Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #887
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
8.2K Views
سنی کی جنازہ وہابی نے پڑھائ تو جنازہ ہوئ یا نہیں ؟ / جنازہ کے مسائل
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
سنی کی جنازہ وہابی نے پڑھائ تو جنازہ ہوئ یا نہیں ؟ / جنازہ کے مسائل
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
سنی کی جنازہ وہابی نے پڑھائ تو جنازہ ہوئ یا نہیں ؟
سوال : ایک بھائی کا انتقال ہوا سنی تھے وہ ان کی امی بھی سنی تھیں، ابا وہابی تھے ۔ اب اس کی نماز جنازہ اس کے ابو کے دوست نے پڑھائی، ابا کے حکم پر پیچھے مقتدی سنی وہابی دونوں تھے، تدفین کی گئی فاتحہ بھی پڑھی گئی، اب چونکہ وہابی کی امامت میں پڑھائی گئی تو نماز جنازہ ہوئی نہیں ۔ یہ سوچ کر چار پانچ بھائیوں نے مرحوم کے ماموں سے اجازت لے کر دوسری بار نماز جنازہ پڑھی اب یہ حالت تھی کہ میت کی قبر پر مٹی ڈال دی گئی پھر یہ نماز پڑھی گئی، پوری تدفین اور مکمل فاتحہ ہونے کے بعد ایسا کرنا کیسا ہے؟اس پر کیا حکم ہوگا؟ نماز جنازہ فرض کفایہ تھی یہ سوچ کر دوسری بار نماز جنازہ پڑھائی گئی، پہلی بار میں وہابی کی امامت ہوئی تھی اس لئے فرض کفایہ کی ادائیگی نہ ہوئی ۔ میت قبر کے اندر تھی تو کیا شرع کا حکم ہو گا؟ رہنمائی کریں ۔ یہ عمل ہو چکا اب لوگ غیبت بدگمانی کر رہے ہیں ۔ جس نے دوبارہ یہ نماز پڑھی اس نے اچھا کیا کہ نہیں؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــ ہر مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے ۔ اور وہابی دیوبندی کے نماز جنازہ پڑھنے، پڑھانے سے نماز نہیں ہوتی، اس لیے یہاں وہ فرض کفایہ ادا نہ ہوا اور بلا نماز جنازہ تدفین بھی ہوگئی ، تو مسلمانوں پر فرض تھا کہ قبر کے قریب کھڑے ہو کر قبلہ رو نماز جنازہ پڑھیں ۔ یہ کام چند مسلمانوں نے کر لیا تو فرض کفایہ ادا ہو گیا ۔ شریعت کی کتابوں میں یہ مسئلہ لکھا ہوا ہے کہ جب تک ظنِ غالب ہو کہ میت کا بدن پھٹا نہیں ہے اس وقت تک نماز جنازہ پڑھ لی جائے ۔ اور یہاں وہ ظن غالب یقیناً ہے کیونکہ دفن کے بعد جلد ہی نماز جنازہ پڑھی گئی ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
Kutubahu & Verified by:
<h2>سنی کی جنازہ وہابی نے پڑھائ تو جنازہ ہوئ یا نہیں ؟</h2> سوال : ایک بھائی کا انتقال ہوا سنی تھے وہ ان کی امی بھی سنی تھیں، ابا وہابی تھے ۔ اب اس کی نماز جنازہ اس کے ابو کے دوست نے پڑھائی، ابا کے حکم پر پیچھے مقتدی سنی وہابی دونوں تھے، تدفین کی گئی فاتحہ بھی پڑھی گئی، اب چونکہ وہابی کی امامت میں پڑھائی گئی تو نماز جنازہ ہوئی نہیں ۔ یہ سوچ کر چار پانچ بھائیوں نے مرحوم کے ماموں سے اجازت لے کر دوسری بار نماز جنازہ پڑھی اب یہ حالت تھی کہ میت کی قبر پر مٹی ڈال دی گئی پھر یہ نماز پڑھی گئی، پوری تدفین اور مکمل فاتحہ ہونے کے بعد ایسا کرنا کیسا ہے؟اس پر کیا حکم ہوگا؟ نماز جنازہ فرض کفایہ تھی یہ سوچ کر دوسری بار نماز جنازہ پڑھائی گئی، پہلی بار میں وہابی کی امامت ہوئی تھی اس لئے فرض کفایہ کی ادائیگی نہ ہوئی ۔ میت قبر کے اندر تھی تو کیا شرع کا حکم ہو گا؟ رہنمائی کریں ۔ یہ عمل ہو چکا اب لوگ غیبت بدگمانی کر رہے ہیں ۔ جس نے دوبارہ یہ نماز پڑھی اس نے اچھا کیا کہ نہیں؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> ہر مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنا فرض کفایہ ہے ۔ اور وہابی دیوبندی کے نماز جنازہ پڑھنے، پڑھانے سے نماز نہیں ہوتی، اس لیے یہاں وہ فرض کفایہ ادا نہ ہوا اور بلا نماز جنازہ تدفین بھی ہوگئی ، تو مسلمانوں پر فرض تھا کہ قبر کے قریب کھڑے ہو کر قبلہ رو نماز جنازہ پڑھیں ۔ یہ کام چند مسلمانوں نے کر لیا تو فرض کفایہ ادا ہو گیا ۔ شریعت کی کتابوں میں یہ مسئلہ لکھا ہوا ہے کہ جب تک ظنِ غالب ہو کہ میت کا بدن پھٹا نہیں ہے اس وقت تک نماز جنازہ پڑھ لی جائے ۔ اور یہاں وہ ظن غالب یقیناً ہے کیونکہ دفن کے بعد جلد ہی نماز جنازہ پڑھی گئی ۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...