Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #919 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 12.2K Views

شوہر بیوی سے کتنے دن تک الگ رہ سکتا ہے ؟ / کیا چار مہینہ سے زیادہ الگ رہنا گناہ ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

شوہر بیوی سے کتنے دن تک الگ رہ سکتا ہے ؟ / کیا چار مہینہ سے زیادہ الگ رہنا گناہ ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

شوہر بیوی سے کتنے دن تک الگ رہ سکتا ہے ؟

سوال : ایک شادی شدہ شوہر اپنی بیوی کو گھر چھوڑ کر زیادہ سے زیادہ ممبئی میں دنیاوی زندگی گزارنے کی غرض سے ، روپیہ پیسہ کمانے کے لئے رک جاتا ہے، تو شوہر کو شرعی احکام کے مطابق زیادہ سے زیادہ کتنے دن دور رہنے کی چھوٹ ہے ۔ اگر شوہر ایک یا دو سال کے بعد گھر آتا ہے تو اس دوران اگر بیوی گناہ کی مرتکب ہوتی ہے تو کیا شوہر کو گناہ نہیں پڑے گا؟ اور اگر گناہ پڑتا ہےتو وہ گناہ کبیرہ ہوتا ہے، یا گناہ صغیرہ اور اس کی شرعی سزا کیا ہوگی؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ حاشیہ فتاویٰ رضویہ میں ہے: عورت کو چھوڑ کر سفر پر جانا اگر کسی ضرورت سے ہو تو اس سفر کی کوئی حد مقرر نہیں جس قدر میں ضرورت پوری ہو، ہاں ضرورت پوری ہونے کے بعد تعجیل مامور ہے ۔ اور اگر بےضرورت ہو تو چار ماہ سے زائد ہرگز سفر پر نہ ٹھرے ۔ حضرت امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی کا حکم فرمایا ۔ ص: 568، ج :5 روپیہ پیسہ کمانا کوئی ایسی ضرورت نہیں جو سال دو سال میں پوری ہو ۔ عام مزدوروں کو ایک دو روز میں اور ملازمین کو ماہ بماہ تنخواہ ملتی رہتی ہے ۔ ممبئی والے ہر چار ماہ پر ایک دو روز کے لیے گھر آسانی کے ساتھ آ سکتے ہیں تو یہ لوگ سال دو سال تک اپنی بیوی سے علیحدہ رہنے کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے، بیوی گناہ میں ملوث ہوئی تو یہ بھی اس کے گناہ میں شریک قرار پائیں گے ۔ مردوں کو حکم ہے: اسكنوهن من حيث سكنتم: بیویوں کووہیں رکھو جہاں تم رہتے ہو، نیز ارشاد باری تعالی ہے : يآ ايها الذين امنوا قوآ أنفسكم واهليكم نارا ۔ والله تعالى اعلم بالصواب کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور 

Kutubahu & Verified by:

<h2>شوہر بیوی سے کتنے دن تک الگ رہ سکتا ہے ؟</h2> سوال : ایک شادی شدہ شوہر اپنی بیوی کو گھر چھوڑ کر زیادہ سے زیادہ ممبئی میں دنیاوی زندگی گزارنے کی غرض سے ، روپیہ پیسہ کمانے کے لئے رک جاتا ہے، تو شوہر کو شرعی احکام کے مطابق زیادہ سے زیادہ کتنے دن دور رہنے کی چھوٹ ہے ۔ اگر شوہر ایک یا دو سال کے بعد گھر آتا ہے تو اس دوران اگر بیوی گناہ کی مرتکب ہوتی ہے تو کیا شوہر کو گناہ نہیں پڑے گا؟ اور اگر گناہ پڑتا ہےتو وہ گناہ کبیرہ ہوتا ہے، یا گناہ صغیرہ اور اس کی شرعی سزا کیا ہوگی؟ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> حاشیہ فتاویٰ رضویہ میں ہے: عورت کو چھوڑ کر سفر پر جانا اگر کسی ضرورت سے ہو تو اس سفر کی کوئی حد مقرر نہیں جس قدر میں ضرورت پوری ہو، ہاں ضرورت پوری ہونے کے بعد تعجیل مامور ہے ۔ اور اگر بےضرورت ہو تو چار ماہ سے زائد ہرگز سفر پر نہ ٹھرے ۔ حضرت امیرالمومنین عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی کا حکم فرمایا ۔ ص: 568، ج :5 روپیہ پیسہ کمانا کوئی ایسی ضرورت نہیں جو سال دو سال میں پوری ہو ۔ عام مزدوروں کو ایک دو روز میں اور ملازمین کو ماہ بماہ تنخواہ ملتی رہتی ہے ۔ ممبئی والے ہر چار ماہ پر ایک دو روز کے لیے گھر آسانی کے ساتھ آ سکتے ہیں تو یہ لوگ سال دو سال تک اپنی بیوی سے علیحدہ رہنے کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے، بیوی گناہ میں ملوث ہوئی تو یہ بھی اس کے گناہ میں شریک قرار پائیں گے ۔ مردوں کو حکم ہے: <span style="color: #ff0000;"><strong>اسكنوهن من حيث سكنتم:</strong></span> بیویوں کووہیں رکھو جہاں تم رہتے ہو، نیز ارشاد باری تعالی ہے : <span style="color: #ff0000;"><strong>يآ ايها الذين امنوا قوآ أنفسكم واهليكم نارا ۔</strong></span> والله تعالى اعلم بالصواب <span style="color: #339966;"><strong>کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور </strong></span>

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...