Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #899
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
9.6K Views
اگر جمعہ کی نمازمیں سہو ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ از مفتی محمد طیب علیمی
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
اگر جمعہ کی نمازمیں سہو ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ از مفتی محمد طیب علیمی
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
اگر جمعہ کی نمازمیں سہو ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
سوال : اگر جمعہ کی نمازمیں سہو ہو جائے تو کیا حکم ہے؟جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی سائل: آس محمد گونڈہ الجواب بعون الملک الوہابــــــــــــــــ بسم اللہ الرحمن الرحیم اصل یہ ہے کہ سجدہ سہو کے حکم میں ہر نماز برابر ہے چاہے فرض ہو یا نفل۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: و حكم السهو في الفرض والنفل سواء (ج 1 ص 126 کتاب الصلاة الباب الثاني عشر في سجود السهو مطبوعہ مکتبہ زکریا دیوبند) البتہ بطور خاص جمعہ کی نماز میں یوں ہی عید اور بقرعید کی نماز میں فقہائے کرام نے مصلحتاً یہ فرمایا ہے کہ اگر امام سےسہو واقع ہوجائے اور نمازیوں کی بھیڑ زیادہ ہو، تو بہتر یہ ہے کہ سجدہ سہو نہ کرے ۔ تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بھیڑ کی وجہ سے لوگ شبہ میں پڑ جائیں اور ان کی نماز خراب ہوجائے مثلا کوئی یہ سمجھ لے کہ یہ سلام نماز سے باہر آنے والا ہے ۔ چناں چہ فتاوی عالمگیری میں ہے : السهو في الجمعة و العيدين والمكتوبة والتطوع واحد إلا أن مشائخنا قالوا لا يسجد للسهو في العيدين و الجمعة لئلا يقع الناس في فتنة كذا في المضمرات ناقلا عن المحيط۔(ج 1 ص 128) علامہ ابن نجیم مصری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: والمختار عند المتاخرین ان لا یسجد للسھو فی الجمعة والعيدين لتوهم الزيادة من الجهال،كذا في السراج الوهاج و غيره۔ (ج 2 ص 270 مطبوعہ زکریا بک ڈپو دیوبند) تاہم اگر کوئی امام جمعہ یا عیدین میں سجدہ سہو کرلیتا ہے تو اس میں گناہ نہیں ہے اس لئے کہ اصل حکم کے مطابق یہ سجدہ جائز ہے ممنوع نہیں۔ جیسا کہ علامہ شامی علیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں: و ليس المراد عدم جوازه بل الأولى تركه كي لا يقع الناس في فتنة.(رد المحتار ج 2 ص 560 مطبوعہ مکتبہ زکریا بک ڈپو دیوبند) ہاں یہ خیال رہے کہ جمعہ و عیدین میں سجدہ سہو کا ساقط ہونا بھیڑ کیوجہ سے ہے پس جب بھیڑ نہ ہو تو سجدہ سہو ساقط نہیں ہوگا۔ علامہ شامی علیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں ۔ اذا حضر جمع كثير و إلا فلا داعي إلى الترك (حوالہ سابق) صدر الشریعہ علامہ امجد علی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: جمعہ و عیدین میں سہو واقع ہوا اور جماعت کثیر ہو تو بہتر یہ ہے کہ سجدہ سہو نہ کرے ۔ (بہار شریعت ج 4 ص 714 مطبوعہ دعوت اسلامی) خلاصہ یہ کہ صورت مسئولہ میں حکم یہ ہے کہ اگر بھیڑ زیادہ ہو تو بہتر ہے کہ سجدہ سہو نہ کیا جائے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ کتبہ محمد طیب جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی انڈیا 1 جمادی الاولی 1443ھ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری خادم درس و افتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی انڈیا
Kutubahu & Verified by:
<h2> اگر جمعہ کی نمازمیں سہو ہو جائے تو کیا حکم ہے؟</h2> سوال : اگر جمعہ کی نمازمیں سہو ہو جائے تو کیا حکم ہے؟جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی سائل: آس محمد گونڈہ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوہابــــــــــــــــ</strong></span> بسم اللہ الرحمن الرحیم اصل یہ ہے کہ سجدہ سہو کے حکم میں ہر نماز برابر ہے چاہے فرض ہو یا نفل۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: <span style="color: #ff0000;"><em>و حكم السهو في الفرض والنفل سواء</em></span> (ج 1 ص 126 کتاب الصلاة الباب الثاني عشر في سجود السهو مطبوعہ مکتبہ زکریا دیوبند) البتہ بطور خاص جمعہ کی نماز میں یوں ہی عید اور بقرعید کی نماز میں فقہائے کرام نے مصلحتاً یہ فرمایا ہے کہ اگر امام سےسہو واقع ہوجائے اور نمازیوں کی بھیڑ زیادہ ہو، تو بہتر یہ ہے کہ سجدہ سہو نہ کرے ۔ تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بھیڑ کی وجہ سے لوگ شبہ میں پڑ جائیں اور ان کی نماز خراب ہوجائے مثلا کوئی یہ سمجھ لے کہ یہ سلام نماز سے باہر آنے والا ہے ۔ چناں چہ فتاوی عالمگیری میں ہے : <span style="color: #ff0000;"><em>السهو في الجمعة و العيدين والمكتوبة والتطوع واحد إلا أن مشائخنا قالوا لا يسجد للسهو في العيدين و الجمعة لئلا يقع الناس في فتنة كذا في المضمرات ناقلا عن المحيط۔(ج 1 ص 128)</em></span> علامہ ابن نجیم مصری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: <em><span style="color: #ff0000;">والمختار عند المتاخرین ان لا یسجد للسھو فی الجمعة والعيدين لتوهم الزيادة من الجهال،كذا في السراج الوهاج و غيره</span></em>۔ (ج 2 ص 270 مطبوعہ زکریا بک ڈپو دیوبند) تاہم اگر کوئی امام جمعہ یا عیدین میں سجدہ سہو کرلیتا ہے تو اس میں گناہ نہیں ہے اس لئے کہ اصل حکم کے مطابق یہ سجدہ جائز ہے ممنوع نہیں۔ جیسا کہ علامہ شامی علیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں: <span style="color: #ff0000;"><em>و ليس المراد عدم جوازه بل الأولى تركه كي لا يقع الناس في فتنة</em></span>.(رد المحتار ج 2 ص 560 مطبوعہ مکتبہ زکریا بک ڈپو دیوبند) ہاں یہ خیال رہے کہ جمعہ و عیدین میں سجدہ سہو کا ساقط ہونا بھیڑ کیوجہ سے ہے پس جب بھیڑ نہ ہو تو سجدہ سہو ساقط نہیں ہوگا۔ علامہ شامی علیہ الرحمہ نقل فرماتے ہیں ۔ <span style="color: #ff0000;"><em>اذا حضر جمع كثير و إلا فلا داعي إلى الترك</em></span> (حوالہ سابق) صدر الشریعہ علامہ امجد علی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: جمعہ و عیدین میں سہو واقع ہوا اور جماعت کثیر ہو تو بہتر یہ ہے کہ سجدہ سہو نہ کرے ۔ (بہار شریعت ج 4 ص 714 مطبوعہ دعوت اسلامی) خلاصہ یہ کہ صورت مسئولہ میں حکم یہ ہے کہ اگر بھیڑ زیادہ ہو تو بہتر ہے کہ سجدہ سہو نہ کیا جائے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب ۔ <span style="color: #339966;"><strong>کتبہ محمد طیب</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی انڈیا</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>1 جمادی الاولی 1443ھ</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>الجواب صحیح</strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>محمد نظام الدین قادری خادم درس و افتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی انڈیا</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...