Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #724 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 9.4K Views

شوال کے روزے کب رکھے جائیں؟ از مفتی نظام الدین رضوی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شوال کے روزے کب رکھے جائیں؟ از مفتی نظام الدین رضوی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شوال کے روزے کب رکھے جائیں؟

الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ عید کے بعد دوسرے دن سے جب چاہیں یہ روزے رکھ سکتے ہیں، بس یہ لحاظ رہنا چاہیے کہ ماہ شوال میں یہ روزے مکمل کر لیے جائیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلقا شوال میں روزے رکھنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے ۔ مثلا صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا ” جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر ان کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو وہ ایسا ہے جیسے اس نے زمانے کا روزہ رکھا ۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صوم ستۃ ایام من شوال) اس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ فضیلت شوال میں چھہ روزے رکھنے کی ہے اور جب یہ ترغیب مطلق ہے تو پورے شوال میں ایک ساتھ یا الگ یہ روزے رکھے گا اختیار ہے ہاں اگر ایک ایک دن کے ناغے سے تو یہ بہتر ہے ۔ اگر عورتوں کو روزے رکھنے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ وہ ایام عورتوں کی پاکی کے ہوں یعنی نہ تو حیض کا خون آ رہا ہوں اور نہ نفاس کا خون آرہا ہوں ان دونوں کے علاوہ وہ جب چاہیں پورے شوال میں روزے رکھ سکتی ہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>شوال کے روزے کب رکھے جائیں؟</h2> <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> عید کے بعد دوسرے دن سے جب چاہیں یہ روزے رکھ سکتے ہیں، بس یہ لحاظ رہنا چاہیے کہ ماہ شوال میں یہ روزے مکمل کر لیے جائیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلقا شوال میں روزے رکھنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے ۔ مثلا صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا '' جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر ان کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو وہ ایسا ہے جیسے اس نے زمانے کا روزہ رکھا ۔ <span style="color: #339966;"><strong>(صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صوم ستۃ ایام من شوال)</strong></span> اس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ فضیلت شوال میں چھہ روزے رکھنے کی ہے اور جب یہ ترغیب مطلق ہے تو پورے شوال میں ایک ساتھ یا الگ یہ روزے رکھے گا اختیار ہے ہاں اگر ایک ایک دن کے ناغے سے تو یہ بہتر ہے ۔ اگر عورتوں کو روزے رکھنے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ وہ ایام عورتوں کی پاکی کے ہوں یعنی نہ تو حیض کا خون آ رہا ہوں اور نہ نفاس کا خون آرہا ہوں ان دونوں کے علاوہ وہ جب چاہیں پورے شوال میں روزے رکھ سکتی ہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...