Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #868 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 6K Views

کیا طریقت کی نماز الگ ہوتی ہے ؟ / نماز کے مسائل / مسائل ورلڈ

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کیا طریقت کی نماز الگ ہوتی ہے ؟ / نماز کے مسائل / مسائل ورلڈ

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کیا طریقت کی نماز الگ ہوتی ہے ؟

سوال : بعض پیر حضرات اپنے مریدوں کو نماز کے متعلق یہ بتاتے ہیں کہ طریقت کی نماز الگ ہے ۔ تو کیا واقعی ایسا ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــ ان کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ طریقت کی نماز الگ ہوتی ہے، اگرچہ اس کلام کی توجیہ ہو سکتی ہے مگر آپ پر یہ بات واضح رہے کہ طریقت ، شریعت سے جدا کوئی چیز نہیں بلکہ جو شریعت ہے وہی طریقت ہے ۔ تو شریعت کی نماز الگ اور طریقت کی نماز الگ کیسے ہو سکتی ہے؟ جیسے جیسے آدمی شریعت پر عمل کرتا ہے اس کے اندر کمال پیدا ہوتا جاتا ہے اسی کمال کا نام طریقت ہے ۔ آج آپ جو نماز پڑھ رہے ہیں یہ شریعت کے مطابق ہے ، اب اگر نماز اس قدر خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھنے لگیں کہ محسوس ہو کہ میرا خدا مجھ کو دیکھ رہا ہے اور دل ادھر ادھر بھٹکنے نہ پائے تو یہ سمجھ لیں کہ یہ طریقت کی ابتدا ہے ۔ اور اگر یہ محسوس ہو کہ گویا آپ خدا کو دیکھ رہے ہوں تو آپ کی نماز اور کامل ہوگئی ۔ اور یہی طریقت والی نماز ہوگئی، لہذا طریقت کی نماز وہی ہے جو شریعت کی نماز ہے ۔ فرق یہ ہے کہ جب بندہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کی نماز بہت کامل ہوتی ہے بنسبت عام انسانوں کے کہ ان کی نماز میں اس قدر کمال نہیں ہوتا ۔ اس کو ایک دوسری مثال سے یوں سمجھیں کہ آپ نے ایک چراغ جلایا، چراغ بہت ہلکا جل رہا تھا. روشنی اس کے ہلکی تھی، آپ نے ذرا تیز کی اور روشنی اور بڑی پھر اور تیز کی اب روشنی خوب تیز ہوگئی، اب آپ کہیں چراغ کی روشنی الگ ہے اور یہ روشنی الگ ہے تو ایسا نھیں ھے ۔ کیونکہ اگرآپ اس کو پھونک ماریں گے تو ایسا نہیں ہے کہ یہ چراغ والی روشنی ختم ہو جائے گی اور وہ تیز روشنی باقی رہ جائے گی بلکہ پوری روشنی ہیختم ہو جائے گی ۔ اس لیے کہ اگر چراغ کی روشنی نہیں ہوتی تو روشنی میں کمال کہاں سے آتا ۔ بتی بڑھانے سے جس روشنی میں کمال پیدا ہورہا ہے وہی روشنی ہے جو چراغ سے نکلی ہوئی ہے اگر وہ روشنی نہ ہوتی تو بتی بڑھانے سے کبھی بھی کمال پیدا نہیں ہوتا ۔ شریعت کی مثال بتی کی مثال ہے کہ شریعت پر عمل بڑھتا گیا تو اس میں کمال آتا گیا اور یہی کمال طریقت ہے. لیکن اس منزل پر پہنچ کر کوئی شریعت کا دامن چھوڑ دے کہ دیکھ کہ ابو کامل ہوگیا اور یہ سوچے کی شریعت الگ ہے اور طریقت الگ ہے ۔ تو پھر وہ جہل کے گہرے اندھیرے میں ہوگا اور شریعت کے نور سے محروم ہو چکا ہو گا ۔ الغرض اگر پیر صاحب کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ طریقت شریعت سے الگ ہے تو جھوٹ ہے، غلط ہے. اور اگر میں نے جو وضاحت کی وہ مراد ہے ہے تو صحیح ہے مگر لوگوں کے سامنے ایسی بات نہ بیان کیا جائے جس سے انہیں وحشت ہو اور کچھ کا کچھ سمجھ جائیں ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>کیا طریقت کی نماز الگ ہوتی ہے ؟</h2> سوال : بعض پیر حضرات اپنے مریدوں کو نماز کے متعلق یہ بتاتے ہیں کہ طریقت کی نماز الگ ہے ۔ تو کیا واقعی ایسا ہے؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابــــــــــــــــــــــ</strong></span> ان کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ طریقت کی نماز الگ ہوتی ہے، اگرچہ اس کلام کی توجیہ ہو سکتی ہے مگر آپ پر یہ بات واضح رہے کہ طریقت ، شریعت سے جدا کوئی چیز نہیں بلکہ جو شریعت ہے وہی طریقت ہے ۔ تو شریعت کی نماز الگ اور طریقت کی نماز الگ کیسے ہو سکتی ہے؟ جیسے جیسے آدمی شریعت پر عمل کرتا ہے اس کے اندر کمال پیدا ہوتا جاتا ہے اسی کمال کا نام طریقت ہے ۔ آج آپ جو نماز پڑھ رہے ہیں یہ شریعت کے مطابق ہے ، اب اگر نماز اس قدر خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھنے لگیں کہ محسوس ہو کہ میرا خدا مجھ کو دیکھ رہا ہے اور دل ادھر ادھر بھٹکنے نہ پائے تو یہ سمجھ لیں کہ یہ طریقت کی ابتدا ہے ۔ اور اگر یہ محسوس ہو کہ گویا آپ خدا کو دیکھ رہے ہوں تو آپ کی نماز اور کامل ہوگئی ۔ اور یہی طریقت والی نماز ہوگئی، لہذا طریقت کی نماز وہی ہے جو شریعت کی نماز ہے ۔ فرق یہ ہے کہ جب بندہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کی نماز بہت کامل ہوتی ہے بنسبت عام انسانوں کے کہ ان کی نماز میں اس قدر کمال نہیں ہوتا ۔ اس کو ایک دوسری مثال سے یوں سمجھیں کہ آپ نے ایک چراغ جلایا، چراغ بہت ہلکا جل رہا تھا. روشنی اس کے ہلکی تھی، آپ نے ذرا تیز کی اور روشنی اور بڑی پھر اور تیز کی اب روشنی خوب تیز ہوگئی، اب آپ کہیں چراغ کی روشنی الگ ہے اور یہ روشنی الگ ہے تو ایسا نھیں ھے ۔ کیونکہ اگرآپ اس کو پھونک ماریں گے تو ایسا نہیں ہے کہ یہ چراغ والی روشنی ختم ہو جائے گی اور وہ تیز روشنی باقی رہ جائے گی بلکہ پوری روشنی ہیختم ہو جائے گی ۔ اس لیے کہ اگر چراغ کی روشنی نہیں ہوتی تو روشنی میں کمال کہاں سے آتا ۔ بتی بڑھانے سے جس روشنی میں کمال پیدا ہورہا ہے وہی روشنی ہے جو چراغ سے نکلی ہوئی ہے اگر وہ روشنی نہ ہوتی تو بتی بڑھانے سے کبھی بھی کمال پیدا نہیں ہوتا ۔ شریعت کی مثال بتی کی مثال ہے کہ شریعت پر عمل بڑھتا گیا تو اس میں کمال آتا گیا اور یہی کمال طریقت ہے. لیکن اس منزل پر پہنچ کر کوئی شریعت کا دامن چھوڑ دے کہ دیکھ کہ ابو کامل ہوگیا اور یہ سوچے کی شریعت الگ ہے اور طریقت الگ ہے ۔ تو پھر وہ جہل کے گہرے اندھیرے میں ہوگا اور شریعت کے نور سے محروم ہو چکا ہو گا ۔ الغرض اگر پیر صاحب کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ طریقت شریعت سے الگ ہے تو جھوٹ ہے، غلط ہے. اور اگر میں نے جو وضاحت کی وہ مراد ہے ہے تو صحیح ہے مگر لوگوں کے سامنے ایسی بات نہ بیان کیا جائے جس سے انہیں وحشت ہو اور کچھ کا کچھ سمجھ جائیں ۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...