Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #61 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 7.7K Views

فاسق کو نماز میں مبلغ (مکبر) بنانے کا حکم / مکبر کون بن سکتا ہے

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

فاسق کو نماز میں مبلغ (مکبر) بنانے کا حکم / مکبر کون بن سکتا ہے

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

فاسق کو نماز میں مبلغ (مکبر) بنانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان دو مسئلوں میں کہ (1) ایک شخص نے مسجد میں فجر کے وقت سنت پڑھ لی اور دوسرے نےسنت اور فرض دونوں پڑھ لی جبکہ اذان ابھی نہیں ہوئی تھی اور وقت ہوگیا تھا ۔ اس گاوں میں اس کے علاوہ کوئی مسجد بھی نہیں البتہ دوسری جگہوں کی آواز آتی ہے تو ان نمازیوں کی نماز کا کیا حکم ہوگا ؟ (2) امام کے پیچھے تکبیرہوجانے کےبعد تکبیرات انتقال کی آواز جن مقتدیوں تک نہیں پہوچتی ۔ ان تک آواز پہوچانے کے لئے جو مکبر لگائے جاتے ہیں .کیا ان کے لئے بھی وہی شرائط ہیں جو امام کے لئے ہیں یا نہیں ۔ مثلا ان کا بھی فاسق معلن نہ ہونا ضروری ہے کہ نہیں ؟ سائل …..محمد فرید رضا اسمٰعیلی بہرائچ شریف یوپی الجواب: جواب نمبر(١) جس نے وقت فجر ہوجانے کے بعد مسجد میں رہتے ہوئے سنت اور فرض دونوں پڑھ لیے اس نے اولاً جماعت ترک کی جو کہ واجب ہے ۔ اور جس کا ترک گناہ ہے اور ثانیاً وقت نماز ہوجانے کے بعد اپنی فرض نماز پڑھ کر بغیر شرکت جماعت کی نیت کے مسجد سے نکلنے کا راستہ اختیار کیا اور یہ بھی مکروہ ہے ۔ لیکن اس کی نمازیں بہر حال ہوگئیں فرض ذمہ سے اتر گیا اور اب اس کے لیے یہ بھی گنجائش نہیں کہ فجر کی جماعت میں شامل ہو ۔ کیوں کہ جب وہ فرض پڑھ چکا ہے تو اب فجر کی جماعت میں نفل کی نیت سے ہی شامل ہوسکےگا اور فجر کے پورے وقت میں سوا دو رکعت سنتِ فجر کے اور نفل نماز مکروہ ہے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “جب یہ جماعت جماعت نہیں تو دقیق نظر حاکم کہ ان کا یہ فعل بعد دخول وقت مسجد سے بے نیت شہود جماعت باہرجانا ہوا یہ بھی مکروہ”۔ (فتاوی رضویہ ج٣ص٣٢٨) پھر ایک حدیث ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں: “درمختار میں ہے:کرہ تحریما للنھی خروج من لم یصل من مسجد اذن فیہ جری علی الغالب والمراد دخول الوقت اذن فیہ اولا ۔ بحرالرائق میں ہے:الظاھر من الخروج من غیرصلاۃ عدم الصلوٰۃ مع الجماعۃ” (ایضا) فتاوی عالم گیری میں نفل کے اوقات مکروہہ کے بیان میں ہے : “منہا ما بعد طلوع الفجر قبل صلاة الفجر ۔ کذا فی النہایة والکفایة، یکرہ فیہا التطوع باکثر من سنة الفجر”(فتاوی ہندیہ ج١ ص۵٢) اسی میں ہے: “ومنہا ما بعد صلاة الفجر قبل طلوع الشمس، ہکذا فی النہایة والکفایة”(ایضا ص۵٣) اور جس نے اذان سے پہلے سنت پڑھ لی اس کی سنت ادا ہوگئی وہ اذان کے بعد فجر کی جماعت میں شریک ہو ۔ سنت دوبارہ پڑھنے کی اجازت نہیں ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ جواب نمبر(٢): فاسق کو نماز میں مبلغ (مکبر) بنانے کا حکم جو لوگ مکبر بنائے جائیں ان میں یہ لحاظ ضرور ہوگا کہ وہ فاسق نہ ہوں۔ اس لیے کہ ان کی آواز پر اعتماد کرتے ہوئےنمازیوں کا انتقالات کرنا بابِ دیانات سے ہے ۔ اور دیانات میں فاسق کی بات نامعتبر ہے، جس طرح سے فاسق کی اذان کو مکروہ قرار دیا گیاہے ۔ اور اسی وجہ سے فاسق کی دی ہوئی اذان کے اعادہ کا حکم ہے ۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “[تنْبِيهٌ] يُؤْخَذُ مِمَّا قَدَّمْنَاهُ مِنْ أَنَّهُ لَا يَحْصُلُ الْإِعْلَامُ مِنْ غَيْرِ الْعَدْلِ وَلَا يُقْبَلُ قَوْلُهُ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الِاعْتِمَادُ عَلَى الْمُبَلِّغِ الْفَاسِقِ خَلْفَ الْإِمَامِ كَمَا نَبَّهَ عَلَيْهِ بَعْضُ الشَّافِعِيَّةِ، فَتَنَبَّهْ لِهَذِهِ الدَّقِيقَةِ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ”(ردالمحتارج٢) امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: “ظاہر ہے کہ فاسق امین نہیں ہوسکتا ولہذا مقصود اذان کہ اعلام باوقات نماز وسحری وافطار ہے فاسق کی اذان سے حاصل نہیں ہوسکتا ۔ تنویر میں ہے: یجوز اذان صبی مراھق وعبد واعمی” تبیین الحقائق میں ہے:لان قولہم مقبول فی الامور الدینیۃ، فیکون ملزماً، فیحصل بہ الاعلام بخلاف الفاسق” (فتاوی رضویہ ج٢ص۴٢۴) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی،یوپی۔ ٦/رمضان المبارک ١۴۴٢ھ// ١٩/اپریل ٢٠٢١ھ

Alimi Darul Ifta from Jamia Alimia

وہابی امام کے پیچھے نماز اور کھڑے ہوکر اقامت سننے کا حکم

روزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کرانایا بلڈبینک میں عطیہ دینا

Hamare Official Youtube Channel ko visit kare . https://www.youtube.com/channel/UCXM6Lm-1edfDjHSEh5TIA6A  

Kutubahu & Verified by:

<h2>فاسق کو نماز میں مبلغ (مکبر) بنانے کا حکم</h2> کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان دو مسئلوں میں کہ (1) ایک شخص نے مسجد میں فجر کے وقت سنت پڑھ لی اور دوسرے نےسنت اور فرض دونوں پڑھ لی جبکہ اذان ابھی نہیں ہوئی تھی اور وقت ہوگیا تھا ۔ اس گاوں میں اس کے علاوہ کوئی مسجد بھی نہیں البتہ دوسری جگہوں کی آواز آتی ہے تو ان نمازیوں کی نماز کا کیا حکم ہوگا ؟ (2) امام کے پیچھے تکبیرہوجانے کےبعد تکبیرات انتقال کی آواز جن مقتدیوں تک نہیں پہوچتی ۔ ان تک آواز پہوچانے کے لئے جو مکبر لگائے جاتے ہیں .کیا ان کے لئے بھی وہی شرائط ہیں جو امام کے لئے ہیں یا نہیں ۔ مثلا ان کا بھی فاسق معلن نہ ہونا ضروری ہے کہ نہیں ؟ سائل .....محمد فرید رضا اسمٰعیلی بہرائچ شریف یوپی <em><strong>الجواب: جواب نمبر(١) </strong></em> جس نے وقت فجر ہوجانے کے بعد مسجد میں رہتے ہوئے سنت اور فرض دونوں پڑھ لیے اس نے اولاً جماعت ترک کی جو کہ واجب ہے ۔ اور جس کا ترک گناہ ہے اور ثانیاً وقت نماز ہوجانے کے بعد اپنی فرض نماز پڑھ کر بغیر شرکت جماعت کی نیت کے مسجد سے نکلنے کا راستہ اختیار کیا اور یہ بھی مکروہ ہے ۔ لیکن اس کی نمازیں بہر حال ہوگئیں فرض ذمہ سے اتر گیا اور اب اس کے لیے یہ بھی گنجائش نہیں کہ فجر کی جماعت میں شامل ہو ۔ کیوں کہ جب وہ فرض پڑھ چکا ہے تو اب فجر کی جماعت میں نفل کی نیت سے ہی شامل ہوسکےگا اور فجر کے پورے وقت میں سوا دو رکعت سنتِ فجر کے اور نفل نماز مکروہ ہے ۔ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "جب یہ جماعت جماعت نہیں تو دقیق نظر حاکم کہ ان کا یہ فعل بعد دخول وقت مسجد سے بے نیت شہود جماعت باہرجانا ہوا یہ بھی مکروہ"۔ (فتاوی رضویہ ج٣ص٣٢٨) پھر ایک حدیث ذکر کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں: "درمختار میں ہے:کرہ تحریما للنھی خروج من لم یصل من مسجد اذن فیہ جری علی الغالب والمراد دخول الوقت اذن فیہ اولا ۔ <em><strong>بحرالرائق میں ہے:الظاھر من الخروج من غیرصلاۃ عدم الصلوٰۃ مع الجماعۃ" (ایضا)</strong></em> فتاوی عالم گیری میں نفل کے اوقات مکروہہ کے بیان میں ہے : "منہا ما بعد طلوع الفجر قبل صلاة الفجر ۔ کذا فی النہایة والکفایة، یکرہ فیہا التطوع باکثر من سنة الفجر"(فتاوی ہندیہ ج١ ص۵٢) اسی میں ہے: "ومنہا ما بعد صلاة الفجر قبل طلوع الشمس، ہکذا فی النہایة والکفایة"(ایضا ص۵٣) اور جس نے اذان سے پہلے سنت پڑھ لی اس کی سنت ادا ہوگئی وہ اذان کے بعد فجر کی جماعت میں شریک ہو ۔ سنت دوبارہ پڑھنے کی اجازت نہیں ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ جواب نمبر(٢): فاسق کو نماز میں مبلغ (مکبر) بنانے کا حکم جو لوگ مکبر بنائے جائیں ان میں یہ لحاظ ضرور ہوگا کہ وہ فاسق نہ ہوں۔ اس لیے کہ ان کی آواز پر اعتماد کرتے ہوئےنمازیوں کا انتقالات کرنا بابِ دیانات سے ہے ۔ اور دیانات میں فاسق کی بات نامعتبر ہے، جس طرح سے فاسق کی اذان کو مکروہ قرار دیا گیاہے ۔ اور اسی وجہ سے فاسق کی دی ہوئی اذان کے اعادہ کا حکم ہے ۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "[تنْبِيهٌ] يُؤْخَذُ مِمَّا قَدَّمْنَاهُ مِنْ أَنَّهُ لَا يَحْصُلُ الْإِعْلَامُ مِنْ غَيْرِ الْعَدْلِ وَلَا يُقْبَلُ قَوْلُهُ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الِاعْتِمَادُ عَلَى الْمُبَلِّغِ الْفَاسِقِ خَلْفَ الْإِمَامِ كَمَا نَبَّهَ عَلَيْهِ بَعْضُ الشَّافِعِيَّةِ، فَتَنَبَّهْ لِهَذِهِ الدَّقِيقَةِ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ"(ردالمحتارج٢) امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "ظاہر ہے کہ فاسق امین نہیں ہوسکتا ولہذا مقصود اذان کہ اعلام باوقات نماز وسحری وافطار ہے فاسق کی اذان سے حاصل نہیں ہوسکتا ۔ تنویر میں ہے: یجوز اذان صبی مراھق وعبد واعمی" تبیین الحقائق میں ہے:لان قولہم مقبول فی الامور الدینیۃ، فیکون ملزماً، فیحصل بہ الاعلام بخلاف الفاسق" (فتاوی رضویہ ج٢ص۴٢۴) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ: محمد نظام الدین قادری: خادم درس وافتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی،یوپی۔ ٦/رمضان المبارک ١۴۴٢ھ// ١٩/اپریل ٢٠٢١ھ <p style="text-align: left;"><em><strong>Alimi Darul Ifta from Jamia Alimia</strong></em></p> <!--more--> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=256" rel="bookmark">وہابی امام کے پیچھے نماز اور کھڑے ہوکر اقامت سننے کا حکم</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=250" rel="bookmark">روزے کی حالت میں خون ٹیسٹ کرانایا بلڈبینک میں عطیہ دینا</a></h2> Hamare Official Youtube Channel ko visit kare . https://www.youtube.com/channel/UCXM6Lm-1edfDjHSEh5TIA6A  

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...