Islamic Guidance Today: Thursday, 30 July 2026 | 🕌 14 Safar 1448 AH (India/Kashmir Hijri)
Masail World App

Islamic Guidance

Authentic Hanafi Fiqh rulings reviewed by senior jurists of Jamia Ashrafia and Darul Uloom Aleemia.

Search fatwa, topic, or question...

Back to All Fatwas
Ref #938 Verified Hanafi Fiqh 18 September 2025 4.5K Views

اگر آپ لوگ اپنی عبادت سے اللہ تعالی کا پیٹ بھرئیے گا تو اللہ تعالی آپ کا پیٹ بھرے گا کہنا کیسا ہے ؟

Font Size:

Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):

اگر آپ لوگ اپنی عبادت سے اللہ تعالی کا پیٹ بھرئیے گا تو اللہ تعالی آپ کا پیٹ بھرے گا کہنا کیسا ہے ؟

Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):

اگر آپ لوگ اپنی عبادت سے اللہ تعالی کا پیٹ بھرئیے گا تو اللہ تعالی آپ کا پیٹ بھرے گا کہنا کیسا ہے ؟

سوال : زید مدرسہ کے مدرس اور مسجد کا امام ہے. میلاد پاک صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے کے لئے مدعو کئے گئے ۔ دوران تقریر میں انہوں نے جملہ( اگر آپ لوگ اپنی عبادت سے اللہ تعالی کا پیٹ بھرئیے گا تو اللہ تعالی آپ کا پیٹ بھرے گا) استعمال کیا ۔ بکر اس میلاد پاک میں موجود تھا ۔ انہوں نے اس جملہ پر متنبہ کیا اور کہا کہ آپ نے بہت گندہ جملہ استعمال کیا ہے جس سے توبہ لازم ہے لہذا آپ توبہ کر لیں ۔ اتنا کہنا تھا تھا کہ وہ آپے سے باہر ہوگیا اور تاویل کرنا شروع کر دیا کہ ہم پیٹ سے مراد عبادت لیتے ہیں ۔ بکر نے کہا صریح کے اندر تاویل کی گنجائش نہیں ہوتی آپ توبہ کر لیں مگر وہ توبہ کرنے سے انکار کرتے رہے اور اکڑ ہے کہ میرا یہ جملہ صریح صحیح ہے اور درست ہے ۔ بکر نے کہا آپ کے اس جملہ سے پروردگار عالم کا حدوث ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ حالانکہ پروردگار عالم کی ذات ازلی اور ابدی ہے اور جمیع عوارض جو انسان کے لیے ہوتے ہیں ان سبھوں سے وہ پاک اور منزہ ہے ۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ فریقین میں سے کون حق پر ہے اور جو باطل پہ ہے شریعت کی طرف سے ان پر کیا حکم صادر ہوگا ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ زید کا جملہ مذکور کفر ہے اور اس کی یہ تاویل کے ہم پیٹ بول کر عبادت مراد لیتے ہیں شرعا مطرود و مردود ہے ۔ لہذا زید پر توبہ و تجدید ایمان لازم و ضروری ہے ۔ وھو تعالی و رسولہ الاعلی اعلم بالصواب ۔ ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول، کتاب العقائد صفحہ 6

Kutubahu & Verified by:

<h3>اگر آپ لوگ اپنی عبادت سے اللہ تعالی کا پیٹ بھرئیے گا تو اللہ تعالی آپ کا پیٹ بھرے گا کہنا کیسا ہے ؟</h3> سوال : زید مدرسہ کے مدرس اور مسجد کا امام ہے. میلاد پاک صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے کے لئے مدعو کئے گئے ۔ دوران تقریر میں انہوں نے جملہ( اگر آپ لوگ اپنی عبادت سے اللہ تعالی کا پیٹ بھرئیے گا تو اللہ تعالی آپ کا پیٹ بھرے گا) استعمال کیا ۔ بکر اس میلاد پاک میں موجود تھا ۔ انہوں نے اس جملہ پر متنبہ کیا اور کہا کہ آپ نے بہت گندہ جملہ استعمال کیا ہے جس سے توبہ لازم ہے لہذا آپ توبہ کر لیں ۔ اتنا کہنا تھا تھا کہ وہ آپے سے باہر ہوگیا اور تاویل کرنا شروع کر دیا کہ ہم پیٹ سے مراد عبادت لیتے ہیں ۔ بکر نے کہا صریح کے اندر تاویل کی گنجائش نہیں ہوتی آپ توبہ کر لیں مگر وہ توبہ کرنے سے انکار کرتے رہے اور اکڑ ہے کہ میرا یہ جملہ صریح صحیح ہے اور درست ہے ۔ بکر نے کہا آپ کے اس جملہ سے پروردگار عالم کا حدوث ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ حالانکہ پروردگار عالم کی ذات ازلی اور ابدی ہے اور جمیع عوارض جو انسان کے لیے ہوتے ہیں ان سبھوں سے وہ پاک اور منزہ ہے ۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ فریقین میں سے کون حق پر ہے اور جو باطل پہ ہے شریعت کی طرف سے ان پر کیا حکم صادر ہوگا ۔ <span style="color: #ff0000;"><strong>الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ</strong></span> زید کا جملہ مذکور کفر ہے اور اس کی یہ تاویل کے ہم پیٹ بول کر عبادت مراد لیتے ہیں شرعا مطرود و مردود ہے ۔ لہذا زید پر توبہ و تجدید ایمان لازم و ضروری ہے ۔ وھو تعالی و رسولہ الاعلی اعلم بالصواب ۔ ماخوذ از فتاویٰ فیض الرسول، کتاب العقائد صفحہ 6

Verified Jurist
Ask Follow-up Question

Related Masail & Fatwas:

Ref #2869

عقیدۂ اہل سنت

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...