Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #761
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
13.7K Views
مرغی کا چمڑا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ / مرغی کا گوشت چمڑے کے ساتھ کھانا
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
مرغی کا چمڑا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ / مرغی کا گوشت چمڑے کے ساتھ کھانا
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
مرغی کا چمڑا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟
سوال : مارکیٹ میں مرغی ذبح کرنے کے فورا بعد پانی ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے اسکا پر آسانی کے ساتھ نکل جاتا ہے اور پھر لوگ چمڑے کے ساتھ اس کا گوشت کھا جاتے ہیں اس بارے میں حکم شرع کیا ہے ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ مرغ کو ذبح کرنے کے بعد عام طور پر جو یہ طریقہ پایا جاتا ہے کہ اسے کھولتے پانی میں ڈال دیا جاتا ہے ایسا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ شرعی حکم کا احترام کرتے ہوئے یہ طریقہ اپنانا چاہیئے کہ گرم پانی میں ڈالنے سے پہلے پیٹ چاک کرکے غلاظت وغیرہ نکال دیں اور بدن پر لگی نجاست صاف کر دیں اور محل ذبح پر جو خون لگا ہوا ہے اسے دھو کر گرم پانی میں ڈالیں اور تھوڑی دیر بعد نکال کر پر صاف کر دیں تو اس کو کھال کے ساتھ کھانا جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت اور قباحت نہیں، ہاں بغیر نجاست دور کئے اور صاف کئےاس کو پانی میں ڈال دیا تو اب اس مرغ کا سارا بدن اوپر سے ناپاک ہو جاتا ہے اس وجہ سے اسے بغیر دھوئے کھال کے ساتھ کھانا ناجائز ہے کہ یہ ناپاک کھال کو کھانا ہوگا. جب کھال ناپاک ہے تو اس کی وجہ سے شوربا، پھر گوشت بھی ناپاک ہوگا کہ ناپاک پانی گوشت کے اندر سرایت کر جائے گا. ہاں اگر پہلے تین بار دھو کرپاک کر لیں پھر پکائیں تو کھال کے ساتھ بھی کھانا حلال ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
Kutubahu & Verified by:
<h2>مرغی کا چمڑا کھانا جائز ہے یا نہیں ؟</h2> سوال : مارکیٹ میں مرغی ذبح کرنے کے فورا بعد پانی ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے اسکا پر آسانی کے ساتھ نکل جاتا ہے اور پھر لوگ چمڑے کے ساتھ اس کا گوشت کھا جاتے ہیں اس بارے میں حکم شرع کیا ہے ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> مرغ کو ذبح کرنے کے بعد عام طور پر جو یہ طریقہ پایا جاتا ہے کہ اسے کھولتے پانی میں ڈال دیا جاتا ہے ایسا نہیں کرنا چاہیے، بلکہ شرعی حکم کا احترام کرتے ہوئے یہ طریقہ اپنانا چاہیئے کہ گرم پانی میں ڈالنے سے پہلے پیٹ چاک کرکے غلاظت وغیرہ نکال دیں اور بدن پر لگی نجاست صاف کر دیں اور محل ذبح پر جو خون لگا ہوا ہے اسے دھو کر گرم پانی میں ڈالیں اور تھوڑی دیر بعد نکال کر پر صاف کر دیں تو اس کو کھال کے ساتھ کھانا جائز ہے اور اس میں کوئی کراہت اور قباحت نہیں، ہاں بغیر نجاست دور کئے اور صاف کئےاس کو پانی میں ڈال دیا تو اب اس مرغ کا سارا بدن اوپر سے ناپاک ہو جاتا ہے اس وجہ سے اسے بغیر دھوئے کھال کے ساتھ کھانا ناجائز ہے کہ یہ ناپاک کھال کو کھانا ہوگا. جب کھال ناپاک ہے تو اس کی وجہ سے شوربا، پھر گوشت بھی ناپاک ہوگا کہ ناپاک پانی گوشت کے اندر سرایت کر جائے گا. ہاں اگر پہلے تین بار دھو کرپاک کر لیں پھر پکائیں تو کھال کے ساتھ بھی کھانا حلال ہوگا ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...