والا اس کی زکوۃ ادا کرے، ساتھ ہی مقروض کے مکان سے اس نے جو نفع کمایا وہ بھی اسے واپس کرے ۔ و اللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
Kutubahu & Verified by:
<h2>ہائی ڈپوزٹ پر گھر یا دوکان لینا جائز ہے یا نہیں ؟</h2> سوال :ہائی ڈپوزٹ کا رواج ممبئی میں بڑھتا جا رہا ہے یہ جائز ہے یا ناجائز؟ کسی صاحب مکان کو لمبی رقم دے کر اس کا مکان لے لیتے ہیں پھر اسے کرائے پر دے کر نفع حاصل کرتے ہیں جب اس کی دی ہوئی لمبی رقم اسے واپس ملتی ہے تو یہ اسے اس کا مکان واپس کر دیتا ہے اس کو ہائی ڈپوزٹ کہا جاتا ہے مزید عرض ہے کہ اس لمبی رقم کی زکوٰۃ کس پر فرض ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> ہائی ڈپوزٹ کا یہ معاملہ درحقیقت قرض اور سود کا معاملہ ہے۔ وہ لمبی رقم جسے ہائی ڈپوزٹ کہا جاتا ہے شرعا قرض ہے اور قرض دے کر مقروض کے مکان سے نفع حاصل کرنا سود ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ <span style="color: #ff0000;"><strong>'' کل قرض جر نفعا فھو ربوا ''</strong></span> قرض کی وجہ سے جو نفع ملے وہ سود ہے ۔ نالے پر زکوۃ قرض دینے والے پر فرض ہوتی ہے اس لیے قرض دینے والا اس کی زکوۃ ادا کرے، ساتھ ہی مقروض کے مکان سے اس نے جو نفع کمایا وہ بھی اسے واپس کرے ۔ و اللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...