Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #777 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 5.5K Views

کیا کافر کو قرض دے کر اس سے سود لے سکتے ہیں ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا کافر کو قرض دے کر اس سے سود لے سکتے ہیں ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا کافر کو قرض دے کر اس سے سود لے سکتے ہیں ؟

سوال : کیا کافر کو قرض دے کر اس سے زیادہ لینا جائز ہے جبکہ مومن سے نہیں ۔ اور یہ معلوم نہیں کہ وہ کونسا کافر ہے، حربی، ذمی یا مستامن، اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ یہاں ہندوستان میں حربی، ذمی اور مستامن کی کوئی قید نہیں ہے، یہاں کے غیر مسلموں کے مذہب میں سود جرم یا گناہ نہیں ہے وہ سود کو غیر قانونی نہیں مانتے ہیں وہ دیتے بھی ہیں اور لیتے بھی ہیں. ان کے ساتھ دھوکا، فریب، غدر حرام و گناہ ہے لہذا فریب دے کر ان سے کچھ بھی نہیں لے سکتے لیکن اگر آپ نے انہیں قرض دیا اور وہ اپنی مرضی سے کسی دباؤ میں آئے بغیر آپ کو کچھ دے دیں تو لے سکتے ہیں مثلا آپ نے کسی غیر مسلم کو ایک ہزار روپے دیئے اب وہ اس پر پانچ، دس روپے اضافہ کے ساتھ دے رہا ہے یا 100 اضافہ کرکے دے رہا ہے تو یہ آپ کے لئے جائز و درست ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا کافر کو قرض دے کر اس سے سود لے سکتے ہیں ؟</h2> سوال : کیا کافر کو قرض دے کر اس سے زیادہ لینا جائز ہے جبکہ مومن سے نہیں ۔ اور یہ معلوم نہیں کہ وہ کونسا کافر ہے، حربی، ذمی یا مستامن، اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> یہاں ہندوستان میں حربی، ذمی اور مستامن کی کوئی قید نہیں ہے، یہاں کے غیر مسلموں کے مذہب میں سود جرم یا گناہ نہیں ہے وہ سود کو غیر قانونی نہیں مانتے ہیں وہ دیتے بھی ہیں اور لیتے بھی ہیں. ان کے ساتھ دھوکا، فریب، غدر حرام و گناہ ہے لہذا فریب دے کر ان سے کچھ بھی نہیں لے سکتے لیکن اگر آپ نے انہیں قرض دیا اور وہ اپنی مرضی سے کسی دباؤ میں آئے بغیر آپ کو کچھ دے دیں تو لے سکتے ہیں مثلا آپ نے کسی غیر مسلم کو ایک ہزار روپے دیئے اب وہ اس پر پانچ، دس روپے اضافہ کے ساتھ دے رہا ہے یا 100 اضافہ کرکے دے رہا ہے تو یہ آپ کے لئے جائز و درست ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...