Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #903 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 10.1K Views

کھڑے ہو کر کھانا پینا کیسا ہے؟ از مفتی عبدالقادر مصباحی جامعی

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

کھڑے ہو کر کھانا پینا کیسا ہے؟ از مفتی عبدالقادر مصباحی جامعی

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

کھڑے ہو کر کھانا پینا کیسا ہے؟

کیا فرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ کھڑے ہو کر کھانا کھانا کیسا ہے؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھابـــــــــــــ جن چیزوں کو بطور غذا کھایا جاتا ہے ان کے کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ فرش وغیرہ پر بیٹھ کر کھایا جاے کہ یہی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عادت کریمہ اور سلف صالحین کا طریقہ رہا ہے اور یہی افضل بھی ہے اور ان چیزوں کو کھڑے ہوکر کھانا مکروہ تنزیہی خلاف اولٰی ہے ۔ البتہ جو چیزیں بطور لذت کھائی جاتی ہیں مثلا میوہ وغیرہ تو ان کو کھڑے ہوکر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہاں ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ بیٹھ کر کھائے۔ مسلم شریف کی حدیث پاک ہے : “عن قتادۃ عن انس عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم انہ نھی ان یشرب الرجل قائما قال قتادہ فقلنا فالاکل فقال ذاک اشر او اخبث ” اھ (صحیح مسلم: کتاب الاشربۃ ، باب: کراھیۃ الشرب قائما، حدیث : 5158) فتاوی رضویہ میں ہے : ” ہاں عادت کریمہ زمین پر دسترخوان بچھاکر کھانا تناول فرمانا تھی اور یہی افضل ہے “اھ (الفتاوٰی الرضویۃ : ج:21، ص: 629، باب: الشرب والطعام) واللہ تعالٰی اعلم عبدالقادر المصباحی الجامعی کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی. انڈیا ٦ جمادي الاول ١٤٤٣ھ

Kutubahu & Verified by:

<h2>کھڑے ہو کر کھانا پینا کیسا ہے؟</h2> کیا فرماتے علمائے دین ومفتیان شرع متین کہ کھڑے ہو کر کھانا کھانا کیسا ہے؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھابـــــــــــــ</strong></span> جن چیزوں کو بطور غذا کھایا جاتا ہے ان کے کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ فرش وغیرہ پر بیٹھ کر کھایا جاے کہ یہی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عادت کریمہ اور سلف صالحین کا طریقہ رہا ہے اور یہی افضل بھی ہے اور ان چیزوں کو کھڑے ہوکر کھانا مکروہ تنزیہی خلاف اولٰی ہے ۔ البتہ جو چیزیں بطور لذت کھائی جاتی ہیں مثلا میوہ وغیرہ تو ان کو کھڑے ہوکر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہاں ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ بیٹھ کر کھائے۔ مسلم شریف کی حدیث پاک ہے : <span style="color: #ff0000;"><em>"عن قتادۃ عن انس عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم انہ نھی ان یشرب الرجل قائما قال قتادہ فقلنا فالاکل فقال ذاک اشر او اخبث " اھ </em></span> (صحیح مسلم: کتاب الاشربۃ ، باب: کراھیۃ الشرب قائما، حدیث : 5158) فتاوی رضویہ میں ہے : " ہاں عادت کریمہ زمین پر دسترخوان بچھاکر کھانا تناول فرمانا تھی اور یہی افضل ہے "اھ (الفتاوٰی الرضویۃ : ج:21، ص: 629، باب: الشرب والطعام) واللہ تعالٰی اعلم <span style="color: #339966;"><em>عبدالقادر المصباحی الجامعی</em></span> <span style="color: #339966;"><em>کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ </em></span> <span style="color: #339966;"><em>مقام : مہیپت گنج، ضلع : گونڈہ، یو پی. انڈیا </em></span> <span style="color: #339966;"><em>٦ جمادي الاول ١٤٤٣ھ</em></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...