Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #67 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.4K Views

نماز فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت کا حکم

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

نماز فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت کا حکم

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

نماز فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں علمائے کرام کہ ایک شخص نے نماز عصر باجماعت ادا کی اور فورا اسی جگہ پرقضا نماز پڑھ سکتا ہے کہ نہیں ۔برائے کرم حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ التمش رضا کشمیر الجواب: نماز فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت کا حکم   فجر اور عصر کے بعد نفل نماز منع ہے ۔ سجدہ تلاوت کرنا منع نہیں ہے ۔ ہاں! عصر کے بعد غروب آفتاب سے بیس منٹ پہلے سجدہ تلاوت اس صورت میں منع ہے کہ آیت سجدہ اِس خاص وقت سے پہلے پڑھی ہو اور سجدہ اِس خاص وقت میں کرے ۔ اور اگر کسی نے اسی وقت آیت سجدہ پڑھی ہو تو اگرچہ بہتر یہی ہے کہ اس وقت سجدہ نہ کرے ، بعد میں سجدہ کرے لیکن اس صورت میں اس وقت بھی سجدہ تلاوت منع نہیں ہے ۔ یہ بھی خیال رہے کہ طلوع آفتاب سے بیس منٹ تک اور ضحوہ کبری(نصف النہار شرعی سے نصف النہار حقیقی تک) اور غروب آفتاب کے بیس منٹ پہلے اذکار واوراد میں مصروف رہنا بہترہے ۔ان اوقات میں تلاوتِ قرآن حکیم بہتر نہیں ہے ۔لیکن منع بھی نہیں ہے ۔ حاصل یہ ہے کہ صرف تین اوقات (یعنی: طلوع ، زوال اور غروب) میں سجدہ تلاوت منع ہے ۔ اور وہ بھی اس صورت میں جب کہ ان اوقات سے پہلے آیت سجدہ پڑھی ہو ۔ اور ان تین اوقات میں تلاوت نہ کرنا بہتر ہے ۔ لیکن اگر کسی نے انہی اوقات میں تلاوت کرتے ہوئے آیت سجدہ پڑھی تو بہتر یہ ہے کہ اس وقت سجدہ نہ کرے ، بعد میں کرے پھر بھی اگر کسی نے ان اوقات میں ہی کرلیا تو بہتر نہ کیا مگر سجدہ تلاوت ادا ہوگیا ۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: “طلوع و غروب و نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ قضا ۔ یوہیں سجدئہ تلاوت و سجدئہ سہو بھی ناجائز ہے” (بہار شریعت حصہ٣ ص ۴۵۴) اسی میں ہے: “ان اوقات میں آیتِ سجدہ پڑھی تو بہتر یہ ہے کہ سجدہ میں تاخیر کرے ،یہاں تک کہ وقتِ کراہت جاتا رہے ۔ اور اگر وقت مکروہ ہی میں کر لیا تو بھی جائز ہے ۔ اور اگر وقتِ غیر مکروہ میں پڑھی تھی تو وقتِ مکروہ میں سجدہ کرنا مکروہ تحریمی ہے”۔ (بہار شریعت حصہ ٣ص۴۵۴ ) اسی میں ہے: “ان اوقات میں تلاوتِ قرآن مجید بہتر نہیں ، بہتر یہ ہے کہ ذکر و درود شریف میں مشغول رہے” (بہار شریعت حصہ ٣ص ۴۵۵) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔ ٩/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٢/اپریل ٢٠٢١ء  

Alimi Darul Ifta Jamia Alimia Jmada Shahi Basti

فاسق کو نماز میں مبلغ (مکبر) بنانے کا حکم / مکبر کون بن سکتا ہے

نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم / عصر کے بعد نفل

Kutubahu & Verified by:

<h2>نماز فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت کا حکم</h2> السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کیافرماتے ہیں علمائے کرام کہ ایک شخص نے نماز عصر باجماعت ادا کی اور فورا اسی جگہ پرقضا نماز پڑھ سکتا ہے کہ نہیں ۔برائے کرم حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں۔ التمش رضا کشمیر الجواب: نماز فجر اور عصر کے بعد سجدہ تلاوت کا حکم   فجر اور عصر کے بعد نفل نماز منع ہے ۔ سجدہ تلاوت کرنا منع نہیں ہے ۔ ہاں! عصر کے بعد غروب آفتاب سے بیس منٹ پہلے سجدہ تلاوت اس صورت میں منع ہے کہ آیت سجدہ اِس خاص وقت سے پہلے پڑھی ہو اور سجدہ اِس خاص وقت میں کرے ۔ اور اگر کسی نے اسی وقت آیت سجدہ پڑھی ہو تو اگرچہ بہتر یہی ہے کہ اس وقت سجدہ نہ کرے ، بعد میں سجدہ کرے لیکن اس صورت میں اس وقت بھی سجدہ تلاوت منع نہیں ہے ۔ یہ بھی خیال رہے کہ طلوع آفتاب سے بیس منٹ تک اور ضحوہ کبری(نصف النہار شرعی سے نصف النہار حقیقی تک) اور غروب آفتاب کے بیس منٹ پہلے اذکار واوراد میں مصروف رہنا بہترہے ۔ان اوقات میں تلاوتِ قرآن حکیم بہتر نہیں ہے ۔لیکن منع بھی نہیں ہے ۔ حاصل یہ ہے کہ صرف تین اوقات (یعنی: طلوع ، زوال اور غروب) میں سجدہ تلاوت منع ہے ۔ اور وہ بھی اس صورت میں جب کہ ان اوقات سے پہلے آیت سجدہ پڑھی ہو ۔ اور ان تین اوقات میں تلاوت نہ کرنا بہتر ہے ۔ لیکن اگر کسی نے انہی اوقات میں تلاوت کرتے ہوئے آیت سجدہ پڑھی تو بہتر یہ ہے کہ اس وقت سجدہ نہ کرے ، بعد میں کرے پھر بھی اگر کسی نے ان اوقات میں ہی کرلیا تو بہتر نہ کیا مگر سجدہ تلاوت ادا ہوگیا ۔ صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں: "طلوع و غروب و نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ قضا ۔ یوہیں سجدئہ تلاوت و سجدئہ سہو بھی ناجائز ہے" (بہار شریعت حصہ٣ ص ۴۵۴) <em><strong>اسی میں ہے:</strong></em> "ان اوقات میں آیتِ سجدہ پڑھی تو بہتر یہ ہے کہ سجدہ میں تاخیر کرے ،یہاں تک کہ وقتِ کراہت جاتا رہے ۔ اور اگر وقت مکروہ ہی میں کر لیا تو بھی جائز ہے ۔ اور اگر وقتِ غیر مکروہ میں پڑھی تھی تو وقتِ مکروہ میں سجدہ کرنا مکروہ تحریمی ہے"۔ (بہار شریعت حصہ ٣ص۴۵۴ ) اسی میں ہے: "ان اوقات میں تلاوتِ قرآن مجید بہتر نہیں ، بہتر یہ ہے کہ ذکر و درود شریف میں مشغول رہے" (بہار شریعت حصہ ٣ص ۴۵۵) واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ۔ کتبہ:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔ ٩/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢٢/اپریل ٢٠٢١ء   <p style="text-align: left;"><strong>Alimi Darul Ifta Jamia Alimia Jmada Shahi Basti</strong></p> <!--more--> <header class="entry-header"> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=259" rel="bookmark">فاسق کو نماز میں مبلغ (مکبر) بنانے کا حکم / مکبر کون بن سکتا ہے</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=261" rel="bookmark">نماز عصر کے بعد قضا پڑھنے کا حکم / عصر کے بعد نفل</a></h2> </header>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...