Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #62
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
7.8K Views
نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم / عصر کے بعد نفل
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم / عصر کے بعد نفل
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں علمائے کرام کہ ایک شخص نے نماز عصر باجماعت ادا کی اور فورا اسی جگہ پرقضا نماز پڑھ سکتا ہے کہ نہیں ۔برائے کرم حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی محمد احمد رضا ایئرپورٹ روڈ کاٹھمانڈو نیپال الجواب: نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم قضا نماز تین وقت جائز نہیں ہے ۔ (١) طلوع یعنی سورج کی پہلی لکیر چمکنے سے لے کر(اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کے تجربات کے مطابق)بیس منٹ تک (٢) نصف النہار شرعی سے نصف النہار حقیقی تک (٣)سورج ڈوبنے کےبیس منٹ پہلے سے سورج ڈوبنے تک ۔ علامہ محقق علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: “(وَكُرِهَ) تَحْرِيمًا، وَكُلُّ مَا لَا يَجُوزُ مَكْرُوهٌ (صَلَاةٌ) مُطْلَقًا (وَلَوْ) قَضَاءً أَوْ وَاجِبَةً أَوْ نَفْلًا أَوْ (عَلَى جِنَازَةٍ وَسَجْدَةَ تِلَاوَةٍ وَسَهْوٍ) لَا شُكْرٍ قُنْيَةٌ (مَعَ شُرُوقٍ)۔۔۔(واستواء) (وَغُرُوبٍ، إلَّا عَصْرَ يَوْمِهِ)”(در مختارج٢ ص٣٠، ٣١،٣٢ملتقطا) اور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “طلوع و غروب و نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں ۔ نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ قضا ۔ یوہیں سجدہ تلاوت و سجدہ سہو بھی ناجائز ہے ۔ البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں پڑھی تو اگرچہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے ،مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے ۔ حدیث میں اس کو منافق کی نماز فرمایا۔ طلوع سے مراد آفتاب کا کنارہ ظاہر ہونے سے اس وقت تک ہے کہ اس پر نگاہ خیرہ ہونے لگے جس کی مقدار کنارہ چمکنے سے ۲۰ منٹ تک ہے اور اس وقت سے کہ آفتاب پر نگاہ ٹھہرنے لگے ڈوبنے تک غروب ہے، یہ وقت بھی ۲۰ منٹ ہے ۔ نصف النہار سے مراد نصف النہار شرعی سے نصف النہار حقیقی یعنی آفتاب ڈھلکنے تک ہے ۔ جس کو ضحوۂ کبریٰ کہتے ہیں یعنی طلوع فجر سے غروب آفتاب تک آج جو وقت ہے، اس کے برابر برابر دو حصے کریں ، پہلے حصہ کے ختم پر ابتدائے نصف النہار شرعی ہے اور اس وقت سے آفتاب ڈھلنے تک وقت استوا و ممانعت ہر نماز ہے ۔” (بہار شریعت حصہ ٣ص۴۵۴) ان حوالوں سے واضح ہے کہ عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب سے بیس منٹ پہلے تک قضا نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں ۔ لیکن جس شخص نے عصر کی نماز باجماعت ادا کی ہو تو اس کو اسی جگہ قضا نماز منع ہے، گھر پر تنہائی میں پڑھے ۔کیوں کہ اس طرح قضا کی نماز پڑھنے میں اظہار معصیت ہے کیوں کہ نماز قضا کرنا معصیت ہے ۔ اب چوں کہ عصر کی نماز کے بعد نفل نماز مکروہ ہے اس لیے دیکھنے والے کو اپنی قضا کردہ نمازوں سے باخبر کرنا ہوگا۔ اسی وجہ سے وتر کی قضا اگر لوگوں کی موجودگی میں پڑھے تو تکبیرِ قنوت کے لیے ہاتھ اٹھانے کا حکم نہیں ہے ۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:(قَوْلُهُ رَافِعًا يَدَيْهِ) أَيْ سُنَّةً إلَى حِذَاءِ أُذُنَيْهِ كَتَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ، وَهَذَا كَمَا فِي الْإِمْدَادِ عَنْ مَجْمَعِ الرِّوَايَاتِ لَوْ فِي الْوَقْتِ، أَمَّا فِي الْقَضَاءِ عِنْدَ النَّاسِ فَلَا يَرْفَعُ حَتَّى لَا يَطَّلِعَ أَحَدٌ عَلَى تَقْصِيرِهِ. اهـ.(ردالمحتارج٢ص۴۴٢) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: اور اگر بوجہ خاص بعض اشخاص کی نماز جاتی رہی تو گھر میں تنہا پڑھیں کہ معصیت کا اظہار بھی معصیت ہے قضا حتی الامکان جلد ہو ، تعیین وقت کچھ نہیں ایک وقت میں سب وقتوں کی پڑھ سکتا ہے ، درمختار میں ہے: یکرہ قضاء ھا فیہ ( ای فی المسجد) لان التاخیر معصیۃ فلا یظھر ھا ۔ بزازیۃ ” (فتاوی رضویہ ج٣ ص٦٢۴)۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری : خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔ ٧/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٠/اپریل ٢٠٢١ءAlimi Darul Ifta Jamia Alimia Jamda shahi Basti
وہابی امام کے پیچھے نماز اور کھڑے ہوکر اقامت سننے کا حکم
آکسیجن ماسک لگانا مفسد صوم ہے یا نہیں / روزہ کے اہم مسائل
Kutubahu & Verified by:
<h2>نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم</h2> السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں علمائے کرام کہ ایک شخص نے نماز عصر باجماعت ادا کی اور فورا اسی جگہ پرقضا نماز پڑھ سکتا ہے کہ نہیں ۔برائے کرم حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ المستفتی محمد احمد رضا ایئرپورٹ روڈ کاٹھمانڈو نیپال الجواب: نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم قضا نماز تین وقت جائز نہیں ہے ۔ (١) طلوع یعنی سورج کی پہلی لکیر چمکنے سے لے کر(اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کے تجربات کے مطابق)بیس منٹ تک (٢) نصف النہار شرعی سے نصف النہار حقیقی تک (٣)سورج ڈوبنے کےبیس منٹ پہلے سے سورج ڈوبنے تک ۔ علامہ محقق علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ القوی تحریر فرماتے ہیں: "(وَكُرِهَ) تَحْرِيمًا، وَكُلُّ مَا لَا يَجُوزُ مَكْرُوهٌ (صَلَاةٌ) مُطْلَقًا (وَلَوْ) قَضَاءً أَوْ وَاجِبَةً أَوْ نَفْلًا أَوْ (عَلَى جِنَازَةٍ وَسَجْدَةَ تِلَاوَةٍ وَسَهْوٍ) لَا شُكْرٍ قُنْيَةٌ (مَعَ شُرُوقٍ)۔۔۔(واستواء) (وَغُرُوبٍ، إلَّا عَصْرَ يَوْمِهِ)"(در مختارج٢ ص٣٠، ٣١،٣٢ملتقطا) اور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "طلوع و غروب و نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں ۔ نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ قضا ۔ یوہیں سجدہ تلاوت و سجدہ سہو بھی ناجائز ہے ۔ البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں پڑھی تو اگرچہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے ،مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے ۔ حدیث میں اس کو منافق کی نماز فرمایا۔ طلوع سے مراد آفتاب کا کنارہ ظاہر ہونے سے اس وقت تک ہے کہ اس پر نگاہ خیرہ ہونے لگے جس کی مقدار کنارہ چمکنے سے ۲۰ منٹ تک ہے اور اس وقت سے کہ آفتاب پر نگاہ ٹھہرنے لگے ڈوبنے تک غروب ہے، یہ وقت بھی ۲۰ منٹ ہے ۔ نصف النہار سے مراد نصف النہار شرعی سے نصف النہار حقیقی یعنی آفتاب ڈھلکنے تک ہے ۔ جس کو ضحوۂ کبریٰ کہتے ہیں یعنی طلوع فجر سے غروب آفتاب تک آج جو وقت ہے، اس کے برابر برابر دو حصے کریں ، پہلے حصہ کے ختم پر ابتدائے نصف النہار شرعی ہے اور اس وقت سے آفتاب ڈھلنے تک وقت استوا و ممانعت ہر نماز ہے ۔" (بہار شریعت حصہ ٣ص۴۵۴) ان حوالوں سے واضح ہے کہ عصر کی نماز کے بعد غروب آفتاب سے بیس منٹ پہلے تک قضا نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں ۔ لیکن جس شخص نے عصر کی نماز باجماعت ادا کی ہو تو اس کو اسی جگہ قضا نماز منع ہے، گھر پر تنہائی میں پڑھے ۔کیوں کہ اس طرح قضا کی نماز پڑھنے میں اظہار معصیت ہے کیوں کہ نماز قضا کرنا معصیت ہے ۔ اب چوں کہ عصر کی نماز کے بعد نفل نماز مکروہ ہے اس لیے دیکھنے والے کو اپنی قضا کردہ نمازوں سے باخبر کرنا ہوگا۔ اسی وجہ سے وتر کی قضا اگر لوگوں کی موجودگی میں پڑھے تو تکبیرِ قنوت کے لیے ہاتھ اٹھانے کا حکم نہیں ہے ۔ علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:(قَوْلُهُ رَافِعًا يَدَيْهِ) أَيْ سُنَّةً إلَى حِذَاءِ أُذُنَيْهِ كَتَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ، وَهَذَا كَمَا فِي الْإِمْدَادِ عَنْ مَجْمَعِ الرِّوَايَاتِ لَوْ فِي الْوَقْتِ، أَمَّا فِي الْقَضَاءِ عِنْدَ النَّاسِ فَلَا يَرْفَعُ حَتَّى لَا يَطَّلِعَ أَحَدٌ عَلَى تَقْصِيرِهِ. اهـ.(ردالمحتارج٢ص۴۴٢) اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: اور اگر بوجہ خاص بعض اشخاص کی نماز جاتی رہی تو گھر میں تنہا پڑھیں کہ معصیت کا اظہار بھی معصیت ہے قضا حتی الامکان جلد ہو ، تعیین وقت کچھ نہیں ایک وقت میں سب وقتوں کی پڑھ سکتا ہے ، درمختار میں ہے: یکرہ قضاء ھا فیہ ( ای فی المسجد) لان التاخیر معصیۃ فلا یظھر ھا ۔ بزازیۃ " (فتاوی رضویہ ج٣ ص٦٢۴)۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری : خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔ ٧/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٠/اپریل ٢٠٢١ء <p style="text-align: left;"><em><strong>Alimi Darul Ifta Jamia Alimia Jamda shahi Basti</strong></em></p> <p style="text-align: left;"><em><strong> </strong></em><!--more--></p> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=256" rel="bookmark">وہابی امام کے پیچھے نماز اور کھڑے ہوکر اقامت سننے کا حکم</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=254" rel="bookmark">آکسیجن ماسک لگانا مفسد صوم ہے یا نہیں / روزہ کے اہم مسائل</a></h2>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...