Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #888 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 8.3K Views

چوڑی دار پاجامہ(سلیکس)میں نماز ہوتی ہے یا نہیں ؟ / نماز کے مسائل

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

چوڑی دار پاجامہ(سلیکس)میں نماز ہوتی ہے یا نہیں ؟ / نماز کے مسائل

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

چوڑی دار پاجامہ(سلیکس)میں نماز ہوتی ہے یا نہیں ؟

سوال : عورتیں جو لباس پہنتی ہیں ان میں ایک کپڑا جو چوڑی دار پاجامہ ( یہاں گجرات میں سلیکس کہتے ہیں) ہے ۔ اس میں بھی کتنے ایسے ہوتے ہیں جن میں چوڑی نہیں ہوتی ، لیکن وہ پیروں سے یکدم چپکا ہوتا ہے تو کیا ایسا کپڑا پہن کر عورت نماز پڑھ سکتی ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ ایسا کپڑا پہن کر عورت نماز پڑھے تو اس کی نماز مکروہ ہوگی ۔ عورت کے بدن میں 26 اعضاء ہیں جن کا چھپانا فرض ہے ۔ ان میں دونوں پنڈلیاں بھی ٹخنے تک شامل ہیں ۔ ان اعضاء میں سے کوئی عضو چوتھائی حصے کی مقدار عورت قصداً کھولے یا ایسا کپڑا پہنے جس سے وہ حصہ جھلکے تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ فقہاء نے کشف عورت یعنی شرم کی جگہ کھلنے کا حکم بیان کیا ہے، لیکن اگر کپڑا تنگ و چست ہو جس سے بدن کی ساخت، اونچ نیچ اور ابھار وغیرہ ظاہر ہو تو نماز ہوگی یا نہیں ۔ اس بارے میں فقہاء کی تصریح فی الحال میری نگاہ میں نہیں ۔ ہاں یہ کشف تو نہیں مگر کشف کے مشابہ تو ضرور ہے جو ناجائز ہے ۔ اور عدم جواز پر مشتمل ہو کر جو نماز پڑھی جائے وہ مکروہ تحریمی ہوتی ہے ۔ لہذا میری نگاہ میں صورت مسؤلہ میں یہ نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبـــــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Kutubahu & Verified by:

<h2>چوڑی دار پاجامہ(سلیکس)میں نماز ہوتی ہے یا نہیں ؟</h2> سوال : عورتیں جو لباس پہنتی ہیں ان میں ایک کپڑا جو چوڑی دار پاجامہ ( یہاں گجرات میں سلیکس کہتے ہیں) ہے ۔ اس میں بھی کتنے ایسے ہوتے ہیں جن میں چوڑی نہیں ہوتی ، لیکن وہ پیروں سے یکدم چپکا ہوتا ہے تو کیا ایسا کپڑا پہن کر عورت نماز پڑھ سکتی ہے؟ <strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــ</strong> ایسا کپڑا پہن کر عورت نماز پڑھے تو اس کی نماز مکروہ ہوگی ۔ عورت کے بدن میں 26 اعضاء ہیں جن کا چھپانا فرض ہے ۔ ان میں دونوں پنڈلیاں بھی ٹخنے تک شامل ہیں ۔ ان اعضاء میں سے کوئی عضو چوتھائی حصے کی مقدار عورت قصداً کھولے یا ایسا کپڑا پہنے جس سے وہ حصہ جھلکے تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی ۔ فقہاء نے کشف عورت یعنی شرم کی جگہ کھلنے کا حکم بیان کیا ہے، لیکن اگر کپڑا تنگ و چست ہو جس سے بدن کی ساخت، اونچ نیچ اور ابھار وغیرہ ظاہر ہو تو نماز ہوگی یا نہیں ۔ اس بارے میں فقہاء کی تصریح فی الحال میری نگاہ میں نہیں ۔ ہاں یہ کشف تو نہیں مگر کشف کے مشابہ تو ضرور ہے جو ناجائز ہے ۔ اور عدم جواز پر مشتمل ہو کر جو نماز پڑھی جائے وہ مکروہ تحریمی ہوتی ہے ۔ لہذا میری نگاہ میں صورت مسؤلہ میں یہ نماز <a href="https://masailworld.com/ulta-kapda-pahen-kar-namaz-padhna-kaisa-hai/" target="_blank" rel="noopener">مکروہ تحریمی</a> واجب الاعادہ ہے ۔ واللہ تعالی اعلم <span style="color: #339966;"><strong>کتبـــــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور</strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...