Ref #75Verified Hanafi Fiqh18 September 20259.6K Views
عورتوں کا مزارات یا قبروں پر جانا کیسا ہے ؟
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
عورتوں کا مزارات یا قبروں پر جانا کیسا ہے ؟
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
از: مفتی محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
عورتوں کا مزارات یا قبروں پر جانا کیسا ہے ؟
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ مفتی علیمیہ مفتی نظام الدین قادری صاحب قبلہ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ
عورتيں اپنے والدین اعزہ اقربا کی قبرون کی زيارت كے لئے جاسکتی ھیں؟اور اگر منع کرنے پہ بھی جائیں تو انکے لئے کیا حكم شرع هے مدلل بیان فرمائیں
*سائل*
محمد نذر علی امستردام
*الجواب*: امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے ایک خاص رسالہ اس مسئلہ کے بیان کے لیے تحریر فرمایا جس کا تاریخی نام “جمل النور فی نہی النساء عن زیارة القبور” رکھااور اس میں یہ تحقیق فرمائی کہ عورتوں کو قبروں کی زیارت کے لیے جانا جائز نہیں ہے اور اگر زیارتِ قبور کے لیے ان کے شوہر جانے کی اجازت دیں گے تو وہ بھی گنہگار ہوں گے۔اسی رسالہ کے چند اقتباسات پیش ہیں:
* ” عینی جلد سوم میں ہے : “وقال ابن مسعود رضی ﷲ تعالٰی عنہ :المراۃ عورۃ، واقرب ماتکون الی ﷲ فی قعر بیتھا، فاذا خرجت استشرفہا الشیطان” (فتاوی رضویہ ج۴ ص ١٧٠ملتقطا)
یعنی: حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں عورت سراپا شرم کی چیز ہے۔ سب سے زیادہ ﷲ عزّو جل سے قریب اس وقت ہوتی ہے جب اپنے گھر کی تہ میں ہوتی ہے اور جب باہر نکلتی ہے شیطان اس کو گھورکر دیکھتا ہے۔
(عمدۃ القاری شرح البخاری باب خروج النساء الی المساجد)
* اسی میں ہے:
” غنیہ میں شعبی سے نقل فرمایا:
“سئل القاضی عن جواز خروج النساء الی المقابر قال لایسأل عن الجواز والفساد فی مثل ھذا، وانما یسأل عن مقدار مایلحقھا من اللعن فیھا، واعلم انھا کلما قصدت الخروج کانت فی لعنۃ اﷲ و ملائکتہ، واذا خرجت تحفھا الشیاطین من کل جانب، واذا اتت القبور یلعنہا روح المیت، واذا رجعت کانت فی لعنۃ اللہ” (فتاوی رضویہ ج۴ ص١٧٣ملتقطا)
*ترجمہ* :یعنی امام قاضی سے استفتاء ہوا کہ عورتوں کامقابر کو جانا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا: ایسی جگہ جواز وعدمِ جواز مت پوچھو، بلکہ یہ پوچھو کہ اس میں عورت پر کتنی لعنت پڑتی ہے۔ جب گھر سے قبور کی طرف چلنے کا ارادہ کرتی ہے ﷲ اور فرشتوں کی لعنت میں ہوتی ہے، جب گھر سے باہر نکلتی ہے سب طرفوں سے شیطان اسے گھیر لیتے ہیں، جب قبر تک پہنچتی ہے میّت کی روح اس پر لعنت کرتی ہے، جب واپس آتی ہے ﷲ کی لعنت میں ہوتی ہے_
* ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں:
“ہمارے علماء نے خروج زن کے چند مواضع گنائے جن کا بیان ہمارے رسالہ “مروج النجالخروج النساء” (۱۳۱۵ھ)
میں ہے۔ اور صاف فرمادیا کہ ان کے سوا میں اجازت نہیں ۔ اور اگر شوہر اذن دے گا تو دونوں گنہگار ہوں گے،
درمختار میں ہے :”لاتخرج الالحق لھا، اوعلیھا، اولزیارہ ابویھا کل جمعۃ مرۃ، اوالمحارم کل سنۃ، اولکونھا قابلۃ اوغاسلۃ لافیما عدا ذلک وان اذن کانا عاصین” (فتاوی رضویہ ج۴ ص ١٧۴، ١٧۵)
*ترجمہ* :عورت نہ نکلے مگر اپنے حق کے لیے، یا اپنے اوپر کسی حق کے سبب ، یا ہر ہفتہ میں ایک بار والدین کی ملاقات کے لیے۔ یاسال میں ایک بار دیگر محارم کی ملاقات کے لیے۔ یا اس وجہ سے کہ وہ دایہ یا میّت کو نہلانے والی ہے۔ ان کے علاوہ صورتوں میں نہ نکلے۔ اور اگرشوہر نے اجازت دی تو دونوں گنہگار ہوں گے_
*اور تحریر فرماتے ہیں:
“نو ازل امام فقیہ ابواللیث وفتاوٰی خلاصہ وفتح القدیر وغیر ہا میں ہے :یجوز للزوج ان یأذن لھا بالخروج الٰی سبعۃ مواضع اذا استأذنتہ ، زیارۃ الابوین، وعیادتھا،وتعزیتھما، اواحدھما، وزیارۃ المحارم ، فان کانت قابلۃ او غاسلۃ اوکان لہاعلی اٰخرحق اوکان لاخر علیھا حق تخرج بالاذن وبغیر الاذن ، والحج علی ھذا ، وفیما عدا ذلک من زیارۃ الاجانب وعیادتھم والولیمۃ لایأذن لھا، ولواذن وخرجت کانا عاصیین”(فتاوی رضویہ ج۴ص١٧۵)
*ترجمہ* :شوہر عورت کو سات مقامات میں نکلنے کی اجازت دے سکتا ہے: (۱) ماں باپ دونوں یا کسی ایک کی ملاقات (۲) ان کی عیادت (۳) ان کی تعزیت (۴) محارم کی ملاقات (۵) اور اگر دایہ ہو (۶) یامُردہ کو نہلانے والی ہو (۷) یا اس کا کسی دوسرے پر حق ہو یا دوسرے کا ا س کے اوپر حق ہو تو اجازت سے اور بلااجازت دونوں طرح جاسکتی ہے۔ حج بھی اسی حکم میں ہے۔ ان کے علاوہ صورتیں جیسے اجنبیوں کی ملاقات ، عیادت اور ولیمہ ان کے لیے شوہر اجازت نہ دے اور اگر اجازت دی اور عورت گئی تو دونوں گنہگار ہوں گے ۔
* اعلی حضرت علیہ الرحمہ درمختار،نوازل، خلاصة الفتاوی اور فتح القدیر سے فقہی نصوص پیش کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
“ملاحظہ ہو! ان میں کہیں زیارت قبور کا بھی استثناء کیا؟کیا یہ استثناء کسی معتمد کتاب میں مل سکتا ہے؟”(فتاوی رضویہ ج۴ قدیم ص ١٧۵)۔
مذکورہ بالا فقہی نصوص وتصریحات سے واضح ہے کہ جو عورت زیارتِ قبور کے لیے جاتی ہے ناجائز کرتی ہے، خاص کر شوہر کے روکنے پر بھی اگر جائے گی توحق اللہ اور حق العبد دونوں میں گرفتار ہوگی۔عورتوں کو چاہیے کہ گھر پر ہی قرآن خوانی اذکار واوراد کا اہتمام کرکے اپنے والدین اور اعزہ واقرباء کو ایصالِ ثواب کریں۔۔واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
*کتبہ*:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔١٢/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢۵/اپریل ٢٠٢١ء
Kutubahu & Verified by:
از: مفتی محمد نظام الدین قادری دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی
عورتوں کا مزارات یا قبروں پر جانا کیسا ہے ؟
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ مفتی علیمیہ مفتی نظام الدین قادری صاحب قبلہ کی بارگاہ میں عرض ہے کہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ
عورتيں اپنے والدین اعزہ اقربا کی قبرون کی زيارت كے لئے جاسکتی ھیں؟اور اگر منع کرنے پہ بھی جائیں تو انکے لئے کیا حكم شرع هے مدلل بیان فرمائیں
*سائل*
محمد نذر علی امستردام
*الجواب*: امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نے ایک خاص رسالہ اس مسئلہ کے بیان کے لیے تحریر فرمایا جس کا تاریخی نام "جمل النور فی نہی النساء عن زیارة القبور" رکھااور اس میں یہ تحقیق فرمائی کہ عورتوں کو قبروں کی زیارت کے لیے جانا جائز نہیں ہے اور اگر زیارتِ قبور کے لیے ان کے شوہر جانے کی اجازت دیں گے تو وہ بھی گنہگار ہوں گے۔اسی رسالہ کے چند اقتباسات پیش ہیں:
* " عینی جلد سوم میں ہے : "وقال ابن مسعود رضی ﷲ تعالٰی عنہ :المراۃ عورۃ، واقرب ماتکون الی ﷲ فی قعر بیتھا، فاذا خرجت استشرفہا الشیطان" (فتاوی رضویہ ج۴ ص ١٧٠ملتقطا)
یعنی: حضرت عبدﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں عورت سراپا شرم کی چیز ہے۔ سب سے زیادہ ﷲ عزّو جل سے قریب اس وقت ہوتی ہے جب اپنے گھر کی تہ میں ہوتی ہے اور جب باہر نکلتی ہے شیطان اس کو گھورکر دیکھتا ہے۔
(عمدۃ القاری شرح البخاری باب خروج النساء الی المساجد)
* اسی میں ہے:
" غنیہ میں شعبی سے نقل فرمایا:
"سئل القاضی عن جواز خروج النساء الی المقابر قال لایسأل عن الجواز والفساد فی مثل ھذا، وانما یسأل عن مقدار مایلحقھا من اللعن فیھا، واعلم انھا کلما قصدت الخروج کانت فی لعنۃ اﷲ و ملائکتہ، واذا خرجت تحفھا الشیاطین من کل جانب، واذا اتت القبور یلعنہا روح المیت، واذا رجعت کانت فی لعنۃ اللہ" (فتاوی رضویہ ج۴ ص١٧٣ملتقطا)
*ترجمہ* :یعنی امام قاضی سے استفتاء ہوا کہ عورتوں کامقابر کو جانا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا: ایسی جگہ جواز وعدمِ جواز مت پوچھو، بلکہ یہ پوچھو کہ اس میں عورت پر کتنی لعنت پڑتی ہے۔ جب گھر سے قبور کی طرف چلنے کا ارادہ کرتی ہے ﷲ اور فرشتوں کی لعنت میں ہوتی ہے، جب گھر سے باہر نکلتی ہے سب طرفوں سے شیطان اسے گھیر لیتے ہیں، جب قبر تک پہنچتی ہے میّت کی روح اس پر لعنت کرتی ہے، جب واپس آتی ہے ﷲ کی لعنت میں ہوتی ہے_
* ایک مقام پر تحریر فرماتے ہیں:
"ہمارے علماء نے خروج زن کے چند مواضع گنائے جن کا بیان ہمارے رسالہ "مروج النجالخروج النساء" (۱۳۱۵ھ)
میں ہے۔ اور صاف فرمادیا کہ ان کے سوا میں اجازت نہیں ۔ اور اگر شوہر اذن دے گا تو دونوں گنہگار ہوں گے،
درمختار میں ہے :"لاتخرج الالحق لھا، اوعلیھا، اولزیارہ ابویھا کل جمعۃ مرۃ، اوالمحارم کل سنۃ، اولکونھا قابلۃ اوغاسلۃ لافیما عدا ذلک وان اذن کانا عاصین" (فتاوی رضویہ ج۴ ص ١٧۴، ١٧۵)
*ترجمہ* :عورت نہ نکلے مگر اپنے حق کے لیے، یا اپنے اوپر کسی حق کے سبب ، یا ہر ہفتہ میں ایک بار والدین کی ملاقات کے لیے۔ یاسال میں ایک بار دیگر محارم کی ملاقات کے لیے۔ یا اس وجہ سے کہ وہ دایہ یا میّت کو نہلانے والی ہے۔ ان کے علاوہ صورتوں میں نہ نکلے۔ اور اگرشوہر نے اجازت دی تو دونوں گنہگار ہوں گے_
*اور تحریر فرماتے ہیں:
"نو ازل امام فقیہ ابواللیث وفتاوٰی خلاصہ وفتح القدیر وغیر ہا میں ہے :یجوز للزوج ان یأذن لھا بالخروج الٰی سبعۃ مواضع اذا استأذنتہ ، زیارۃ الابوین، وعیادتھا،وتعزیتھما، اواحدھما، وزیارۃ المحارم ، فان کانت قابلۃ او غاسلۃ اوکان لہاعلی اٰخرحق اوکان لاخر علیھا حق تخرج بالاذن وبغیر الاذن ، والحج علی ھذا ، وفیما عدا ذلک من زیارۃ الاجانب وعیادتھم والولیمۃ لایأذن لھا، ولواذن وخرجت کانا عاصیین"(فتاوی رضویہ ج۴ص١٧۵)
*ترجمہ* :شوہر عورت کو سات مقامات میں نکلنے کی اجازت دے سکتا ہے: (۱) ماں باپ دونوں یا کسی ایک کی ملاقات (۲) ان کی عیادت (۳) ان کی تعزیت (۴) محارم کی ملاقات (۵) اور اگر دایہ ہو (۶) یامُردہ کو نہلانے والی ہو (۷) یا اس کا کسی دوسرے پر حق ہو یا دوسرے کا ا س کے اوپر حق ہو تو اجازت سے اور بلااجازت دونوں طرح جاسکتی ہے۔ حج بھی اسی حکم میں ہے۔ ان کے علاوہ صورتیں جیسے اجنبیوں کی ملاقات ، عیادت اور ولیمہ ان کے لیے شوہر اجازت نہ دے اور اگر اجازت دی اور عورت گئی تو دونوں گنہگار ہوں گے ۔
* اعلی حضرت علیہ الرحمہ درمختار،نوازل، خلاصة الفتاوی اور فتح القدیر سے فقہی نصوص پیش کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
"ملاحظہ ہو! ان میں کہیں زیارت قبور کا بھی استثناء کیا؟کیا یہ استثناء کسی معتمد کتاب میں مل سکتا ہے؟"(فتاوی رضویہ ج۴ قدیم ص ١٧۵)۔
مذکورہ بالا فقہی نصوص وتصریحات سے واضح ہے کہ جو عورت زیارتِ قبور کے لیے جاتی ہے ناجائز کرتی ہے، خاص کر شوہر کے روکنے پر بھی اگر جائے گی توحق اللہ اور حق العبد دونوں میں گرفتار ہوگی۔عورتوں کو چاہیے کہ گھر پر ہی قرآن خوانی اذکار واوراد کا اہتمام کرکے اپنے والدین اور اعزہ واقرباء کو ایصالِ ثواب کریں۔۔واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
*کتبہ*:محمد نظام الدین قادری: خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی۔بستی۔ یوپی۔١٢/رمضان المبارک ١۴۴٢//٢۵/اپریل ٢٠٢١ء