Back to All Fatwas
Verified Jurist
Ref #79
Verified Hanafi Fiqh
18 September 2025
10.4K Views
اعتکاف کے فضائل و احکام اور مسائل ماخوز از بہار شریعت
Font Size:
Sawal / Inquirer Query (سوال/عرض سائلین):
اعتکاف کے فضائل و احکام اور مسائل ماخوز از بہار شریعت
Al-Jawab (Original Text / اصل جواب):
اعتکاف کے فضائل و مسائل
اِعتکاف کی تعریف: اِعتکاف کی نیت سے، اللہ -عزوجل- کی رِضا کے لیے مسجد میں ٹھہرنے کو اِعتکاف کہتے ہیں۔ اعتکاف کے فضائل و مسائل اَحادیثِ کریمہ میں اِس کی بڑی فضیلتیں آئی ہیں۔ آقا -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- اِرشاد فرماتے ہیں: “جس نے رمضان میں دس دنوں کا اِعتکاف کیا، تو گویا کہ اُس نے دو حج اور دو عمرہ کیا۔” [شُعَب الایمان، حدیث؛ 3966] دوسرے مقام پر فرماتے ہیں کہ: “اِعتکاف کرنے والا، تمام گناہوں سے رُکا رہتا ہے، اور اُس کو اُن نیکیوں کا ثواب، جن کو وہ نہیں کر سکتا اُن تمام نیکیوں کے کرنے والے کی طرح ملتا ہے۔” [سنن ابن ماجہ، حدیث: 1781] خود ہم سب کے آقا -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- بھی آخری عشرہ میں اِعتکاف فرماتے تھے۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہا- اِرشاد فرماتی ہیں کہ: “اللہ کے رسول -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- رمضان کے آخری عشرہ کا اِعتکاف فرمایا کرتے۔” [صحیح مسلم، حدیث: 1172]اِعتکاف کی قسمیں:
اِعتکاف کی تین قسمیں ہیں: [1] واجب: یہ مَنّت کا اِعتکاف ہے۔ جیسے: کسی نے یہ مَنّت مانی کہ میرا فلاں کام ہو جائے گا تو میں ایک دن یا دو دن کا اِعتکاف کروں گا، تو یہ اِعتکاف واجب ہے۔ اِس کا پورا کرنا ضروری ہے۔ اِس کے لیے روزہ شرط ہے۔ بغیر روزہ کے یہ اِعتکاف صحیح نہیں۔ [2] سنتِ مؤکدہ: یہ رمضان کا اِعتکاف ہے ۔ بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت اِعتکاف کی نیت سے مسجد میں جانا، اور تیسویں کو سورج ڈوبنے کے بعد، یا انتیسویں کو چاند ہو جانے کے بعد نکلنا۔ اگر بیسویں رمضان کو نمازِ مغرب کے بعد، اِعتکاف کی نیت کرے گا تو سنتِ مؤکدہ ادا نہیں ہوگی۔ اِس اِعتکاف میں بھی روزہ شرط ہے۔ مگر وہی رمضان کے روزے کافی ہیں۔ الگ سے روزے کی حاجت نہیں۔ یہ اِعتکاف، سنتِ مؤکدہ کفایہ ہے۔ اگر سب چھوڑ دیں گے تو سب کی پکڑ ہوگی، اور اگر ایک بھی کر لےگا تو سب چھوٹ جائیں گے۔ [3] مستحب: اِعتکافِ واجب و سنت کے علاؤہ جو اِعتکاف کیا جائے؛ وہ مستحب ہوتا ہے۔ اِس کے لیے نہ روزہ شرط ہے، اور نہ کوئی خاص وقت مقرر ہے۔ جب بھی مسجد میں جائے، اِعتکاف کی نیت کرلے۔ جب تک مسجد میں رہے گا؛ ثواب ملے گا۔ جب نکلے گا؛ اِعتکاف ختم ہو جائے گا ۔ اِعتکاف کے شرائط: اِعتکاف کے چند شرائط ہیں۔ اگر وہ موجود ہوں؛ تبھی اِعتکاف کرنا درست ہوگا، ورنہ نہیں۔ وہ یہ ہیں: [1] مسلمان ہونا [2] عاقل ہونا [3] پاک ہونا مسئلہ: بلوغت کی شرط نہیں، نابالغ جو عقل رکھتا ہو، اُس کا اِعتکاف کرنا صحیح ہے ۔ یوں ہی غلام کا بھی صحیح ہے۔ ہاں! وہ اپنے آقا سے اِجازت ضرور لے۔اِعتکاف کہاں کرے: اعتکاف کے فضائل و مسائل
اِس سلسلے میں مرد و عورت کے اِعتبار سے کچھ تفصیل ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرد، مسجد میں اِعتکاف کرے، اور عورت اپنے گھر میں۔ قانون شریعت میں ہے: “مرد کے اِعتکاف کے لیے مسجد ضروری ہے۔ اور عورت اپنے گھر کی اُس جگہ میں اِعتکاف کرے جو جگہ اُس نے نماز کے لیے مقرر کی ہو۔” مسئلہ: اگر عورت نے نماز کے لیے کوئی جگہ مقرر نہ کی ہو تو گھر میں اِعتکاف نہیں کر سکتی۔ ہاں! اگر اُس وقت -جب کہ اِعتکاف کا اِرادہ کر رہی ہے- کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص کر لے، تو اُس جگہ اِعتکاف کر سکتی ہے۔ [بہار شریعت، قانون شریعت، اعتکاف کا بیان]اعتکاف کے ضروری مسائل:
مسئلہ: جب بندہ، اِعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں چلا جائے تو بغیر کسی عذر کے مسجد سے نہیں نکل سکتا۔ نکلنا حرام ہے۔ اگر نکلے گا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ اگرچہ بھول کر ہی نکلے۔ اِسی طرح عورت اگر اپنے اِعتکاف کی جگہ سے نکل جائے تو اِعتکاف جاتا رہے گا۔ مسئلہ: اِعتکاف کرنے والا، مسجد سے صرف دو عذر کی وجہ سے نکل سکتا ہے: [1] عذرِ شرعی، [2] عذرِ طبعی۔ عذرِ شرعی یہ ہیں: [1] نمازِ عید، [2] نمازِ جمعہ، [3] اور اگر اِعتکاف والی مسجد میں جماعت نہ ہوتی ہو تو جماعت کے لیے جانا۔ عذرِ طبعی یہ ہیں: [1] پاخانہ، [2] پیشاب، [3] وضو، [4] غسل۔ مسئلہ: آج کل عموماً مسجد کے حدود میں بیت الخلاء، استنجا خانہ، اور غسل خانہ بنے ہوتے ہیں۔ اگر ایسی مسجد میں اِعتکاف کر رہا ہے جہاں یہ سارے انتظامات ہوں تو وہاں مسجد کے حدود سے نکلنے کی بالکل اِجازت نہیں۔ اگر نکلے گا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ مسئلہ: عذرِ طبعی میں غسل سے مراد، غسل فرض ہے۔ صرف ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے حدود مسجد سے باہر جا کر غسل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ اگر جائے گا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ ہاں! مسجد کے حدود میں رہ کر ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے وضو پر وضو، یا غسل پر غسل کر سکتا ہے۔ اِعتکاف نہیں ٹوٹے گا۔ مگر ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ مقصود فوت ہوگا۔ مقصود ہے اللہ تعالیٰ کی خوب عبادت کرنا، اور ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے بار بار وضو کرنے، یا غسل کرنے سے مقصود میں خلل واقع ہوگا۔ اور اگر انتظامات نہ ہوں تو بوقتِ حاجت، مسجد کے حدود سے باہر نکل سکتا ہے۔ اب اگر جائے تو ضرورت پوری کرکے فوراً واپس آ جائے۔ کہیں ٹھہرنے کی بالکل اِجازت نہیں۔ جب جائے تو سَر جھکا کر جائے۔ راستے میں کسی سے بات چیت، اور خیر خیریت معلوم کرنے کے لیے نہ رک جائے۔ اگر بلا ضرورت رک کر بات چیت، یا خیر خیریت معلوم کرنے لگے تو اِعتکاف ٹوٹ جائے گا۔جن صورتوں میں اعتکاف ٹوٹ جائے گا:
[1] ڈوبنے والے، [2] یا جَلنے والے کو بچانے کے لیے مسجد سے باہر نکلے، [3] یا گواہی دینے کے لیے چلا جائے، [4] یا مریض کی عیادت کے لیے، [5] یا نمازِ جنازہ کے لیے چلا جائے، اگرچہ کوئی دوسرا پڑھانے والا نہ ہو۔ [6] یا پاخانہ، پیشاب کے لیے جائے، اور قرضہ دینے والا روک لے۔ [7] یا بیوی سے جِماع کر لے، چاہے جان بوجھ کر کرے، یا بھول کر، اِنزال ہو، یا نہ ہو۔ اِن تمام صورتوں میں اِعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ مسئلہ: حالتِ اِعتکاف میں عورت کا بوسہ لینا، یا چھونا، یا گلے لگانا حرام ہے۔ اگر اِن صورتوں میں اِنزال ہو جائے تو اِعتکاف ٹوٹ جائے گا، ورنہ نہیں۔ [مستفاد از بہار شریعت، جلد اول، حصہ پنجم و قانون شریعت، حصہ اول، اِعتکاف کا بیان] اِعتکاف کرنے والا مسجد میں کیا کرے: اِعتکاف کرنے والا، اِعتکاف کی حالت میں، مسجد میں نہ چُپ رہے، اور نہ ہی بیکار کی باتیں کرے، بلکہ اگر پڑھنا جانتا ہو تو یہ کرے: کثرت کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرے۔ کتبِ اَحادیث کا مطالعہ کرے۔ علمِ دین پڑھے، اور پڑھائے۔ اِسی طرح انبیاے کرام اور اولیاے کرام کی زندگی کے تابندہ نقوش کو پڑھ کر اپنی زندگی میں عظیم اِنقلاب لانے کی کوشش کرے۔ نیز اَوراد و وظائف، وردِ درودِ پاک، اور نوافل کی کثرت کے ساتھ، اگر فرائض ذمہ میں باقی ہوں تو اُنھیں ادا کر ڈالے۔ اور اگر پڑھنا نہیں جانتا ہے تو فرض نمازیں جو چھوٹ گئیں ہوں، اُن کی قضا کرے۔ نوافل کی کثرت کرے۔ خوب زیادہ تسبیحات پڑھے، اور کثرت کے ساتھ درودِ پاک کا ورد کرے۔ اِعتکاف کرنے والا کہاں کھائے پیے: اِعتکاف کرنے والا مسجد ہی میں کھائے، پیے، اور سوئے۔ اگر اِن امور کے لیے مسجد سے باہر جائے گا تو اِعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ ہاں! کھانے پینے میں اِس کا خاص خیال رکھے کہ مسجد آلودہ نہ ہو۔ مسئلہ: اگر اِعتکاف کرنے والا دن میں بھول کر کھا لے یا پی لے تو اِعتکاف فاسد نہ ہوگا۔ مسئلہ: اِعتکاف جس وجہ سے بھی فاسد ہو، چاہے قصداً یا بلا قصد، بہر حال قضا واجب ہے۔اگر اِعتکاف فاسد ہو جائے تو کیا کرے: اعتکاف کے فضائل و مسائل
اِعتکاف کی تین قسمیں ہیں: [1] اِعتکافِ نفل، [2] اِعتکافِ سنتِ مؤکدہ، [3] اور اِعتکافِ مَنّت۔ ان میں قدرے تفصیل ہے ۔ وہ یہ ہے: [1] اِعتکافِ نفل: اگر نفلی اِعتکاف فاسد ہو تو اُس کی قضا نہیں ۔ [2] اِعتکافِ سنتِ مؤکدہ: اگر اِعتکافِ سنتِ مؤکدہ فاسد ہو -جو رمضان کے آخری دس دنوں میں ہوتا ہے- تو جس دن فاسد ہوا، بس اُسی ایک دن کی قضا کرے، پورے دس دنوں کی قضا واجب نہیں۔ [3] اِعتکافِ مَنّت: اگر کسی نے متعین مہینے کی مَنّت مانی۔ مثلاً: یہ کہا کہ میں مُحرم الحرام کا پورا مہینہ اعتکاف کروں گا۔ تو مُحرم کے پورے مہینے کا اِعتکاف لازم ہوگا۔ یعنی مُحرم کا چاند دیکھتے ہی اِعتکاف کے لیے بیٹھ جائے، اور جب صَفر کا چاند نظر آئے تو اِعتکاف سے باہر آئے۔ اِس صورت میں مثلاً 28/ مُحرم کو کسی سبب سے اِعتکاف فاسد ہو گیا تو اب چاند کے مطابق صرف ایک یا دو دن کا اِعتکاف اُس کے ذمہ لازم ہوگا۔ اور اگر غیر متعین مہینے کی مَنّت مانی۔ مثلاً: یہ کہا کہ میں ایک مہینہ کا اِعتکاف کروں گا، اور مُحرم، صَفر وغیرہ متعین نہ کیا تو ایسی صورت میں مسلسل، لگاتار ایک ماہ کا اِعتکاف لازم ہوگا۔ اب اگر ایک مہینہ مکمل ہونے سے پہلے ہی اِعتکاف فاسد ہو گیا تو پورے مہینے کا اِعتکاف نہیں پایا گیا؛ لہذا از سرِ نو پورے مہینے کا اِعتکاف لازم ہوگا۔ اور اگر چند دنوں کے اِعتکاف کی مَنّت مانی۔ مثلاً: یہ کہا کہ میں دس دن کا اِعتکاف کروں گا، اور پانچ دن اِعتکاف کیا، پھر اِعتکاف فاسد ہو گیا تو اب پانچ دن کا اور اِعتکاف کر لے، پورے دس دن از سرِ نو یہاں لازم نہیں؛ کیوں کہ دن متعین تھے۔ [مستفاد از بہار شریعت، جلد اول، حصہ پنجم و قانون شریعت، حصہ اول، اعتکاف کا بیان]تیار کردہ : مولانا عبد القدوس مصباحی
روزے کی حالت میں آکسیجن ماسک لگانا مفسد صوم ہے یا نہیں ؟
مختلف قیمتوں کے زیورات کی زکاة کا حکم از مفتی محمدنظام الدین قادری علیمیہ
Kutubahu & Verified by:
<h2>اعتکاف کے فضائل و مسائل</h2> <strong>اِعتکاف کی تعریف:</strong> اِعتکاف کی نیت سے، اللہ -عزوجل- کی رِضا کے لیے مسجد میں ٹھہرنے کو اِعتکاف کہتے ہیں۔ <strong>اعتکاف کے فضائل و مسائل</strong> اَحادیثِ کریمہ میں اِس کی بڑی فضیلتیں آئی ہیں۔ آقا -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- اِرشاد فرماتے ہیں: "جس نے رمضان میں دس دنوں کا اِعتکاف کیا، تو گویا کہ اُس نے دو حج اور دو عمرہ کیا۔" [شُعَب الایمان، حدیث؛ 3966] دوسرے مقام پر فرماتے ہیں کہ: "اِعتکاف کرنے والا، تمام گناہوں سے رُکا رہتا ہے، اور اُس کو اُن نیکیوں کا ثواب، جن کو وہ نہیں کر سکتا اُن تمام نیکیوں کے کرنے والے کی طرح ملتا ہے۔" [سنن ابن ماجہ، حدیث: 1781] خود ہم سب کے آقا -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- بھی آخری عشرہ میں اِعتکاف فرماتے تھے۔ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ -رضی اللہ تعالیٰ عنہا- اِرشاد فرماتی ہیں کہ: "اللہ کے رسول -صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم- رمضان کے آخری عشرہ کا اِعتکاف فرمایا کرتے۔" [صحیح مسلم، حدیث: 1172] <h3><strong>اِعتکاف کی قسمیں:</strong></h3> اِعتکاف کی تین قسمیں ہیں: [1] واجب: یہ مَنّت کا اِعتکاف ہے۔ جیسے: کسی نے یہ مَنّت مانی کہ میرا فلاں کام ہو جائے گا تو میں ایک دن یا دو دن کا اِعتکاف کروں گا، تو یہ اِعتکاف واجب ہے۔ اِس کا پورا کرنا ضروری ہے۔ اِس کے لیے روزہ شرط ہے۔ بغیر روزہ کے یہ اِعتکاف صحیح نہیں۔ [2] سنتِ مؤکدہ: یہ رمضان کا اِعتکاف ہے ۔ بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت اِعتکاف کی نیت سے مسجد میں جانا، اور تیسویں کو سورج ڈوبنے کے بعد، یا انتیسویں کو چاند ہو جانے کے بعد نکلنا۔ اگر بیسویں رمضان کو نمازِ مغرب کے بعد، اِعتکاف کی نیت کرے گا تو سنتِ مؤکدہ ادا نہیں ہوگی۔ اِس اِعتکاف میں بھی روزہ شرط ہے۔ مگر وہی رمضان کے روزے کافی ہیں۔ الگ سے روزے کی حاجت نہیں۔ یہ اِعتکاف، سنتِ مؤکدہ کفایہ ہے۔ اگر سب چھوڑ دیں گے تو سب کی پکڑ ہوگی، اور اگر ایک بھی کر لےگا تو سب چھوٹ جائیں گے۔ [3] مستحب: اِعتکافِ واجب و سنت کے علاؤہ جو اِعتکاف کیا جائے؛ وہ مستحب ہوتا ہے۔ اِس کے لیے نہ روزہ شرط ہے، اور نہ کوئی خاص وقت مقرر ہے۔ جب بھی مسجد میں جائے، اِعتکاف کی نیت کرلے۔ جب تک مسجد میں رہے گا؛ ثواب ملے گا۔ جب نکلے گا؛ اِعتکاف ختم ہو جائے گا ۔ <strong>اِعتکاف کے شرائط:</strong> اِعتکاف کے چند شرائط ہیں۔ اگر وہ موجود ہوں؛ تبھی اِعتکاف کرنا درست ہوگا، ورنہ نہیں۔ وہ یہ ہیں: [1] مسلمان ہونا [2] عاقل ہونا [3] پاک ہونا مسئلہ: بلوغت کی شرط نہیں، نابالغ جو عقل رکھتا ہو، اُس کا اِعتکاف کرنا صحیح ہے ۔ یوں ہی غلام کا بھی صحیح ہے۔ ہاں! وہ اپنے آقا سے اِجازت ضرور لے۔ <h3>اِعتکاف کہاں کرے: اعتکاف کے فضائل و مسائل</h3> اِس سلسلے میں مرد و عورت کے اِعتبار سے کچھ تفصیل ہے۔ وہ یہ ہے کہ مرد، مسجد میں اِعتکاف کرے، اور عورت اپنے گھر میں۔ قانون شریعت میں ہے: "مرد کے اِعتکاف کے لیے مسجد ضروری ہے۔ اور عورت اپنے گھر کی اُس جگہ میں اِعتکاف کرے جو جگہ اُس نے نماز کے لیے مقرر کی ہو۔" مسئلہ: اگر عورت نے نماز کے لیے کوئی جگہ مقرر نہ کی ہو تو گھر میں اِعتکاف نہیں کر سکتی۔ ہاں! اگر اُس وقت -جب کہ اِعتکاف کا اِرادہ کر رہی ہے- کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص کر لے، تو اُس جگہ اِعتکاف کر سکتی ہے۔ [بہار شریعت، قانون شریعت، اعتکاف کا بیان] <h2><strong>اعتکاف کے ضروری مسائل:</strong></h2> مسئلہ: جب بندہ، اِعتکاف کی نیت کرکے مسجد میں چلا جائے تو بغیر کسی عذر کے مسجد سے نہیں نکل سکتا۔ نکلنا حرام ہے۔ اگر نکلے گا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ اگرچہ بھول کر ہی نکلے۔ اِسی طرح عورت اگر اپنے اِعتکاف کی جگہ سے نکل جائے تو اِعتکاف جاتا رہے گا۔ <strong>مسئلہ:</strong> اِعتکاف کرنے والا، مسجد سے صرف دو عذر کی وجہ سے نکل سکتا ہے: [1] عذرِ شرعی، [2] عذرِ طبعی۔ عذرِ شرعی یہ ہیں: [1] نمازِ عید، [2] نمازِ جمعہ، [3] اور اگر اِعتکاف والی مسجد میں جماعت نہ ہوتی ہو تو جماعت کے لیے جانا۔ عذرِ طبعی یہ ہیں: [1] پاخانہ، [2] پیشاب، [3] وضو، [4] غسل۔ <strong>مسئلہ:</strong> آج کل عموماً مسجد کے حدود میں بیت الخلاء، استنجا خانہ، اور غسل خانہ بنے ہوتے ہیں۔ اگر ایسی مسجد میں اِعتکاف کر رہا ہے جہاں یہ سارے انتظامات ہوں تو وہاں مسجد کے حدود سے نکلنے کی بالکل اِجازت نہیں۔ اگر نکلے گا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ <strong>مسئلہ:</strong> عذرِ طبعی میں غسل سے مراد، غسل فرض ہے۔ صرف ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے حدود مسجد سے باہر جا کر غسل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں۔ اگر جائے گا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ ہاں! مسجد کے حدود میں رہ کر ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے وضو پر وضو، یا غسل پر غسل کر سکتا ہے۔ اِعتکاف نہیں ٹوٹے گا۔ مگر ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ مقصود فوت ہوگا۔ مقصود ہے اللہ تعالیٰ کی خوب عبادت کرنا، اور ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے بار بار وضو کرنے، یا غسل کرنے سے مقصود میں خلل واقع ہوگا۔ اور اگر انتظامات نہ ہوں تو بوقتِ حاجت، مسجد کے حدود سے باہر نکل سکتا ہے۔ اب اگر جائے تو ضرورت پوری کرکے فوراً واپس آ جائے۔ کہیں ٹھہرنے کی بالکل اِجازت نہیں۔ جب جائے تو سَر جھکا کر جائے۔ راستے میں کسی سے بات چیت، اور خیر خیریت معلوم کرنے کے لیے نہ رک جائے۔ اگر بلا ضرورت رک کر بات چیت، یا خیر خیریت معلوم کرنے لگے تو اِعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ <h2>جن صورتوں میں اعتکاف ٹوٹ جائے گا:</h2> [1] ڈوبنے والے، [2] یا جَلنے والے کو بچانے کے لیے مسجد سے باہر نکلے، [3] یا گواہی دینے کے لیے چلا جائے، [4] یا مریض کی عیادت کے لیے، [5] یا نمازِ جنازہ کے لیے چلا جائے، اگرچہ کوئی دوسرا پڑھانے والا نہ ہو۔ [6] یا پاخانہ، پیشاب کے لیے جائے، اور قرضہ دینے والا روک لے۔ [7] یا بیوی سے جِماع کر لے، چاہے جان بوجھ کر کرے، یا بھول کر، اِنزال ہو، یا نہ ہو۔ اِن تمام صورتوں میں اِعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ <strong>مسئلہ:</strong> حالتِ اِعتکاف میں عورت کا بوسہ لینا، یا چھونا، یا گلے لگانا حرام ہے۔ اگر اِن صورتوں میں اِنزال ہو جائے تو اِعتکاف ٹوٹ جائے گا، ورنہ نہیں۔ [مستفاد از بہار شریعت، جلد اول، حصہ پنجم و قانون شریعت، حصہ اول، اِعتکاف کا بیان] اِعتکاف کرنے والا مسجد میں کیا کرے: اِعتکاف کرنے والا، اِعتکاف کی حالت میں، مسجد میں نہ چُپ رہے، اور نہ ہی بیکار کی باتیں کرے، بلکہ اگر پڑھنا جانتا ہو تو یہ کرے: کثرت کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کرے۔ کتبِ اَحادیث کا مطالعہ کرے۔ علمِ دین پڑھے، اور پڑھائے۔ اِسی طرح انبیاے کرام اور اولیاے کرام کی زندگی کے تابندہ نقوش کو پڑھ کر اپنی زندگی میں عظیم اِنقلاب لانے کی کوشش کرے۔ نیز اَوراد و وظائف، وردِ درودِ پاک، اور نوافل کی کثرت کے ساتھ، اگر فرائض ذمہ میں باقی ہوں تو اُنھیں ادا کر ڈالے۔ اور اگر پڑھنا نہیں جانتا ہے تو فرض نمازیں جو چھوٹ گئیں ہوں، اُن کی قضا کرے۔ نوافل کی کثرت کرے۔ خوب زیادہ تسبیحات پڑھے، اور کثرت کے ساتھ درودِ پاک کا ورد کرے۔ اِعتکاف کرنے والا کہاں کھائے پیے: اِعتکاف کرنے والا مسجد ہی میں کھائے، پیے، اور سوئے۔ اگر اِن امور کے لیے مسجد سے باہر جائے گا تو اِعتکاف ٹوٹ جائے گا۔ ہاں! کھانے پینے میں اِس کا خاص خیال رکھے کہ مسجد آلودہ نہ ہو۔ <strong>مسئلہ:</strong> اگر اِعتکاف کرنے والا دن میں بھول کر کھا لے یا پی لے تو اِعتکاف فاسد نہ ہوگا۔ <strong>مسئلہ:</strong> اِعتکاف جس وجہ سے بھی فاسد ہو، چاہے قصداً یا بلا قصد، بہر حال قضا واجب ہے۔ <h3>اگر اِعتکاف فاسد ہو جائے تو کیا کرے: اعتکاف کے فضائل و مسائل</h3> اِعتکاف کی تین قسمیں ہیں: [1] اِعتکافِ نفل، [2] اِعتکافِ سنتِ مؤکدہ، [3] اور اِعتکافِ مَنّت۔ ان میں قدرے تفصیل ہے ۔ وہ یہ ہے: [1] اِعتکافِ نفل: اگر نفلی اِعتکاف فاسد ہو تو اُس کی قضا نہیں ۔ [2] اِعتکافِ سنتِ مؤکدہ: اگر اِعتکافِ سنتِ مؤکدہ فاسد ہو -جو رمضان کے آخری دس دنوں میں ہوتا ہے- تو جس دن فاسد ہوا، بس اُسی ایک دن کی قضا کرے، پورے دس دنوں کی قضا واجب نہیں۔ [3] اِعتکافِ مَنّت: اگر کسی نے متعین مہینے کی مَنّت مانی۔ مثلاً: یہ کہا کہ میں مُحرم الحرام کا پورا مہینہ اعتکاف کروں گا۔ تو مُحرم کے پورے مہینے کا اِعتکاف لازم ہوگا۔ یعنی مُحرم کا چاند دیکھتے ہی اِعتکاف کے لیے بیٹھ جائے، اور جب صَفر کا چاند نظر آئے تو اِعتکاف سے باہر آئے۔ اِس صورت میں مثلاً 28/ مُحرم کو کسی سبب سے اِعتکاف فاسد ہو گیا تو اب چاند کے مطابق صرف ایک یا دو دن کا اِعتکاف اُس کے ذمہ لازم ہوگا۔ اور اگر غیر متعین مہینے کی مَنّت مانی۔ مثلاً: یہ کہا کہ میں ایک مہینہ کا اِعتکاف کروں گا، اور مُحرم، صَفر وغیرہ متعین نہ کیا تو ایسی صورت میں مسلسل، لگاتار ایک ماہ کا اِعتکاف لازم ہوگا۔ اب اگر ایک مہینہ مکمل ہونے سے پہلے ہی اِعتکاف فاسد ہو گیا تو پورے مہینے کا اِعتکاف نہیں پایا گیا؛ لہذا از سرِ نو پورے مہینے کا اِعتکاف لازم ہوگا۔ اور اگر چند دنوں کے اِعتکاف کی مَنّت مانی۔ مثلاً: یہ کہا کہ میں دس دن کا اِعتکاف کروں گا، اور پانچ دن اِعتکاف کیا، پھر اِعتکاف فاسد ہو گیا تو اب پانچ دن کا اور اِعتکاف کر لے، پورے دس دن از سرِ نو یہاں لازم نہیں؛ کیوں کہ دن متعین تھے۔ [مستفاد از بہار شریعت، جلد اول، حصہ پنجم و قانون شریعت، حصہ اول، اعتکاف کا بیان] <p style="text-align: center;"><strong>تیار کردہ : مولانا عبد القدوس مصباحی </strong></p> <!--more--> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=302" rel="bookmark">روزے کی حالت میں آکسیجن ماسک لگانا مفسد صوم ہے یا نہیں ؟</a></h2> <h2 class="entry-title"><a href="https://urdu.masailworld.com/?p=284" rel="bookmark">مختلف قیمتوں کے زیورات کی زکاة کا حکم از مفتی محمدنظام الدین قادری علیمیہ</a></h2>
Related Masail & Fatwas:
Ref #2869
عقیدۂ اہل سنت
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! مفتی صاحب عرض یہ ہے کہ فقہ حنفی کی روشنی میں گستاخ رسول...
Ref #2868
اعتراضات مع جوابات
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ استاد صاحب عرض ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے گمراہ کن عقائد کی مکمل...