Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #760 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 13.6K Views

مری ہوئ مچھلی کھانا کیوں حلال ہے ؟ / مری ہوئی مچھلی کی وجہ ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

مری ہوئ مچھلی کھانا کیوں حلال ہے ؟ / مری ہوئی مچھلی کی وجہ ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

مری ہوئ مچھلی کھانا کیوں حلال ہے ؟

سوال : مردار کھانا اسلام میں حرام ہے جب کہ مچھلی ہم مری ہوئی کھاتے ہیں اس میں کیا حکمت ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ مری ہوئی مچھلی کیوں حلال ہے تو یہ اللہ جانے اور اللہ کے رسول جانیں، ہمارے لیے تو حدیث پاک حجت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ” احلت لنا میتتان السمک والجراد ” ہمارے لیے دو مردار حلال کئے گئے ایک مچھلی اور دوسری ٹڈی لہذا حضور نے جو فرمایا اس پر ہمارا ایمان ہے ۔ حکمت یہ ہوسکتی ہے کہ دوسرے جانور جنہیں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کے اندر بہتا ہوا خون پایا جاتا ہے اور بہتے ہوئے خون میں یورک ایسڈ یعنی تیزابی مادہ پایا جاتا ہے، اس کو کھانے سے تیزابی کیفیت پیدا ہو گی جس سے بیماریاں پیدا ہو نگی اور جسم کے جوڑوں میں درد ہوگا ۔ اس لیے حکم ہے کہ ان کو ذبح کرکے خون بہا دیا جائے اور مچھلی میں کوئی خون پایا نہیں جاتا جس میں یورک ایسیڈ ہو یا تیزابی کیفیت ہو جو نقصان دہ ہوں اس لیے مچھلی کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں یہی حال ٹڈی کا بھی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>مری ہوئ مچھلی کھانا کیوں حلال ہے ؟</h2> سوال : مردار کھانا اسلام میں حرام ہے جب کہ مچھلی ہم مری ہوئی کھاتے ہیں اس میں کیا حکمت ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> مری ہوئی مچھلی کیوں حلال ہے تو یہ اللہ جانے اور اللہ کے رسول جانیں، ہمارے لیے تو حدیث پاک حجت ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا <span style="color: #ff0000;"><strong>'' احلت لنا میتتان السمک والجراد ''</strong></span> ہمارے لیے دو مردار حلال کئے گئے ایک مچھلی اور دوسری ٹڈی لہذا حضور نے جو فرمایا اس پر ہمارا ایمان ہے ۔ حکمت یہ ہوسکتی ہے کہ دوسرے جانور جنہیں ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کے اندر بہتا ہوا خون پایا جاتا ہے اور بہتے ہوئے خون میں یورک ایسڈ یعنی تیزابی مادہ پایا جاتا ہے، اس کو کھانے سے تیزابی کیفیت پیدا ہو گی جس سے بیماریاں پیدا ہو نگی اور جسم کے جوڑوں میں درد ہوگا ۔ اس لیے حکم ہے کہ ان کو ذبح کرکے خون بہا دیا جائے اور مچھلی میں کوئی خون پایا نہیں جاتا جس میں یورک ایسیڈ ہو یا تیزابی کیفیت ہو جو نقصان دہ ہوں اس لیے مچھلی کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں یہی حال ٹڈی کا بھی ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...