Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #909
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.7K Views
لحن کے ساتھ اذان کہی گئی تو ہوگئی یا اعادہ کرنا ہوگا؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
لحن کے ساتھ اذان کہی گئی تو ہوگئی یا اعادہ کرنا ہوگا؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
لحن کے ساتھ اذان کہی گئی تو ہوگئی یا اعادہ کرنا ہوگا؟
کیا فرماتے علماے کرام ومفتیان ذوی الاحترام کہ لحن کے ساتھ اذان کہی گئی تو ہوگئی یا اعادہ کرنا ہوگا؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الجواب بعون الملک الوھابــــــــــــ اذان میں لحن حرام ہے یعنی گانے کے طرز پر اذان دینا یا اذان کے کلمات میں لحن کرنا مثلا اللہ اکبر کے ہمزہ کو مد کے ساتھ آللہ یا آکبر یا اکبار پڑھنا وغیرہ ایسی دی ہوئی اذان نہیں ہوگی اس کا اعادہ کرنا واجب ہے۔ درمختار میں ہے : ” ولاترجیع فانہ مکروہ ملتقی ولا لحن فیہ ای تغنی” اھ (الدرالمختار مع ردالمحتار : ج: 2، ص: 65، کتاب : الصلاۃ، باب: الاذان) مغنی میں ہے : ” ویکرہ اللحن فی الاذان ” اھ (المغنی : ج: 2، ص: 90، باب الاذان) فتاوی الہندیہ میں ہے : ” ویکرہ التلحین وھو التغنی بحیث یودّی الی تغیر کلمات کذا فی شرح المجمع لابن الملک” اھ (الفتاوی الھندیۃ : ج: 1،ص: 56، کتاب : الصلاۃ، الفصل الثانی فی کلمات الاذان ) بہار شریعت میں ہے : ” کلمات اذان میں لحن حرام ہے، مثلا اللہ یا اکبر کے ہمزے کو مد کے ساتھ آللہ یا آکبر پڑھنا، یوہیں اکبر میں بے کے بعد الف پڑھانا حرام ہے ۔” اھ (بہار شریعت : ج: 1، ح: 3، ص: 468، اذان کا بیان) واللہ تعالٰی اعلم عبدالقادر المصباحی الجامعی کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ مقام: مہیپت گنج، ضلع گونڈہ، یوپی، انڈیا۔ ٧ جمادی الاوّل ١٤٤٣ھ
Kutubahu & Verified by:
<h3>لحن کے ساتھ اذان کہی گئی تو ہوگئی یا اعادہ کرنا ہوگا؟</h3> کیا فرماتے علماے کرام ومفتیان ذوی الاحترام کہ لحن کے ساتھ اذان کہی گئی تو ہوگئی یا اعادہ کرنا ہوگا؟ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم <span style="color: #ff0000;"><strong>الجواب بعون الملک الوھابــــــــــــ</strong></span> اذان میں لحن حرام ہے یعنی گانے کے طرز پر اذان دینا یا اذان کے کلمات میں لحن کرنا مثلا اللہ اکبر کے ہمزہ کو مد کے ساتھ آللہ یا آکبر یا اکبار پڑھنا وغیرہ ایسی دی ہوئی اذان نہیں ہوگی اس کا اعادہ کرنا واجب ہے۔ درمختار میں ہے : <span style="color: #ff0000;"><em>" ولاترجیع فانہ مکروہ ملتقی ولا لحن فیہ ای تغنی" اھ </em></span> (الدرالمختار مع ردالمحتار : ج: 2، ص: 65، کتاب : الصلاۃ، باب: الاذان) مغنی میں ہے : <em><span style="color: #ff0000;">" ویکرہ اللحن فی الاذان " اھ </span></em> (المغنی : ج: 2، ص: 90، باب الاذان) فتاوی الہندیہ میں ہے : <em><span style="color: #ff0000;">" ویکرہ التلحین وھو التغنی بحیث یودّی الی تغیر کلمات کذا فی شرح المجمع لابن الملک" اھ </span></em> (الفتاوی الھندیۃ : ج: 1،ص: 56، کتاب : الصلاۃ، الفصل الثانی فی کلمات الاذان ) بہار شریعت میں ہے : " کلمات اذان میں لحن حرام ہے، مثلا اللہ یا اکبر کے ہمزے کو مد کے ساتھ آللہ یا آکبر پڑھنا، یوہیں اکبر میں بے کے بعد الف پڑھانا حرام ہے ۔" اھ (بہار شریعت : ج: 1، ح: 3، ص: 468، اذان کا بیان) واللہ تعالٰی اعلم <strong><span style="color: #339966;"> عبدالقادر المصباحی الجامعی</span></strong> <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong>مقام: مہیپت گنج، ضلع گونڈہ، یوپی، انڈیا۔ </strong></span> <span style="color: #339966;"><strong> ٧ جمادی الاوّل ١٤٤٣ھ</strong></span>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...